ڈبل سنچریاں بنانے والے تمام پاکستانی بلے بازوں کی فہرست

31 اکتوبر 1976ء اور 31 اکتوبر 2014ء میں ایک قدر مشترک ہے، اس روز پاکستان کی تاریخ کے عظیم ترین بیٹسمین جاوید میانداد نے صرف 19 سال کی عمر میں ڈبل سنچری بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا اور آج یونس خان نے ابوظہبی میں کیریئر کی پانچویں ڈبل سنچری کے دوران 8 ہزار ٹیسٹ رنز کا سنگ میل عبور کرکے اپنا نام جاوید میانداد کی صف کے بلے بازوں میں شامل کروا لیا ہے۔

یونس خان جاوید میانداد کے بعد سب سے زیادہ ڈبل سنچریاں بنانے والے بیٹسمین بن گئے ہیں (تصویر: AFP)

یونس خان جاوید میانداد کے بعد سب سے زیادہ ڈبل سنچریاں بنانے والے بیٹسمین بن گئے ہیں (تصویر: AFP)

پاکستان کرکٹ کی تاریخ درحقیقت تیز باؤلرز کی روایات سے بھری پڑی ہے۔ فضل محمود سے لے کر عمران خان، سرفراز نواز سے لے کر وسیم اکرم اور وقار یونس سے لے کر محمد عامر تک، ایک طویل فہرست ایسے گیندبازوں کی ہے جنہوں نے دنیا بھر سے داد سمیٹی۔ لیکن اس سرزمین پر بہت کم ایسے بلے بازوں سے حصہ لیا کہ جنہیں افسانوی حیثیت ملی۔ حنیف محمد اور جاوید میانداد سمیت ایسے بلے بازوں کی تعداد محض انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے کہ جن کی صلاحیت کا ایک عالم معترف رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ 8 ہزار ٹیسٹ رنز بنانے والے پاکستانی بلے بازوں کی تعداد بھی، یونس خان کو ملا کر، محض 3 ہے حالانکہ 10 ہزار سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں کی تعداد اس وقت 11 ہے جن میں سچن تنڈولکر 15921 رنز کے ساتھ سب سے آگے ہیں۔

بہرحال، پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے چند بڑے بلے بازوں میں شمار ہونے کے لیے جو تمام لوازمات درکار ہوتے ہیں، وہ آج یونس خان نے پورے کردیے۔ آسٹریلیا کے خلاف ابوظہبی میں جاری دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 213 رنز بنا کر انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ دور جدید کے بہترین پاکستانی بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔ اسی سیریز کے دوران انہوں نے پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں بنانے کا کارنامہ انجام دیا اور اب ڈبل سنچری اننگز کے ذریعے 8 ہزار ٹیسٹ رنز بھی مکمل کرلیے ہیں۔

اس تاریخی اننگز کے ساتھ ہی یونس خان کی کیریئر ڈبل سنچریوں کی تعداد 5 ہوگئی ہے۔ وہ کم از کم پانچ ڈبل سنچریاں بنانے والے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے 13 ویں بلے باز بن گئے ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ ڈبل سنچریاں کا ریکارڈ کرکٹ کے 'ڈان' سر ڈان بریڈمین کے پاس ہے کہ جنہوں نے صرف 52 ٹیسٹ مقابلوں میں 12 ڈبل سنچریاں بنائیں۔ 99.94 کے اوسط کے ساتھ بنائی گئی 29 سنچریاں ان کی عظمت کی دلیل ہیں جبکہ ان کے تعاقب میں سری لنکا کے کمار سنگاکارا ہیں جو اپنے جاری کیریئر میں 10 ڈبل سنچریاں بنا چکے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ ڈبل سنچریاں جاوید میانداد نے بنا رکھی ہیں جنہوں نے اپنے 17 سالہ کیریئر میں 6 ڈبل سنچری اننگز کھیلیں۔ اس میں 280 رنز کی وہ ناقابل شکست اننگز بھی شامل ہے، جو عمران خان کی بے وقت ڈکلیئریشن کی وجہ سے ٹرپل سنچری میں نہ بدل پائی۔ یونس خان کو ایسی کسی بدمزگی سے دوچار نہیں ہونا پڑا۔ انہوں نے ایک اننگز کو ٹرپل سنچری میں بھی بدلا جب 2009ء میں سری لنکا کے خلاف کراچی میں انہوں نے 313 رنز بنائے اور ٹرپل سنچری بنانے والے تیسرے پاکستانی بلے باز بنے۔

اگر یونس خان اپنے کیریئر میں دو مرتبہ 190 کے پیٹے میں آؤٹ نہ ہوتے تو آج وہ جادید میانداد کا قومی ریکارڈ توڑ دیتے۔ یونس خان جنوری 2006ء میں بھارت کے خلاف محض چند دن کے فرق سے دو بار ڈبل سنچری کے بعد قریب آ کر اس سے محروم رہے۔ مذکورہ سیریز کے لاہور میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں وہ 199 رنز بنانے کے بعد رن آؤٹ ہوئے اور محض چند دنوں کے بعد فیصل آباد میں ہونے والے اگلے ٹیسٹ میں 194 رنز بنانے کے بعد ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔ بہرحال، اس کے باوجود ان کی ڈبل سنچریوں کی تعداد اس وقت 5 تک پہنچ چکی ہے اور پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف نیوزی لینڈ سے بھی تین ٹیسٹ میچز کھیلنے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ بہترین فارم میں موجود یونس خان اس ریکارڈ تک پہنچنے کے لیے زیادہ وقت نہ لیں۔

ڈبل سنچریاں بنانے والے پاکستانی بلے بازوں کی فہرست پر نگاہ دوڑائیں تو پہلا نام ہمیں وکٹ کیپر امتیاز احمد کا ملتا ہے جنہوں نے اکتوبر 1955ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف 209 رنز بنائے تھے اور یوں پاکستان کے پہلے ڈبل سنچورین بنے۔ ان کے بعد حنیف محمد کی اس تاریخی اننگز کا نام آتا ہے جو انہوں نے جنوری 1958ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف برج ٹاؤن ٹیسٹ میں کھیلی اور 337 رنز بنا ڈالے تھے، جو پاکستان کے کسی بھی بلے باز کی طویل ترین انفرادی اننگز ہے۔ مجموعی طور پر 62 سالہ تاریخ میں پاکستان کے 18 بلے بازوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 37ڈبل سنچریاں بنائی ہیں۔

ذیل میں ہم پاکستان کے بلے بازوں کی جانب سے بنائی گئی تمام ڈبل سنچریوں کے اعدادوشمار پیش کررہے ہیں کہ وہ کس مقام پر، کب اور کس کے خلاف بنائی گئیں۔

پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ ڈبل سنچریاں بنانے والے بلے باز

بلے باز رنز گیندیں چوکے چھکے بمقابلہ بمقام بتاریخ
امتیاز احمد 209 - 28 0  نیوزی لینڈ لاہور اکتوبر 1955ء
حنیف محمد 337 - 24 0 ویسٹ انڈیز برج ٹاؤن جنوری 1958ء
حنیف محمد 203* - 33 0 نیوزی لینڈ لاہور اپریل 1965ء
ظہیر عباس 274 467 38 0 انگلستان برمنگھم جون 1971ء
مشتاق محمد 201 - 20 0 نیوزی لینڈ ڈنیڈن فروری 1973ء
ظہیر عباس 240 410 22 0 انگلستان اوول، لندن اگست 1974ء
جاوید میانداد 206 - 29 2 نیوزی لینڈ کراچی اکتوبر 1976ء
ظہیر عباس 235* - 29 2 بھارت لاہور اکتوبر 1978ء
تسلیم عارف 210* 379 20 0 آسٹریلیا فیصل آباد مارچ 1980ء
محسن خان 200 386 23 0 انگلستان لارڈز، لندن اگست 1982ء
ظہیر عباس 215 254 23 2 بھارت لاہور دسمبر 1982ء
مدثر نذر 231 444 21 1 بھارت حیدرآباد جنوری 1983ء
جاوید میانداد 280* 460 19 1 بھارت حیدرآباد جنوری 1983ء
قاسم عمر 210 442 27 0 بھارت فیصل آباد اکتوبر 1984ء
قاسم عمر 206 - - 0 سری لنکا فیصل آباد اکتوبر 1985ء
جاوید میانداد 203* - - 1 سری لنکا فیصل آباد اکتوبر 1985ء
جاوید میانداد 260 521 28 1 انگلستان اوول، لندن اگست 1987ء
جاوید میانداد 211 441 29 1 آسٹریلیا کراچی ستمبر 1988ء
جاوید میانداد 271 465 28 5 نیوزی لینڈ آکلینڈ فروری 1989ء
شعیب محمد 203* 338 20 0 بھارت لاہور دسمبر 1989ء
شعیب محمد 203* 411 23 0 نیوزی لینڈ کراچی اکتوبر 1990ء
عامر سہیل 205 284 32 0 انگلستان مانچسٹر جولائی 1992ء
سلیم ملک 237 328 34 0 آسٹریلیا راولپنڈی اکتوبر 1994ء
وسیم اکرم 257* 363 22 12 زمبابوے شیخوپورہ اکتوبر 1996ء
اعجاز احمد 211 372 23 1 سری لنکا ڈھاکہ مارچ 1999ء
انضمام الحق 200* 397 23 2 سری لنکا ڈھاکہ مارچ 1999ء
محمد یوسف 203 429 27 3 نیوزی لینڈ کرائسٹ چرچ مارچ 2001ء
محمد یوسف 204* 243 34 2 بنگلہ دیش چٹاگانگ جنوری 2002ء
انضمام الحق 329 436 38 9 نیوزی لینڈ لاہور مئی 2002ء
یونس خان 267 504 32 1 بھارت بنگلور مارچ 2005ء
محمد یوسف 223 373 26 2 انگلستان لاہور نومبر 2005ء
محمد یوسف 202 330 26 1 انگلستان لارڈز جولائی 2006ء
یونس خان 313 568 27 4 سری لنکا کراچی فروری 2009ء
توفیق عمر 236 496 17 1 سری لنکا ابوظہبی اکتوبر 2011ء
یونس خان 200* 290 18 3 بنگلہ دیش چٹاگانگ دسمبر 2011ء
یونس خان 200* 404 15 3 زمبابوے ہرارے ستمبر 2013ء
یونس خان 213 349 15 2 آسٹریلیا ابوظہبی اکتوبر 2014ء

Facebook Comments