جنوبی افریقہ جیت گیا، رونکی کی شاندار اننگز گہنا گئی

کپتان ابراہم ڈی ولیئرز اور ژاں-پال دومنی کی 139 رنز کی ناقابل شکست رفاقت نے نیوزی لینڈ کے وکٹ کیپر لیوک رونکی کی شاندار اننگز کو گہنا دیا اور عالمی کپ کی تیاریوں کے لیے نیوزی لینڈ پہنچنے کے بعد جنوبی افریقہ نے پہلا ایک روزہ مقابلہ باآسانی 6 وکٹوں سے جیت لیا۔

ڈی ولیئرز اور دومنی کی 139 رنز کی کی ناقابل شکست شراکت داری کی بدولت جنوبی افریقہ نے ہدف 49 ویں اوور میں حاصل کرلیا (تصویر: Getty Images)

ڈی ولیئرز اور دومنی کی 139 رنز کی کی ناقابل شکست شراکت داری کی بدولت جنوبی افریقہ نے ہدف 49 ویں اوور میں حاصل کرلیا (تصویر: Getty Images)

سیریز کا پہلا ایک روزہ ہملٹن کے قریب ماؤنٹ مونگانوئی کے ساحلی شہر میں کھیلا گیا، جہاں یہ نیوزی لینڈ کا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ تھا۔ جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا اور اپنے برق رفتار اٹیک کی بدولت نیوزی لینڈ کو صرف 68 رنز پر پانچ بلے بازوں سے محروم کردیا۔ اوپنرز مارٹن گپٹل اور جمی نیشام ویرنن فلینڈر کی گیندوں پر وکٹوں کے پیچھے جکڑے گئے جبکہ ڈین براؤنلی عمران طاہر کا شکار بنے۔ مورنے مورکل نے برینڈن میک کولم کی صورت میں سب سے قیمتی وکٹ حاصل کی اور پھر کوری اینڈرسن کو پہلی ہی گیند پر کلین بولڈ کرکے نیوزی لینڈ کوبدترین صورتحال سے دوچار کردیا۔

اس مرحلے پر وکٹ کیپر لیوک رونکی نے ایک اینڈ کو سنبھالا۔ حالانکہ انہیں آخری وکٹ پر ٹرینٹ بولٹ کے علاوہ کسی بلے باز کا اچھا ساتھ میسر نہ آیا لیکن انہوں نے 83 گیندوں پر 99 رنز کی ایک شاندار اننگز کھیلی۔ جب صرف 156 رنز پر نیوزی لینڈ 9 وکٹوں سے محروم ہوچکا تھا تو رونکی اور بولٹ نے آخری وکٹ پر 74 رنز کی ریکارڈ شراکت داری قائم کی۔ اس میں بولٹ کا حصہ 21 رنز کا تھا جبکہ دوسرے اینڈ پر کھڑے رونکی بہت بدقسمت ثابت ہوئے۔ 46 ویں اوور کی پہلی ہی گیند پر وہ وکٹوں کے پیچھے کیچ دے گئے اور یوں اپنے کیریئر کی پہلی ون ڈے سنچری سے صرف ایک رن سے محروم رہ گئے۔ یہ ڈی کوک کا میچ میں چھٹا شکار تھا۔ یوں وہ بھی ایک میچ میں سب سے زیادہ شکار کرنے والے وکٹ کیپرز کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے اسٹین نےرونکی کی سب سے قیمتی وکٹ حاصل کی، انہوں نے اپنے 7 اوورز میں صرف 28 رنز دیے۔ البتہ دیگر گیندبازوں فلینڈر، مورکل، عمران اور راین میک لارن کو دو، دو وکٹیں ضرور ملیں۔ ایک کھلاڑی کو دومنی نے آؤٹ کیا۔

231 رنز کے آسان ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کا آغاز بھی اچھا نہیں تھا۔ انہیں صرف 30 رنز پر کوئنٹن ڈی کوک اور فف دو پلیسی کی وکٹیں کھونا پڑیں جو ٹرینٹ بولٹ کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ ہاشم آملہ اور ریلی روسو نے 43 رنز کا اضافہ کیا اور اننگز کو سنبھالا دیا لیکن اس کے باوجود تہرے ہندسے میں پہنچنے سے پہلے ہی پروٹیز ان دونوں کھلاڑیوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ آملہ 38 اور روسو 26 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اننگز کے نصف مرحلے پر صرف 97 رنز پر 4 وکٹوں سے محروم ہوجانے کے بعد مستند بلے بازوں کی آخری جوڑی ڈی ولیئرز اور دومنی کی صورت میں موجود تھی جنہوں نے جنوبی افریقی شائقین کو بالکل مایوس نہیں کیا۔ 141 گیندوں پر 139 رنز کی شراکت داری وقت کی ضرورت تھی۔ ڈی ولیئرز اپنے ایک روزہ کیریئر کی 19 ویں سنچری ضرور بناتے اگر نیوزی لینڈ کا دیا گیا ہدف کچھ زیادہ ہوتا۔ بہرحال، 85 گیندوں پر 89 رنز کی اننگز فاتحانہ تھی۔ دوسرے اینڈ پر کھڑے دومنی 72 گیندوں پر 58 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ ان کی اننگز میں جنوبی افریقی باری میں لگائے گئے دونوں چھکے بھی شامل تھے۔

بعد ازاں ڈی ولیئرز کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

تین ون ڈے مقابلوں کی سیریز کا دوسرا میچ 24 اکتوبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments