کیا مصباح کے سینے پر ایک اور تمغہ سجے گا؟

اکتوبر 1994ء کے ابتدائی ایام اور اپنے قلعے نیشنل اسٹیڈیم میں سخت جدوجہد کرتا پاکستان! 314 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 258 رنز پر ہی 9 کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ جب انضمام الحق اور مشتاق احمد نے باقی رہ جانے والے 56 رنز بنائے اور پاکستان کو شاندار کامیابی سے نوازا۔ دو دہائیاں قبل سلیم ملک کی زیر قیادت پاک-آسٹریلیا سیریز میں میزبان پاکستان ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے بعد ہی آسٹریلیا کو چت کر پایا تھا۔ پہلا ٹیسٹ تو سنسنی خیزی میں لاجواب تھا ہی، لیکن دوسرے ٹیسٹ میں جب راولپنڈی میں پاکستان 521 رنز کے جواب میں صرف 260 رنز پر ڈھیر ہوکر فالو آن کا شکار ہوگیا تھا۔ جہاں کپتان سلیم ملک کی 237 رنز کی یادگار اننگز نے اسے بچا لیا۔ پھر لاہور میں کھیلا گیا تیسرا ٹیسٹ کہ جہاں دوسری اننگز میں سلیم ملک اس وقت آسٹریلیا اور فتح کی راہ میں حائل ہوگئے، جب پاکستان صرف 107 رنز پر 5 وکٹوں سے محروم تھا اور کپتان اور عامر سہیل کے درمیان چھٹی وکٹ پر 196 رنز کی شراکت داری کی مدد سے شکست کو شکست دینے میں کامیاب ہوا۔ اندازہ لگالیں کہ پاکستان اپنی تاریخ کے چند بہترین کھلاڑیوں سلیم ملک، سعید انور، عامر سہیل، انضمام الحق، راشد لطیف، وسیم اکرم، وقار یونس اور مشتاق احمد کی موجودگی اور گھریلو میدانوں پر کھیلنے کے باوجود آسٹریلیا کے خلاف بمشکل ایک-صفر سے سیریز جیت سکا ، اور واحد نتیجہ خیز مقابلہ بھی صرف ایک وکٹ سے جیتا۔ اس کے بعد سے آج تک، یعنی دو دہائیوں میں، پاکستان کبھی آسٹریلیا کو سیریز نہیں ہرا پایا بلکہ ٹیسٹ مقابلے بھی محض چند جیتے ہیں۔ اسی لیے متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں جاری سیریز میں ایک-صفر کی برتری کو کافی سمجھنا، اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہ بیشتر پاکستانی شائقین سمجھ رہے ہیں۔

آسٹریلیا 2006ء سے اب تک ایشیا میں صرف ایک ٹیسٹ جیتا ہے اور 9 میں شکست کھائی ہے (تصویر: Getty Images)

آسٹریلیا 2006ء سے اب تک ایشیا میں صرف ایک ٹیسٹ جیتا ہے اور 9 میں شکست کھائی ہے (تصویر: Getty Images)

آج جبکہ پاکستان اور آسٹریلیا سیریز کے دوسرے اور آخری ٹیسٹ کے لیے ابوظہبی میں مدمقابل آ رہے ہیں تو پاکستان کے کھلاڑیوں کو چند باتیں ذہن میں بالکل واضح رکھنا ہوں گی اور ان کی جانب کوچ وقار یونس نے اشارہ بھی کیا ہے۔ اول، آسٹریلیا کی جوابی حملے کی بھرپور صلاحیت کا ادراک۔ دشمن کو شکست دینے کے لیے سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ اس کی طاقت کا درست اندازہ لگایا جائے اور آسٹریلیا ایسی ٹیم کے جس کے کھلاڑی جلد ہمت نہیں ہارتے اور آخری گیند تک جدوجہد کرتے ہیں۔ اسی خصوصیت کی بدولت وہ ماضی میں متعدد بار خسارے میں جانے کے باوجود سیریز بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ حالیہ ٹیسٹ سیریز کے پہلے مقابلے میں بھی انہیں ناکامی کا سامنا ضرور کرنا پڑا ہے، اور اس کے ساتھ ہی وہ درجہ بندی میں نمبر ایک مقام حاصل کرنے سے بھی محروم ہوگئے ہیں، لیکن اس سیریز کو بچانے اور مزید زوال کو روکنے کے لیے وہ سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے اور اگر قسمت نے ان کے ساتھ یاوری کی تو پھر پاکستان کے لیے سخت مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں۔

ذرا تصور کیجیے کہ اگر دبئی میں پاکستان کی جگہ آسٹریلیا ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتا تو کیا ہوتا؟ ممکن ہے کہ نتیجہ الٹ ہوتا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پاکستان ایسی ہی تاریخی کامیابی حاصل کرتا۔ لیکن کم ا ز کم یہ امکانات تو کم ہوتے کہ آسٹریلیا پہلی اننگز میں اتنی بدترین بیٹنگ کے بعد ڈھیر ہوتا۔ پہلے دن کی تازہ وکٹ پر شاید آسٹریلیا کے مڈل آرڈر کو کھیلنے میں اتنی دشواریاں پیش نہ آتیں جتنی مشکلات کا انہیں تیسرے دن کی استعمال شدہ وکٹ پر بلے بازی میں سامنا کرنا پڑا تھا۔ بہرحال، یہ تو صرف اندازے ہیں لیکن اگر آسٹریلیا کو ابوظہبی میں یہ موقع ملا تو وہ ہرگز اسے نہیں گنوائے گا۔

اگر آج سے شروع ہونے والے دوسرے و آخری ٹیسٹ کے لیے وکٹ ذرا سی بھی تیز باؤلرز کے لیے مددگار ہوئی تو پاکستانی بلے بازوں کو مچل جانسن اور پیٹر سڈل سخت امتحان میں ڈال سکتے ہیں۔ اگر واقعی وکٹ اسپنرز کے لیے سازگار نہیں ہوتی تو آسٹریلیا اسٹیو او کیف کو باہر بٹھا کر بین ہلفناس کو ضرور کھلائے گا اور یہ مثلث پاکستان کے بلے بازوں کو خاصا پریشان کرے گی۔ پھر یہ بات بھی پاکستانی کھلاڑیوں کے ذہن میں رہنی چاہیے کہ پورے دورے میں ناکامیاں سمیٹنے والی ان کی بیٹنگ لائن اب تک صرف ایک میچ میں چل پائی ہے، اور اسے پٹری سے اترنے میں ذرا دیر نہیں لگے گی۔ اس لیے خاص طور پر پاکستانی بلے بازوں کو آسٹریلیا کے پیس اٹیک (pace attack) پر نظریں رکھنا ہوں گی۔ یہ ذمہ داری ہوگی مصباح الحق اور یونس خان کی تجربہ کار جوڑی کے کاندھوں پر کہ اگر ایک اینڈ سے وکٹیں گریں تو کم از کم اپنا کنارہ سنبھال کر رکھیں۔

دوسری جانب آسٹریلیا کی طویل بیٹنگ لائن، جو پہلے ٹیسٹ میں تو ناکام ٹھہری، پے در پے ناکامیوں کی عادی نہیں۔ ڈیوڈ وارنر اور اسٹیون اسمتھ نے تو مشکل ترین حالات میں بھی اپنی حقیقی صلاحیتیں دکھا دی ہیں لیکن اگر ابوظہبی میں کرس راجرز، ایلکس ڈولان اور مائیکل کلارک کا بلّا چل گیا تو پاکستان کی "نوآموز" باؤلنگ لائن کو کہیں جائے پناہ نہیں ملے گی۔ اس لیے پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے، ہر گیند کو ناپ تول کر پھینکنے اور ہر شاٹ کو دیکھ بھال کر کھیلنا تقاضا ہے۔

پاکستان کے باؤلنگ اٹیک نے دبئی میں اپنی صلاحیت سے کہیں بڑھ کر کارکردگی دکھائی۔ ٹیسٹ میں شاندار کامیابیاں سمیٹنے والے آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن کو دو مرتبہ آل آؤٹ کرنا واقعی بڑا کارنامہ ہے اور اس پر ان کو جتنی داد دی جائے گی۔ لیکن کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ابوظہبی کا معرکہ بھی سر کرنا ہے، جہاں آسٹریلیا کا دستہ ان سے زیادہ بے چین ہوگا، کیونکہ اسے سیریز بچانے کے لیے لازمی جیت حاصل کرنی ہے، جبکہ پاکستان زیادہ اطمینان کے ساتھ محض ڈرا کے لیے بھی کھیل کر سیریز جیت سکتا ہے۔ اگر پاکستان ابوظہبی میں کامیاب ہوگیا تو انگلستان کے خلاف دو سال قبل کی یادگار جیت کے بعد مصباح الحق کے سینے پر آسٹریلیا کو چت کرنے کا تمغہ بھی لگے گا۔

آخر میں پاکستان کے لیے ایک خوش آئند بات: آسٹریلیا 2006ء سے اب تک ایشیا میں کھیلے گئے 14 میں سے صرف ایک ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرپایا ہے اور9 میں اسے ناکامی ہوئی ہے۔

Facebook Comments