مستقل مقام دینے کے بجائے ہمیشہ متبادل کھلاڑی سمجھا گیا: فیصل اقبال

پاکستان کرکٹ میں چند بدنصیب کھلاڑی ایسے ہیں جنہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں تو خوب کامیابیاں سمیٹیں اور نام کمایا، لیکن جب بین الاقوامی سطح پر کچھ کر دکھانے کا موقع ملا تو وہ اس طرح متاثر نہ کرسکے، جتنی کہ ان سے توقعات تھیں۔ اگر ایسے ناموں کیا جائے تو بلاشبہ فیصل اقبال کا نام بھی انہی میں سے ایک ہوگا۔ نوعمری میں کراچی کے کرکٹ حلقوں میں قدم رکھنے والا یہ نوجوان آج 32 سال کی عمر کو پہنچ چکا ہے اور سمجھتا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ میں اسے ہمیشہ متبادل کھلاڑی سمجھا گیا، کبھی مستقل مقام دینے کی خاطر طلب ہی نہیں کیا گیا۔

آج کے سینئر وہ ہیں، جنہیں مستقبل مواقع دیے گئے، مجھے ہمیشہ کسی کے زخمی ہونے پر چند میچز کے لیے بلایا جاتا رہا، فیصل اقبال (تصویر: Getty Images)

آج کے سینئر وہ ہیں، جنہیں مستقبل مواقع دیے گئے، مجھے ہمیشہ کسی کے زخمی ہونے پر چند میچز کے لیے بلایا جاتا رہا، فیصل اقبال (تصویر: Getty Images)

لاہور میں 'کرک نامہ' سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فیصل اقبال نے کہا کہ آج قومی ٹیم میں شامل چند کھلاڑی اس لیے سینئر بنے کیونکہ انہیں مستقل مواقع دیے گئے، جس کی وجہ وہ ٹیم میں اپنی جگہ مضبوط کرنے میں کامیاب ہوئے۔ لیکن میرے معاملہ ہمیشہ سے الٹا رہا، کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ کی کارکردگی کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا تھا، انہیں مستقل مواقع دیے جاتے تھے، جبکہ مجھے اس وقت طلب کیا جاتا جب کوئی مستقل رکن کسی دورے سے پہلے ان فٹ ہوجاتا۔ پھر متبادل کی حیثیت سے میری طلبی ہوتی اور چند مواقع دیے جانے کے بعد ایک مرتبہ پھر باہر کردیا جاتا۔ ابھی ماضی قریب میں تو یہ موقع تک آیا کہ مجھے دو دوروں کے لیے قومی دستے میں شامل کیا گیا اور دونوں مرتبہ ٹیم انتظامیہ نے مجھے حتمی الیون میں کھلانے کی زحمت نہیں کی۔

فیصل اقبال کہتے ہیں کہ اس کے باوجود مجھے امید ہے کہ میرا وقت ضرور آئے گا، میں مثبت ذہن اور سوچ رکھتا ہوں، اس وقت پوری نظریں کرکٹ پر مرکوز ہیں اور قائد اعظم ٹرافی میں کارکردگی دکھانے کی کوشش کررہا ہوں۔

مارچ 2001ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں 42 اور 52 رنز کی اننگز کے ساتھ کیریئر کا آغاز کرنے والے فیصل اقبال کے دامن میں چند یادگار اننگز ضرور ہیں، لیکن ان میں مستقل مزاجی کی ویسی ہی کمی دکھائی دی جیسا کہ ان کے انتخاب میں بورڈ نے تسلسل سے کام نہیں لیا۔ 2006ء میں بھارت کے دورۂ کراچی میں انہوں نے 139 رنز کی یادگار اور فاتحانہ اننگز کھیلی جس کی بدولت پاکستان نے بھارت کو 341 رنز کے مارجن سے شکست دی۔ فیصل اقبال کہتے ہیں کہ ہر پاکستانی بلے باز کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھارت کے خلاف کارکردگی دکھائے، رنز کے انبار لگائے۔ اس لیے میری بھی یہی خواہش تھی اور مجھے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ میں نے یہ کارنامہ کراچی میں اپنے ہوم گراؤنڈ پر اور اپنے ہم شہریوں کے سامنے انجام دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان احساسات کو الفاظ میں بیان ہی نہیں کرسکتا جو سنچری مکمل کرنے کے بعد پید اہوئے تھے۔

پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین بلے باز جاوید میانداد کے خاندان میں پیدا ہونے کی وجہ سے فیصل اقبال نے بہت امیدیں وابستہ تھیں۔ انہیں اس جدوجہد کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑا جو کھیل کھیلنے کے لیے عام کرکٹرز کو اپنے خاندانوں کی مخالفت کی وجہ سے بھگتنا پڑتی ہے۔ لیکن فیصل کی اڑان 26 ٹیسٹ اور 18 ایک روزہ مقابلوں تک ہی محدود رہی البتہ ڈومیسٹک میں انہوں نے رنز کے انبار لگا دیے۔ 196 فرسٹ کلاس میچز میں 40.77 کے اوسط کے ساتھ 11 ہزار سے زیادہ رنز اور 164 لسٹ اے مقابلوں میں 41.75 کے اوسط سے 5 ہزار سے زیادہ رنز ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پاکستان کے ڈومیسٹک ڈھانچے کے بارے میں فیصل اقبال کہتے ہیں کہ ڈومیسٹک اسٹرکچر پہلے کے مقابلے میں اب خاصا بہتر ہے، لیکن اب بھی کھلاڑیوں کو مالی لحاظ سے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کھلاڑی اپنے خاندان کی کفالت سے آزاد ہوں گے تو زیادہ جذبے اور توانائی کے ساتھ کرکٹ کھیل پائیں گے۔

فیصل اقبال نے کہا کہ کرکٹ میں مجھے آگے لے جانے کا سہرا احمد مصطفیٰ صاحب کے سر جاتا ہے کہ جن کے کرکٹ انسٹیٹیوٹ میں بالکل بچپن میں داخل ہوا تھا۔ ان کے بعد جاوید میانداد اور محمد علی شاہ نے بھی میری بہت مدد کی۔ میری صلاحیتوں کو نکھارنے میں جاوید میانداد نے بہت کوششیں کیں، 1996ء سے لے کر اس وقت تک جب وہ قومی ٹیم کے کوچ تھے، انہوں نے بہت لگ کر میرے ساتھ کام کیا۔ پاکستان کے بلے بازوں کی غیر مستقل مزاجی پر فیصل اقبال کہتے ہیں کہ آپ میرٹ پر کھلاڑیوں کا انتخاب کریں، ٹیم ایک یونٹ کی حیثیت سے کھیلے گی اور یہ شکایت دور ہوجائے گی۔

Facebook Comments