عمران خان کی کرکٹ پسند ہے، سیاست نہیں: شاہد آفریدی

"مجھے جتنا کرکٹ پسند ہے ماشاءاللہ سے میرے والد اتنا ہی اس کھیل سے نفرت کرتے تھے" شاہد آفریدی کی اس بات پر تمام شرکاء کھلکھلا کر ہنس پڑے، شاید اس لیے کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کے سامنے کھڑے سپر اسٹار کرکٹر کا سفر اسی مشکل کے ساتھ شروع ہوا تھا۔

شاہد آفریدی نے اپنی زندگی کے تجربات اور مشاہدات مداحوں کے ساتھ شیئر کیے (تصویر: TiE Karachi)

شاہد آفریدی نے اپنی زندگی کے تجربات اور مشاہدات مداحوں کے ساتھ شیئر کیے (تصویر: TiE Karachi)

شاہد خان آفریدی نے اپنی فلاحی تنظیم 'شاہد آفریدی فاؤنڈیشن' کے ایک پروگرام میں خود کو درپیش ابتدائی مسائل اور مستقبل کے ارادوں کے بارے میں بتایا۔ اس تقریب کا اہتمام ٹائی کراچی (TiE Karachi) نے کیا تھا۔ خطاب کرتے شاہد آفریدی نے کہا کہ والد کی سخت مخالفت کے باوجود میں اپنے چچا اکرم آفریدی کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے کرکٹ جاری رکھ سکا، پھر میری خوش قسمتی یہ تھی کہ بہت سے فرسٹ کلاس کھلاڑی علاقے میں ہی رہتے تھے جنہوں نے میرے کرکٹ جنون کو دیکھتے ہوئے میرے والد سے درخواست کی کہ وہ میری صلاحیتیں ضائع نہ ہونے دیں اور اس کے دن کے بعد سے آج تک میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

خطاب میں "لالا" بہت موڈ میں بھی دکھائی دیے اور کہا کہ اپنی زندگی کی کہانی سنانے میں زیادہ وقت نہیں لوں گا، بلکہ اتنی دیر سناؤں گا جتنی دیر پچ پر بیٹنگ کرتا ہوں۔

اس موقع پر تقریب کے شرکاء نے شاہد آفریدی پر سوالات کے باؤنسر بھی مارے۔ جن میں سے لیاری سے آنے والی بچوں کی ایک ٹیم نے پوچھا کہ وہ ہر گیند پر چھکا مارنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟ اس پر آفریدی جھینپ گئے اور کہا کہ آپ کہتے ہیں تو نہیں ماروں گا۔ ایک بچے نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ 2015ء میں ریٹائر ہونے کا فیصلہ واپس لیں، جس پر "لالا" نے کہا کہ اس کا انحصار ورلڈ کپ 2015ء میں میری کارکردگی پر ہے، اس کے بعد ہی فیصلہ کروں گا کہ مجھے مزید کھیلنا چاہیے یا نہیں۔ پھر ایک چٹکلا چھوڑا "جب تک عوام برداشت کرتے رہیں گے میں کھیلتا رہوں گا۔"

ایک بار پھر ماضی کی یادیں دہراتے ہوئے شاہد آفریدی نے بتایا کہ بچپن اور نوجوان میں صرف ایک کھلاڑی ان کی توجہ کا مرکز رہا، وہ عمران خان تھا۔ ایک تو عظیم آل راؤنڈر، پھر پٹھان بھی، اس لیے شاہد ان سے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ پھر جب کرکٹ کے میدانوں میں میں بھی پہنچا تو پھر عمران بھائی نے مجھے بہت اچھے مشورے بھی دیے۔ میں نے ہسپتال کی تعمیر اور مستقبل کے فلاحی منصوبوں کے لیے بھی ان سےمشورےکیے۔

"بورڈ جتنے چاہے مجھے نوٹس بھیجے لیکن میں وہی بات کروں گا جو مجھے حق لگتی ہے اور کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا"، اس اعلان کے بعد شاہد آفریدی سے پوچھا گیا کہ بورڈ ڈومیسٹک کرکٹ کے فروغ پر سرمایہ کاری کیوں نہیں کرتا تو انہوں نے کہا کہ بورڈ کے پاس بہت پیسہ ہے، لیکن بورڈ کو چند لوگوں نے ۔۔۔۔۔۔۔ چھوڑو یار، جانے دو، کوئی دوسرا سوال پوچھو۔

پھر ایک اور "باؤنسر" شاہد آفریدی کی طرف آیا کہ پہلے کرکٹ، پھر ہسپتال اور عمران خان کا پرستار ہونے سے لگتا ہے کہ آپ کا اگلا قدم سیاست میں ہوگا۔ اس پر آفریدی نے کہا کہ میں عمران خان کو ان کی کرکٹ کی وجہ سے پسند کرتا ہوں، سیاست میں ان کا فین نہیں ہوں، ویسے بھی سیاست ابھی اس قابل نہیں ہوئی کہ اس میں شاہد آفریدی یا اس جیسا بندہ اترے۔

تقریب کے دوران کوہاٹ میں قائم شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کے صاحبزادہ فضل رحمٰن ہسپتال کی تعارفی وڈیو بھی دکھائی گئی۔ شاہد آفریدی نے ہسپتال کے لیے تمام حاضرین سے بھرپور تعاون اور ساتھ ہی کامیابی کی دعاؤں کی اپیل کی۔

Facebook Comments