آئی سی سی ایوارڈز 2014ء، حتمی امیدواروں میں کوئی پاکستانی شامل نہیں

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے رواں سال آئی سی سی ایوارڈز کے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کردی ہے جس میں کوئی پاکستانی کھلاڑی کسی بھی اعزاز کے لیے نامزد نہیں کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک سال کے عرصے میں پاکستان کی مجموعی کارکردگی کتنی ناقص رہی ہے۔ انفرادی اعزازات میں سعید اجمل اپنی نمایاں کارکردگی کی وجہ سے ضرور شامل ہوتے لیکن ان کے باؤلنگ ایکشن پر آئی سی سی نے رواں سال پابندی عائد کردی تھی، یوں وہ گزشتہ سال کے بعد امسال بھی یہ اعزاز حاصل نہیں کرپائیں گے۔

سعید اجمل کو نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر پچھلے سال بہترین کھلاڑی کا اعزاز نہیں ملا تھا، اب وہ سال بھر شاندار کارکردگی کے باوجود اپنا باؤلنگ ایکشن غیر قانونی قرار دیے جانے کی وجہ سے کسی اعزاز کے لیے نامزد تک نہیں ہوسکے (تصویر: AFP)

سعید اجمل کو نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر پچھلے سال بہترین کھلاڑی کا اعزاز نہیں ملا تھا، اب وہ سال بھر شاندار کارکردگی کے باوجود اپنا باؤلنگ ایکشن غیر قانونی قرار دیے جانے کی وجہ سے کسی اعزاز کے لیے نامزد تک نہیں ہوسکے (تصویر: AFP)

آئی سی سی کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، جس کی ایک نقل کرک نامہ کو بھی موصول ہوئی، سال کے بہترین کرکٹر کے اعزاز سر گارفیلڈ سوبرز ٹرافی کے لیے آسٹریلیا کے مچل جانسن اور سری لنکا کے کمار سنگاکارا ایک مرتبہ پھر مدمقابل ہیں جبکہ اسی اعزاز کے لیے موخر الذکر کے ہم وطن اینجلو میتھیوز اور جنوبی افریقہ کے ابراہم ڈی ولیئرز بھی امیدوار ہوں گے۔

اعزازات 26 اگست 2013ء سے 17 ستمبر 2014ء کے دوران بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو دیے جائیں گے جس میں مچل جانسن نے آٹھ ٹیسٹ مقابلوں میں 15.23 کے متاثر کن اوسط کے ساتھ 59 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ اس میں دو مرتبہ اننگز میں پانچ اور ایک مرتبہ میچ میں 10 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں ایک روزہ کرکٹ میں بھی 'مچ' کی کارکردگی ایسی ہی نمایاں ہے جنہوں نے 16 مقابلوں میں 21 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

دوسری جانب کمار سنگاکارا ہیں، جو 2012ء میں یہ اعزاز جیت چکے ہیں، اور مذکورہ عرصے کے دوران انہوں نے 11 ٹیسٹ مقابلوں میں چار سنچریوں اور نو نصف سنچریوں کی بدولت 1502 رنز بنائے جس میں ان کا اوسط 75 سے بھی زیادہ ہے۔ پھر 26 ایک روزہ مقابلوں میں بھی 'سنگا' نے تقریباً 42 کے اوسط اور تین سنچریوں اور سات نصف سنچریوں کے ساتھ 1046 رنز اسکور کیے ہیں۔

اگر مچل جانسن یا کمار سنگاکارا میں سے کوئی بھی یہ اعزاز جیتنے میں کامیاب ہوتا تو وہ تاریخ کا محض دوسرا کھلاڑی ہوگا جسے دو مرتبہ سال کے بہترین کرکٹر کا ایوارڈ ملے گا۔ اب تک آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے دو مرتبہ - 2006ء اور 2007ء میں- یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔

اس عرصے کے دوران سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے والوں میں دوسرے نمبر پر موجود سری لنکا کے کپتان اینجلو میتھیوز بھی اعزاز کے لیے مضبوط امیدوار ہیں۔ وہ 92.28 کے اوسط کے ساتھ 1292 ٹیسٹ اور تقریباً 54 کے اوسط کے ساتھ 28 ایک روزہ مقابلوں میں 965 رنز بنا چکے ہیں۔ نامزدگان میں چوتھے کھلاڑی جنوبی افریقہ کے ابراہم ڈی ولیئرز ہیں کہ جنہوں نے 10 ٹیسٹ میں 932 رنز اور 20 ایک روزہ مقابلوں میں 963 رنز بنائے ہیں۔

سال کے بہترین ٹیسٹ کھلاڑی کے اعزاز کے لیے بھی جانسن، میتھیوز اور سنگاکارا کا نام فہرست میں شامل ہے جن کا مقابلہ آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر کے ساتھ ہوگا۔

رواں سال آئی سی سی ایوارڈز میں 11 انفرادی انعامات اور سال کی بہترین ٹیسٹ اور ایک روزہ ٹیمیں بھی شامل ہیں۔

سال کے بہترین ایک روزہ کھلاڑی کے لیے جنوبی افریقہ کے نوجوان وکٹ کیپر کوئنٹن ڈی کوک کا مقابلہ ہم وطن ڈی ولیئرز اور ڈیل اسٹین کے علاوہ بھارت کے ویراٹ کوہلی سے ہوگا۔

ابھرتے ہوئے کھلاڑی کے لیے انگلستان کے گیری بیلنس اور بین اسٹوکس، نیوزی لینڈ کے کوری اینڈرسن اور جمی نیشام کو نامزد کیا گیا ہے۔

ہمیشہ کی طرح ایک انعام سال کی بہترین ٹی 20 کارکردگی پر بھی دیا جائے گا۔ مذکورہ عرصے کے دوران ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء بھی کھیلا گیا تھا جو اس طرز میں دنیا کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں پیش کی گئی ایلکس ہیلز اور رنگانا ہیراتھ کی کارکردگیوں کو اعزاز کی دوڑ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ہیلز نے سری لنکا کے خلاف مقابلے میں 116 رنز بنائے تھے جبکہ ہیراتھ نے نیوزي لینڈ کے خلاف 3 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اس کے علاوہ آرون فنچ کی انگلستان کے خلاف 156 رنز کی دھواں دار اننگز بھی ایوارڈ کی امیدوار ہوگی۔

پاکستان کی واحد نامزدگی سال کے بہترین امپائر کے اعزاز ڈیوڈ شیفرڈ ٹرافی کے لیے ہوگی کیونکہ آئی سی سی نے اپنے ایلیٹ پینل کے تمام ہی امپائروں کو اس اعزاز کے لیے امیدوار قرار دیا ہے۔

ذیل میں رواں سال پیش کردہ تمام اعزازات اور ان کے لیے نامزد کھلاڑیوں کی فہرست پیش کی جارہی ہے، حتمی فاتح کا اعلان 14 نومبر کو ایک اعلامیہ کے ذریعے کیا جائے گا۔

سال کے بہترین کرکٹر کے لیے سر گارفیلڈ سوبرز ٹرافی

ابراہم ڈی ولیئرز (جنوبی افریقہ)

مچل جانسن (آسٹریلیا)

اینجلو میتھیوز (سری لنکا)

کمار سنگاکارا (سری لنکا)

سال کا بہترین ٹیسٹ کھلاڑی

مچل جانسن (آسٹریلیا)

اینجلو میتھیوز (سری لنکا)

کمار سنگاکارا (سری لنکا)

ڈیوڈ وارنر (آسٹریلیا)

 سال کا بہترین ون ڈے کھلاڑی

کوئنٹن ڈی کوک (جنوبی افریقہ)

ابراہم ڈی ولیئرز (جنوبی افریقہ)

ویراٹ کوہلی (بھارت)

ڈیل اسٹین (جنوبی افریقہ)

 سال کی بہترین خاتون کھلاڑی

چارلوٹ ایڈورڈز (انگلستان)

متھالی راج (بھارت)

سارا ٹیلر (انگلستان)

اسٹیفنی ٹیلر (ویسٹ انڈیز)

ابھرتا ہوا کھلاڑی

کوری اینڈرسن (نیوزی لینڈ)

گیری بیلنس (انگلستان)

جمی نیشام (نیوزی لینڈ)

بین اسٹوکس (انگلستان)

 بہترین ایسوسی ایٹ و ایفیلیٹ کھلاڑی

کیلم میکلوڈ (اسکاٹ لینڈ)

پریسٹن مومسن (اسکاٹ لینڈ)

محمد نبی (افغانستان)

سمیع اللہ شنواری (افغانستان)

 سال کی بہترین ٹی 20 کارکردگی

ایلکس ہیلز (انگلستان) - 116 ناٹ آؤٹ (64 گیندیں، 11 چوکے، 6 چھکے) بمقابلہ سری لنکا، 27 مارچ 2014ء

آرون فنچ (آسٹریلیا) - 156 رنز (63 گیندیں، 11 چوکے، 14 چھکے) بمقابلہ انگلستان، 29 اگست 2013ء

رنگانا ہیراتھ (سری لنکا) - 3.3 اوورز، 2 میڈنز، 3 رنز، 5 وکٹیں، بمقابلہ نیوزی لینڈ، 31 مارچ 2014ء

سال کی بہترین خاتون ٹی20 کھلاڑی

چارلوٹ ایڈورڈز (انگلستان)

میگ لیننگ (آسٹریلیا)

متھالی راج (بھارت)

اسٹیفنی ٹیلر (ویسٹ انڈیز)

سال کے بہترین امپائر کے لیے ڈیوڈ شیفرڈ ٹرافی

آئی سی سی ایلیٹ پینل کے تمام امپائر اس اعزاز کے لیے نامزد ہیں

اسپرٹ آف کرکٹ ایوارڈ

اس کا اعلان 14 نومبر کو کیا جائے گا۔

Facebook Comments