آفریدی گھر جائیں اور بچے پالیں: اعجاز بٹ

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اعجاز بٹ اور شاہد خان آفریدی کے مابین تعلقات ہمیشہ "ساس اور بہو" جیسے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اعجازی دور میں شاہد آفریدی کا بین الاقوامی کیریئر ختم تقریباً ختم ہوگیا تھا۔ وہ تب تک قومی کرکٹ ٹیم میں واپس نہ آ سکے جب تک اعجاز بٹ پاکستان کرکٹ بورڈ سے نہیں نکالے گئے۔ اب بھی ہر چند ماہ کے بعد شاہد کے بارے میں بٹ صاحب کا بیان دونوں کے درمیان نوک جھونک کا سبب بنتا ہے۔ اب جبکہ بورڈ کے نئے عہدیداران نے شاہد آفریدی کو ٹی ٹوئنٹی کا کپتان بنا دیا ہے اور عین ممکن ہے کہ اگلے عالمی کپ میں وہ پاکستان کی ون ڈے ٹیم کی بھی قیادت کریں،اعجاز بٹ کہتے ہیں کہ قیادت تو ایک طرف ابھی تو ان کی ٹیم میں یقینی جگہ کا فیصلہ ہونا بھی باقی ہے جو سلیکٹرز نے کرنا ہے۔

اعجاز بٹ اور شاہد آفریدی میں "ساس بہو" والا تعلق دکھائی دیتا ہے (تصویر: Getty Images)

اعجاز بٹ اور شاہد آفریدی میں "ساس بہو" والا تعلق دکھائی دیتا ہے (تصویر: Getty Images)

لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الفاظ اور جملوں پر گرفت میں ہمیشہ کمزور رہنے والے اعجاز بٹ نے صاف صاف کہا کہ کارکردگی کی بنیاد پر شاہد آفریدی کی موجودہ ٹیم میں جگہ ہی نہیں بنتی اور انہیں چاہیے کہ گھر بیٹھیں اور بچے پالیں۔ انہوں نے بورڈ سے بھی کہا کہ وہ غیر ذمہ دارانہ بیان دینے پر شاہد آفریدی کے خلاف انضباطی کارروائی کرے کیونکہ اگر یہ بیان کسی اور کھلاڑی نے دیا ہوتا تو اب تک اسے باہر کا راستہ دکھا دیا جاتا۔

اپنے عہد میں مصباح الحق کو پاکستان کا کپتان مقرر کرنے والے اعجاز بٹ کہتے ہیں کہ آج بھی قومی ٹیم کی قیادت کے لیے بہترین امیدوار مصباح الحق ہی ہیں ۔

اعجاز بٹ کے عہد میں ہی شاہد آفریدی کوواپس بلا کر پاکستان کرکٹ ٹیم کی ٹیسٹ قیادت تک سونپ دی گئی تھی لیکن آسٹریلیا کے خلاف انگلستان میں کھیلے گئے پہلے ہی ٹیسٹ میں شکست کے بعد دلبرداشتہ شاہد آفریدی نے ٹیسٹ کرکٹ کو دوبارہ خیرباد کہہ دیا البتہ انہیں ورلڈ کپ 2011ء کے لیے قیادت ضرور سونپی گئی جو بعد ازاں اسی سال دورۂ ویسٹ انڈیز میں ہیڈ کوچ وقار یونس کے ساتھ اختلافات کے ساتھ ہی ختم ہوگئی۔

Facebook Comments