یونس خان کی ریکارڈ ساز، ریکارڈ شکن اننگز

جب پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں آخری بار آسٹریلیا کا سامنا کیا تھا تو اسے شارجہ میں تاریخ کی بدترین بلکہ شرمناک ترین شکست ہوئی تھی۔ وہ وقار یونس جو اب ہیڈ کوچ ہیں، ٹیم کے کپتان تھے اور موجودہ کپتان مصباح الحق اور یونس خان ٹیم کے رکن، جب پاکستان پہلی اننگز میں صرف 59 اور دوسری میں 53 رنز پر ڈھیر ہوگیا تھا اور کوئی کھلاڑی سر اٹھانے کے قابل نہ تھا۔

یونس خان گزشتہ 40 سالوں میں آسٹریلیا کے خلاف کسی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنانے والے دنیا کے واحد بلے باز بن گئے ہیں (تصویر: Getty Images)

یونس خان گزشتہ 40 سالوں میں آسٹریلیا کے خلاف کسی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنانے والے دنیا کے واحد بلے باز بن گئے ہیں (تصویر: Getty Images)

اب 12 سال بعد جب ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان ایک مرتبہ پھر امارات کے صحراؤں میں آسٹریلیا کے مدمقابل آیا تو اس پر چند دن پہلے ون ڈے سیریز میں کلین سویپ شکست کا بوجھ تھا۔ ایک روزہ مرحلے کے لیے منتخب نہ کیے گئے یونس خان میدان میں اترے اور پہلی اور دوسری اننگز میں دو تاریخی سنچریاں بنا کر نہ صرف خود کو تاریخ کے کامیاب ترین پاکستانی بلے بازوں میں شامل کرلیا ہے بلکہ دبئی ٹیسٹ میں گرین شرٹس کو مضبوط ترین پوزیشن تک بھی پہنچا دیا ہے۔

یونس خان دبئی ٹیسٹ کے چوتھے روز 103 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے بیٹسمین بن گئے ہیں۔ انہوں نے انضمام الحق کا 25 سنچریوں کا ریکارڈ ابھی پچھلی اننگز ہی میں برابر کیا تھا اور آج چوتھے دن کی ایک مشکل وکٹ پر بھی تہرے ہندسے کی اننگز جڑ ڈالی۔

یونس نے فروری 2000ء میں اپنے کیریئر کے پہلے ہی ٹیسٹ میں سری لنکا کے خلاف سنچری بنائی تھی اور اس کے بعد سے اب تک 26 مرتبہ یہ ہندسہ عبور کر چکے ہیں۔ انہوں نے سب سے زیادہ سنچریاں سری لنکا کے خلاف بنائیں جن کی تعداد 7 ہے۔ اس میں کراچی میں کھیلی گئی 313 رنز کی تاریخی ٹرپل سنچری بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں روایتی حریف بھارت کے خلاف انہوں نے 5 سنچریاں بنا رکھی ہیں، جنوبی افریقہ کے خلاف 4، آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز، انگلستان اور بنگلہ دیش کے خلاف دو، دو اور نیوزی لینڈ اور زمبابوے کے خلاف ایک، ایک مرتبہ تہرے ہندسے کی اننگز کھیلی ہے۔

26 ویں سنچری کی بدولت وہ ٹیسٹ تاریخ میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والوں میں 16 ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔ اس وقت سب سے زیادہ سنچریوں کا ریکارڈ عظیم بھارتی بلے باز سچن تنڈولکر کے پاس ہے جن کی ٹیسٹ سنچریوں کی تعداد 51 ہے۔

سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں بنانے والے پاکستانی بلے باز

مقابلے رنز بہترین اسکور اوسط سنچریاں نصف سنچریاں
یونس خان 92 7819 313 52.20 26 28
انضمام الحق 119 8829 329 50.16 25 46
محمد یوسف 90 7530 223 52.29 24 33
جاوید میانداد 124 8832 280* 52.57 23 43
سلیم ملک 103 5768 237 43.69 15 29

آسٹریلیا کے خلاف اس قابل دید سنچری کے بعد یونس خان قومی تاریخ کے ساتویں بلے باز بن گئے ہیں جنہوں نے کسی ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنائی ہوں۔ پاکستان کی جانب سے پہلی بار یہ کارنامہ 1962ء میں حنیف محمد نے انجام دیا تھا جن کے بعد سے یونس خان تک مزید 6 کھلاڑی کسی بھی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں تہرے ہندسے کی اننگز کھیل چکے ہیں۔

ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنانے والے پاکستانی بلے باز

بلے باز ملک رنز - پہلی اننگز رنز - دوسری اننگز بمقابلہ بتاریخ بمقام
حنیف محمد پاکستان 111 104 انگلستان جنوری 1962ء ڈھاکہ
جاوید میانداد پاکستان 104 103*  نیوزی لینڈ نومبر 1984ء حیدرآباد
وجات اللہ واسطی پاکستان 133 121*  سری لنکا مارچ 1999ء لاہور
یاسر حمید پاکستان 170 105  بنگلہ دیش اگست 2003ء کراچی
انضمام الحق پاکستان 109 100* انگلستان نومبر 2005ء فیصل آباد
محمد یوسف پاکستان 102 124  ویسٹ انڈیز مارچ 2006ء کراچی
یونس خان پاکستان 106 103*  آسٹریلیا اکتوبر 2014ء دبئی

لیکن جو چیز یونس خان کو ان تمام بلے بازوں سے جدا کرتی ہے وہ آسٹریلیا کے خلاف دونوں اننگز میں سنچریاں بنانا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کوئی بلے باز یہ کام نہیں کر سکا بلکہ عالمی سطح پر بھی آخری بار کسی بلے باز کے آسٹریلیا کے خلاف ایک ہی ٹیسٹ میں دو سنچریاں بنانے کے کارنامے کو 40 سال گزر چکے ہیں۔ آخری بار 1974ء میں نیوزی لینڈ کے گلین ٹرنر نے آسٹریلیا کے خلاف کرائسٹ چرچ ٹیسٹ میں دو سنچریاں بنائی تھیں اور اس کے بعد سے اب تک کسی بلے باز کو یہ شرف حاصل نہیں ہوا تھا، جو آج یونس خان کو ملا ہے۔ مجموعی طور پر تاریخ میں صرف 9 بلے بازوں نے آسٹریلیا کے خلاف کسی میچ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنائی ہیں۔ فہرست ملاحظہ کیجیے:

آسٹریلیا کے خلاف دونوں اننگز میں سنچریاں بنانے والے بلے باز

بلے باز ملک رنز - پہلی اننگز رنز - دوسری اننگز بمقابلہ بمقام بتاریخ
ہربرٹ سٹکلف انگلستان 176 127  آسٹریلیا ملبورن جنوری 1925ء
والی ہیمنڈ انگلستان 119* 177  آسٹریلیا ایڈیلیڈ فروری 1929ء
ڈینس کومپٹن انگلستان 147 103*  آسٹریلیا ایڈیلیڈ جنوری 1947ء
وجے ہزارے  بھارت 116 145  آسٹریلیا ایڈیلیڈ جنوری 1948ء
کلائیڈ والکٹ  ویسٹ انڈیز 126 110  آسٹریلیا پورٹ آف اسپین اپریل 1955ء
کلائیڈ والکٹ  ویسٹ انڈیز 155 110  آسٹریلیا کنگسٹن جون 1955ء
روہن کنہائی  ویسٹ انڈیز 117 115  آسٹریلیا ایڈیلیڈ جنوری 1961ء
گلین ٹرنر  نیوزی لینڈ 101 110*  آسٹریلیا کرائسٹ چرچ مارچ 1974ء
یونس خان  پاکستان 106 103*  آسٹریلیا دبئی اکتوبر 2014ء

Facebook Comments