دورۂ ویسٹ انڈیز؛ کپتان اور کوچ کے اختلافات منظرعام پر

عالمی کپ کے بعد پاکستان کا پہلا امتحان دورۂ ویسٹ انڈیز تھا جس کے لیے قومی سلیکشن کمیٹی نے نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پیش کر سکیں اور پاکستان کو مستقبل کے لیے اچھے کھلاڑی میسر آ سکیں۔

شاہد آفریدی اور وقار یونس کے درمیان اختلافات قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر اثر انداز ہوئے

اس مقصد کے لیے پہلے ایک روزہ دستے کا اعلان کیا گیا جس میں کامران اکمل، یونس خان، عبد الرزاق اور عمر گل جیسے سینئر کھلاڑی موجود نہیں تھے۔ کامران اکمل اور عبد الرزاق کو ناقص کارکردگی کی بناء پر ٹیم سے خارج کیا گیا جبکہ یونس خان اور عمر گل کا آرام کا موقع دیا گیا۔

ان کی جگہ تنویر احمد، جنید خان، حماد اعظم، عثمان صلاح الدین اور وکٹ کیپر محمد سلمان کو ٹیم میں جگہ دی گئی۔ یہ بظاہر سلیکشن کمیٹی کا اچھا فیصلہ ظاہر ہوتا تھا لیکن ایک روزہ سیریز کے ابتدائی تینوں میچز میں فتوحات حاصل کرنے کے بعد کھلاڑیوں کا انتخاب ہی کپتان شاہد آفریدی اور کوچ وقار یونس کے درمیان اختلافات کا موجب بنا اور پاکستان تین میچز کے بعد آخری دونوں مقابلوں میں شکست سے دوچار ہوا۔ دونوں کے درمیان اختلافات کی خبریں کھیلوں کے باخبر ذرائع کافی دنون سے دے رہے تھے۔

ٹیسٹ ٹیم کے انتخاب کا معاملہ سلیکشن کمیٹی کے سربراہ محسن خان کے استعفے تک جا پہنچا، بعد ازاں بورڈ نے انہیں راضی کر لیا

اسی دوران ٹیسٹ ٹیم کے لیے انتخاب کا مرحلہ آیا جس میں نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف گزشتہ سیریز میں اچھی کارکردگی دکھانے وکٹ کیپر عدنان اکمل کی جگہ ٹیم کے ساتھ ویسٹ انڈیز میں موجود وکٹ کیپر محمد سلمان ہی پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ ٹیم کے اعلان کے ایک روز بعد سلیکشن کمیٹی کے سربراہ محسن حسن خان نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس طلب کی جس میں مبینہ طور پر وہ اپنےعہدے سے استعفیٰ دیتے لیکن کانفرنس سے قبل ہی بورڈ نے انہیں لاہور طلب کر لیا جہاں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ اعجاز بٹ اور ان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں تمام 'معاملات' طے پا گئے اور محسن خان نے استعفے کا ارادہ ترک کر دیا۔

ایک روزہ سیریز کے اختتام پر کپتان شاہد آفریدی وطن واپس آ گئے ہیں اور ٹیسٹ کپتان مصباح الحق اگلے مرحلے کے لیے ٹیم کی قیادت سنبھالیں گے۔ شاہد آفریدی نے وطن واپسی پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گو کہ ٹیم انتظامیہ کے درمیان اختلافات اس سطح کے نہیں ہیں کہ انہیں حل نہ کیا جاسکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر کسی کو اپنا کام کرنا چاہیے اور کسی اور کے کام میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

شاہد آفریدی کے اس جملے سے اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ چند دنوں جو افواہیں زیر گردش تھیں ان میں صداقت تھی اور ویسٹ انڈیز میں ٹیم انتظامیہ میں شدید اختلافات رونما ہوئے ہیں جو بالآخر آخری دونوں میچز میں ٹیم کی شکست پر منتج ہوئے۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چوتھے ایک روزہ بین الاقوامی میچ سے قبل ٹور سلیکشن کمیٹی، جو کوچ وقار یونس، مینیجر انتخاب عالم اور کپتان شاہد آفریدی پر مشتمل تھی، کے اجلاس میں کپتان کوچ وقار یونس کی مبینہ مداخلت پر ناخوش تھے اور ایک موقع ایسا آیا کہ وہ کمیٹی کے اجلاس سے اٹھ کر چل دیے جس پر انتخاب عالم انہیں واپس لے کر آئے۔ البتہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ سرے سے پیش ہی نہیں آیا۔

سلیکشن کے تنازع پر ایک جانب کوچ اور کپتان کے اختلافات اور دوسری جانب سلیکشن کمیٹی کے سربراہ کی جانب سے استعفے کی دھمکیاں آنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں ٹیم سلیکشن پر کوئی بڑا تنازع کھڑا ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments