32 سال بعد ۔۔۔۔۔ !!!!

آسٹریلیا پاکستان کا وہ حریف ہے، جس کے خلاف قومی کرکٹ ٹیم نے ہمیشہ بہت سخت جدوجہد کی ہے۔ دونوں ملکوں کی باہمی کرکٹ کی 58 سالہ تاریخ میں گنی چنی سیریز ہیں جن میں پاکستان نے فتوحات حاصل کی ہیں، ورنہ نتیجہ ہمیشہ آسٹریلیا ہی کے حق میں نکلا ہے۔ اسی سے اندازہ لگا لیں کہ پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف آخری ٹیسٹ سیریز جیتے ہوئے 20 سال گزر چکے ہیں۔ 1956ء میں پہلے پاک-آسٹریلیا ٹیسٹ سے لے کر متحدہ عرب امارات میں جاری سیریز کے آغاز سے قبل تک، پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف 58 ٹیسٹ مقابلے کھیلے اور صرف 12 میں کامیابی حاصل کیں اور 28 میچز میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان 370 رنز کی برتری حاصل کرچکا ہے اور اب آسٹریلیا کو کوئی معجزہ ہی شکست سے بچا سکتا ہے (تصویر: Getty Images)

پاکستان 370 رنز کی برتری حاصل کرچکا ہے اور اب آسٹریلیا کو کوئی معجزہ ہی شکست سے بچا سکتا ہے (تصویر: Getty Images)

1990ء کی دہائی کے آخر کے بعد تو پاکستان کے لیے آسٹریلیا کو شکست دینا اس قدر مشکل ہوگیا کہ 1999ء سے لے کر 2010ء تک پاکستان کو مسلسل 13 ٹیسٹ مقابلوں میں آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ ایسے دور میں جب وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر بھی قومی ٹیم میں موجود تھے، انضمام الحق اور محمد یوسف بھی پاکستان کے دستے کا حصہ تھے، ان دنوں میں آسٹریلیا نے پاکستان پر وہ غلبہ پایا، جو قابل ذکر ٹیموں میں شاید ہی کوئی کسی پر حاصل کر پایا ہو۔

یہ پورا پس منظر واضح تھا جب پاکستان نے دبئی میں سیریز کا آغاز کیا اور پھر معجزہ ہوگیا۔ پاکستان نے یونس خان کی دونوں اننگز میں سنچریوں نے حوصلہ پاتے ہوئے ایک تاریخی فتح حاصل کی اور یوں متحدہ عرب امارات میں انگلستان اور جنوبی افریقہ کے بعد آسٹریلیا کا بھی شکار کرلیا۔ سیریز میں ناقابل شکست برتری حاصل کرنے کے بعد پاکستان جیت کے نشے میں مست نہیں ہوا بلکہ اپنی ان تمام کمزوریوں پر قابو پایا جن کی وجہ سے وہ ماضی میں بنی بنائی سیریز ہار چکا ہے۔ اب 32 سال کے بعد پاکستان آسٹریلیا کے خلاف کلین سویپ کے قریب ہے۔ آخری بار 1982ء میں کم ہیوز کی زیرقیادت پاکستان کا دورہ کرنے والا آسٹریلیا دستہ بھی اس بری طرح تینوں ٹیسٹ سیریز میں شکست سے دوچار ہوا تھا۔

ویسے پاکستان نے ابوظہبی میں اب تک ویسی کوئی غلطی نہیں دہرائی، جو پچھلے سال دبئی کے میدان پر جنوبی افریقہ کے سامنے کی تھیں۔ تب ابوظہبی میں پہلا ٹیسٹ 7 وکٹوں سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد دبئی میں پاکستان ایک اننگز اور 92 رنز سے شکست کھا گیا تھا اور یوں ایک اور ورلڈ نمبر ون کو ہرانے کا خواب چکناچور ہوگیا۔ اس لیے آسٹریلیا کے خلاف اِس وقت جاری سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں شاندار کامیابی کے باوجود کافی رجائیت پسند ہونا ضروری ہے کہ پاکستان آسٹریلیا کو دوسرے ٹیسٹ میں شکست دے گا۔ لیکن کم از کم تیسرے روز کے کھیل کے اختتام تک تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ پاکستان آسٹریلیا کو دو-صفر سے سیریز نہ ہرائے۔

ایک مرتبہ پھر ٹاس جیتا، دوبارہ پہلے بیٹنگ کی اور یونس خان کی تاریخی ڈبل سنچری اور اظہر علی اور مصباح الحق کی یادگار سنچریوں کی بدولت 570 رنز کا ایسا مجموعہ جمع کر ڈالا، جو پچھلے مقابلے کی کارکردگی دیکھتے ہوئے آسٹریلیا کے لیے ناقابل عبور تھا۔ اتنے بڑے مجموعے کے دباؤ تلے نہ پچھلے ٹیسٹ میں سنچری بنانے والے ڈیوڈ وارنر چلے، نہ ہی شعلہ فشاں بلے باز گلین میکس ویل کی شمولیت اننگز پر کوئی فرق ڈال سکی۔ یہاں تک کہ مچل مارش کی 87 اور مائیکل کلارک کی 47 رنز کی مزاحمت بھی آسٹریلیا کو فالو آن سے نہ بچا سکی۔ آسٹریلیا عمران خان، ذوالفقار بابر اور یاسر شاہ کی عمدہ باؤلنگ کے سامنے صرف 261 رنز پر ڈھیر ہوگیا۔ اپنا محض دوسرا ٹیسٹ کھیلنے والے عمران نے کرس راجرز، مائیکل کلارک اور مچل مارش کی قیمتی وکٹیں حاصل کرکے اپنی اہلیت منوائی اور 'ذولفی'، یاسر اور راحت علی نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

لیکن ۔۔۔۔ پاکستان نے آسٹریلیا پر فالو آن نافذ نہیں کیا۔ گو کہ مقابلہ ابھی نتیجے تک نہیں پہنچا اور پاکستان 370 رنز کی برتری حاصل کرچکا ہے اور اس کی 8 وکٹیں بھی باقی ہیں، لیکن آسٹریلیا کو فالو آن کا شکار کرنا ہی اتنا بڑا کارنامہ ہے اس پر پاکستان کے گیندبازوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔ گزشتہ 25 سالوں میں آسٹریلیا صرف اور صرف ایک بار فالو آن کا شکار ہوا ہے جب 2005ء کی تاریخی ایشیز سیریز میں ناٹنگھم میں کھیلے گئے ٹیسٹ نے انگلستان نے اسے فالو آن پر مجبور کیا تھا۔ اس کے علاوہ گزشتہ 12 سال میں یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان نے کسی ٹیم کو فالو آن پر دھر لیا ہو۔

اب پاکستان چوتھے روز کے نصف حصے میں تیز رفتاری سے کھیلنے کے بعد آسٹریلیا کو ایک بہت بڑے ہدف تلے دبانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ دیکھتے ہیں، وہ اس میں کامیاب ہوپاتا ہےیا نہیں۔ لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اس مقام سے آسٹریلیا کو میچ میں واپس آنے کے لیے ایک معجزے کی ضرورت ہے۔ اب معجزہ ہوتا ہے یا پاکستان ٹیسٹ سیریز کی کارکردگی کو پھر دہراتا ہے۔ یہ آنے والے دو دن کا کھیل بتائے گا۔ امید تو ہے کہ 32 سال بعد تاریخ خود کو دہرائے گی۔

Facebook Comments