آسٹریلیا اسپن جال میں پھنس گیا، پاکستان کی یادگار فتح

حالیہ سالوں میں اپنے تمام کامیاب ترین گیندبازوں سعید اجمل، محمد عرفان، عمر گل، جنید خان، عبد الرحمٰن اور وہاب ریاض کے بغیر میدان میں اترنے والے پاکستان سے آخر کس نے توقع رکھی ہوگی کہ بے ضرر سے باؤلنگ اٹیک کے ساتھ وہ 'مہان' آسٹریلیا کو زیر کرے گا؟ لیکن وہ کرکٹ کے میدانوں میں توقعات سے بالاتر کارکردگی دکھانا بھی پاکستان ہی کا فن ہے اور اس نے دبئی میں پہلے ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو 221 رنز کے فرق سے شکست دے کر اس چھاپ کو مزید گہرا کرلیا ہے۔

یونس خان کی دونوں اننگز میں ریکارڈ ساز سنچریوں، سرفراز احمد کی دھواں دار اور احمد شہزاد کی یادگار اننگز کو ساتھ ملا ذوالفقار بابر اور یاسر شاہ کی ناقابل یقین باؤلنگ کا تو پاکستان کو جیت سے آخر کون روک سکتا تھا؟ آسٹریلیا کی اسپن باؤلنگ کے خلاف کمزوری کھل کر سامنے آ گئی اور پہلی اننگز میں فالو آن کے خطرے سے بال بال بچا تو دوسری اننگز میں 438 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف اس کے سامنے کھڑا تھا، جس کے بوجھ تلے وہ بمشکل 216 رنز تک پہنچ پایا۔ اس شکست کے ساتھ ہی آسٹریلیا کا ٹیسٹ کی درجہ بندی میں عالمی نمبر ایک بننے کا خواب بھی چکناچور ہوگیا۔ یہ شکست ایشیائی سرزمین پر آسٹریلیا کی ناکامیوں کی طویل داستان کا ایک اور حصہ ہے جو گزشتہ سات سالوں میں یہاں صرف ایک میچ جیتا ہے۔

پاکستان کو اچھی خبر میچ کے آغاز سے پہلے ہی ملی جب اسپنرز کے لیے مددگار نظر آنے والی وکٹ پر مصباح الحق نے ٹاس جیت لیا۔ فوری طور پر انہوں نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن احمد شہزاد اور محمد حفیظ کے آؤٹ ہونے سے اس فیصلے کی تمام خوشی کافور ہوگئی۔ پاکستان محض چوتھے اوور کی پہلی گیند تک دونوں اوپنرز سے محروم ہوچکا تھا۔ اس موقع پر مرد بحران یونس خان نے میدان میں قدم رکھا اور ہاتھ سے نکلنے مقابلے کو آہستہ آہستہ پاکستان کی گرفت میں واپس لے آئے۔ اظہر علی اور یونس خان نے تیسری وکٹ پر 108 رنز جوڑے۔ اس شراکت داری نے پاکستان کو ایک مستحکم بنیاد فراہم کی۔ اظہر 167 گیندوں پر 53 رنز بنانے کے بعد مچل جانسن کی دوسری وکٹ بنے۔ چائے کے وقفے کے بعد یونس خان نے ایک شاندار چھکے کے ذریعے اپنے کیریئر کی 25 ویں سنچری مکمل کرکے قومی ریکارڈ برابر کردیا اور تمام ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کے خلاف سنچریاں بنانے والے بلے بازوں میں شامل ہوگئے۔ یونس کی اس اننگز کی بدولت پاکستان نے پہلے دن کا اختتام 4 وکٹوں پر 219 رنز کے ساتھ کیا۔ اس میں یونس خان کے 223 گیندوں پر بنائے گئے 106 رنز شامل تھے۔ ایک چھکے اور 10 چوکوں سے بنائے گئے۔

پاکستان کو دوسرے روز کپتان مصباح الحق اور اسد شفیق کی نصف سنچریوں نے مزید آگے بڑھایا۔ دونوں نے پانچویں وکٹ پر 93 رنز جوڑے لیکن رنز بنانے کی سست رفتار پاکستان کی راہ میں آڑے آ رہی تھی۔ اسے جلد از جلد اور زیادہ سے زیادہ بٹورنے تھے تاکہ دوسرا دن ختم ہونے سے پہلے پہلے آسٹریلیا کو بیٹنگ کے لیے میدان میں اتارے اور اس کی چند وکٹیں سمیٹ کر زبردست دباؤ قائم کرے۔ لیکن اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کسی ایک بلے باز کی غیر معمولی اننگز کی ضرورت تھی۔ جب مصباح 69 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے تو سرفراز کو یہ ذمہ داری سونپ کر بھیجا گیا کہ اب رنزبنانے کی رفتار تیز ہونی چاہیے۔ "سیفی" نے کمال ہی کردیا صرف 80 گیندوں پر تہرے ہندسے کی اننگز کھیل کر وہ نہ صرف تاریخ کے تیز ترین پاکستانی سنچری سازوں میں شامل ہوگئے بلکہ پاکستان کی باری کو بھی پر لگا دیے۔ دونوں نے صرف 128 گیندوں پر 124 رنز جوڑے جس میں سرفراز کا حصہ 79 رنز کا تھا۔ اسد شفیق بدقسمتی سے پاکستانی اننگز کے تیسرے سنچورین نہ بن پائے 89 رنز بنانے کے بعد اسٹیو او کیف کی پہلی ٹیسٹ وکٹ بن گئے۔

سرفراز احمد نے اپنے مختصر ٹیسٹ کیریئر کی دوسری سنچری میں 14 چوکے لگائے اور 105 گیندوں پر 109 رنز بنانے کے بعد ناتھن لیون کا پہلا شکار بنے اور کچھ ہی دیر میں پاکستان کی اننگز 454 رنز پر مکمل ہوگئی۔

آسٹریلیا کی جانب سے مچل جانسن نے سب سے زیادہ تین وکٹیں حاصل کیں، دو، دو کھلاڑیوں کو اسپنرز کی جوڑی او کیف اور لیون نے آؤٹ کیا جبکہ ایک، ایک وکٹ پیٹر سڈل اور اسٹیون اسمتھ کو ملی۔اسپنرز کے لیےسازگار وکٹ پر اوکیف اور لیون کس بری طرح ناکام ہوئے اس کا اندازء لگانے کے لیے یہی کافی ہے کہ دونوں نے پاکستانی اننگز میں 67 اوورز پھینکے اور 255 رنز دے کر صرف چار وکٹیں حاصل کرپائے۔

پاکستان کی حکمت عملی کا پہلا حصہ تو کامیاب ہوا لیکن وہ دوسرے دن کے خاتمے سے پہلے آسٹریلیا کی کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے۔ کرس راجرز مکمل اعتماد کے ساتھ کھیلتے تو نہیں دکھائی دیے لیکن پاکستانی باؤلرز ان کی وکٹ حاصل نہ کرسکے۔ دوسرے اینڈ سے ڈیوڈ وارنر مخصوص انداز سے کھیلے اور آسٹریلیا دوسرے روز کے اختتام تک بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے 113 رنز جمع کرچکا تھا۔ میچ بالکل برابری کی سطح پر آ گیا تھا۔ آسٹریلیا بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے پاکستان کا ایک چوتھائی اسکور بنا چکا تھا لیکن تیسرا روز پاکستان کے غلبے کی نوید لے کر حاضر ہوا۔ پاکستان نے پہلے سیشن میں ہی آسٹریلیا کے چار کھلاڑی ٹھکانے لگا دیے۔ شروعات راحت علی نے کی جن کی ایک اٹھتی ہوئی گیند کرس راجرز کے بلے کا اندرونی کنارہ لیتی ہوئی وکٹوں میں جا گھسی اور کچھ ہی دیر بعد انہوں نے اپنے براہ راست تھرو پر ایلکس ڈولان کو بھی آؤٹ کردیا۔ وقفے سے پہلے پہلے ذوالفقار بابر نے مائیکل کلارک کو اور پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے یاسر شاہ نے ان فارم اسٹیون اسمتھ کو آؤٹ کردیا۔ اب پاکستان کے لیے واحد خطرہ ڈیوڈ وارنر کی صورت میں موجود تھا اور یاسر شاہ کی ایک ناقابل یقین گیند نے ان کی وکٹیں بھی گرا دیں۔ وارنر 174 گیندوں پر 133 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے کے بعد ایک ایسی گیند پر آؤٹ ہوئے جو باؤلرز کے قدموں کے پچ پر پڑنے والے نشان پر گری اور آف اسٹمپ کو چھیڑ گئی۔ پاکستان نے صرف 54 رنز کے اضافے سے آسٹریلیا کی پانچ وکٹیں حاصل کرکے 151 رنز کی بھاری برتری حاصل کرلی۔

یاسر شاہ نے ٹیسٹ میں پہلی بار باؤلنگ کی اور 66 رنز دے کر آسٹریلیا کی تین انتہائی قیمتی وکٹیں حاصل کیں۔ دو، دو کھلاڑیوں کو راحت علی اور ذوالفقار بابر نے آؤٹ کیا جبکہ محمد حفیظ اور عمران خان کو ایک، ایک وکٹ ملی۔

پہلی اننگز میں جس طرح آسٹریلیا کے بلے باز ڈھیر ہوئے، اس سے پاکستان کو خطرے کی بو بھی محسوس ہو رہی تھی، اسے پہلی اننگز میں برتری تو مل گئی تھی دوسری باری میں بھی اچھی کارکردگی دکھانے کی ضرورت تھی۔ آسٹریلیا کے اسپن گیندباز اسٹیو او کیف اور ناتھن لیون پاکستانی اسپنرز جیسی کارکردگی دکھانے کے خواہشمند تھے لیکن اس کا عشر عشیر بھی پیش نہ کرسکے۔ پاکستان نے دوسری اننگز میں ایسی جامع بیٹنگ کارکردگی پیش کی، جس کا مظاہرہ وہ شاذونادر ہی کرتا ہے۔ احمد شہزاد اور یونس خان کی سنچریوں کی بدولت صرف دو وکٹوں کے نقصان پر مجموعے کو 286 رنز تک پہنچا دیا۔ دونوں بلے بازوں نے دوسری وکٹ پر 168 رنز جوڑے۔ پاکستان نے اننگز ڈکلیئر کرکے آسٹریلیا کو 438 رنز کا ہدف دیا۔

یونس خان کی 152 گیندوں پر 103 رنز کی اننگز کئی لحاظ سے تاریخی تھی۔ اس کی بدولت وہ 26 سنچریاں بنا کر پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ تہرے ہندسے کی اننگز کھیلنے والے بلے باز بن گئے، آسٹریلیا کے خلاف کسی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنانے والے پہلے پاکستانی اور 40 سال میں پہلے عالمی بیٹسمین بنے۔ دوسرے اینڈ سے احمد شہزاد نے 233 گیندوں پر 131 رنز کی زبردست باری کھیلی جس میں پیٹر سڈل کے ایک ہی اوور میں لگائے گئے 20 رنز میں دو چھکوں کا حصہ بھی شامل تھا۔ لیکن احمد شہزاد کی یہ باری یونس کی تاریخی اننگز کی وجہ سے گہنا گئی۔

آسٹریلیا کے اسپنر دوسری اننگز میں بھی ناکام ہوئے۔ ناتھن لیون، جن سے بڑی توقعات تھی 18 اوورز میں 4 رنز فی اوور کے اوسط سے 72 رنز دے بیٹھے اور انہیں کوئی وکٹ بھی نہ ملی۔ اوکیف نے دو کھلاڑیوں کو ضرور آؤٹ کیا لیکن انہیں 112 رنز کی مار سہنا پڑی۔

بہرحال، پاکستان نے آسٹریلیا کو جیتنے کے لیے 438 رنز کا ہدف دیا اور پاکستان نے چوتھے روز کے خاتمے سے قبل ہی 59 رنز پر اس کے چار بلے باز آؤٹ کردیے۔ ڈیوڈ وارنر اور کرس راجرز کے درمیان 44 رنز کی شراکت داری کیا ٹوٹی، صرف 5 رنز کے اضافے سے آسٹریلیا کو چار وکٹوں سے محروم ہونا پڑا۔ سب سے پہلے ڈیوڈ وارنر ذوالقار بابر کی گیند پر اسٹمپڈ ہوئے اور اسی اوور کی آخری گیند پر ایلکس ڈولان ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔ کچھ دیر بعد یاسر شاہ نے اپنے ایک ہی اوور میں کپتان مائیکل کلارک اور نائٹ واچ مین ناتھن لیون کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کردیا۔

اب آخری روز آسٹریلیا کو جیتنے کے لیے 379 رنز اور پاکستان کو جیتنے سے روکنے کے لیے اپنی بقیہ چھ وکٹیں بچانی تھیں اور وہ دونوں میں ناکام رہا۔ کھانے کے وقفے تک پہنچتے پہنچتے آؤٹ ہونے والے بلے بازوں کی تعداد 7 ہوچکی تھی۔ کرس راجرز عمران خان کی ایک سوئنگ ہوتی یارکر پر کلین بولڈ ہوئے تو مچل مارش اور بریڈ ہیڈن "ذولفی" کی گیند پر آؤٹ ہوکر منہ لٹکائے پویلین لوٹ آئے۔

اسٹیون اسمتھ اور مچل جانسن نے پاکستان کے فیلڈرز کی نااہلی کی بدولت 65 رنز جوڑنے میں کامیاب رہے۔ احمد شہزاد، یاسر شاہ، مصباح الحق اور سرفراز احمد نے انہیں کم از کم چار زندگیاں فراہم کیں۔ ایسا محسوس ہوتا تھا پاکستان دوسرے سیشن میں کوئی وکٹ نہیں لے پائے گا لیکن یاسر شاہ کی گیند پر شارٹ لیگ پر کھڑے اسد شفیق کے زبردست کیچ نے اسمتھ کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔ 175 گیندوں پر 55 رنز کی مزاحمت تمام ہوئی اور آسٹریلیا کی میچ بچانے کی امیدوں کا چراغ بھی گل ہوگیا۔ آحری سیشن میں سرفراز احمد کی وکٹوں کے پیچھے پھرتی اور حاضر دماغی نے مچل جانسن کی 61 رنز کی اننگز کا خاتمہ کیا اور کچھ ہی دیر میں پیٹر سڈل کے آؤٹ ہوتے ہی آسٹریلیا میچ ہار گیا۔ ان بلے بازوں کی مزاحمت سے شکست کا مارجن 300 سے زیادہ رنز سے کم ہوتا ہوا 221 رنز تک آ گیا۔

پاکستان کی جانب سے ذوالفقار بابر نے اپنے کیریئر میں پہلی بار 5 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ انہوں نے دوسری اننگز میں صرف 74 رنز دے کر 5 بلے باز آؤٹ کیے۔ یاسر شاہ نے 50 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ ایک وکٹ عمران خان کو ملی۔

یونس خان کو تاریخی فتح میں کلیدی کردار ادا کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب پاک-آسٹریلیا کا دوسرا اور آخری ٹیسٹ جمعرات سے ابوظہبی میں شروع ہوگا۔ پاکستان کو ناقابل شکست برتری حاصل ہے اور عالمی درجہ بندی میں اپنی کھوئی ہوئی تیسری پوزیشن حاصل کرنے کے لیے اسے آسٹریلیا کے خلاف یہ ٹیسٹ بھی جیتنا ہوگا البتہ اگر وہ ایک-صفر سے سیریز جیتتا ہے تب بھی انگلستان اور سری لنکا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چوتھے نمبر پر ضرور آ جائے گا۔

Facebook Comments