پاکستان اور گیانا کا میچ کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم

ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل پاکستان کا واحد پریکٹس میچ بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم ہو گیا۔

مصباح الحق، جو ٹیم میں واپسی کے بعد سے بہترین فارم میں دکھائی دیتے ہیں

جارج ٹاؤن، گیانا میں کھیلے گئے دو روزہ میچ میں پاکستان نے کپتان مصباح الحق کی ناقابل شکست سنچری اننگ کی بدولت پہلی اننگ 330 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کی۔ پاکستان کی جانب سے اوپنرز محمد حفیظ اور ٹیسٹ اسکواڈ کے لیے ٹیم میں پہنچنے والے اظہر علی نے 92 رنز کا بہترین آغاز فراہم کیا ۔ دونوں کھلاڑیوں نے اپنی نصف سنچریاں مکمل کیں اور اننگ کو مزید آگے بڑھانے کی ذمہ داری مڈل آرڈر کو سونپ دی۔ محمد حفیظ نے 52 جبکہ اظہر علی نے 57 رنز بنائے۔ لیکن مڈل آرڈر میں سوائے کپتان مصباح کے کوئی پاکستانی بلے باز طویل اننگ نہ کھیل سکا۔ اسد شفیق نے 21 اور عمر اکمل نے 26 رنز کے ساتھ کسی حدتک کپتان کا ساتھ دیا لیکن یہ لوئر آرڈر میں عمر گل کی 40 رنز کی شاندار اننگ تھی جس نے پاکستان کے اسکور کو 330 رنز تک پہنچایا۔ دونوں نے آٹھویں وکٹ پر 86 رنز کی ناقابل شکست شراکت داری قائم کی۔ عمر گل سے قبل پاکستان محض 39 رنز پر اپنی چار وکٹیں کھو بیٹھا تھا لیکن دونوں کھلاڑیوں کی شراکت نے اننگ کو سنبھال لیا۔

مصباح الحق کی اننگ کی خاص بات ان کا غیر روایتی جارحانہ انداز تھا۔ انہوں نے اننگ میں 4 چھکے اور 7 چوکے لگائے اور گیانا کے آف اسپنر ظہیر محمد کو تو مسلسل تین گیندوں پر ایک چھکا اور ایک چوکا رسید کیا۔ انہوں نے اپنی سنچری محض 132 گیندوں پر مکمل کی۔

مصباح الحق ٹیم میں بطور ٹیسٹ کپتان واپسی کے بعد سے بہترین فارم میں ہیں۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز برابر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا جبکہ نیوزی لینڈ کے خلاف اسی کی سرزمین پر ٹیسٹ فتح میں بھی ان کی بلے بازی بہت اہم عنصر رہی۔ علاوہ ازیں جاری دورۂ ویسٹ انڈیز کے ایک روزہ میچز کے مرحلے میں بھی پاکستان کی فتوحات میں بنیادی کردار ان کی بلے بازی کا تھا۔

گیانا کی جانب سے عامر خان نے تین جبکہ ظہیر محمد نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ کیون جوزف اور رونزفورڈ بیٹن کو ایک، ایک وکٹ ملی۔

پاکستان کی جانب سے اننگ ڈکلیئر کیے جانے کے بعد گیانا نے اپنے کھیل کا آغاز کیا اور جب پہلے روز کم روشنی کے باعث کھیل ختم ہوا تو 25 کے مجموعی اسکور پر اس کا کوئی کھلاڑی آؤٹ نہ تھا۔ دوسرے و آخری روز گیانا نے اپنے کھیل کا دوبارہ آغاز کیا اور اوپنرز ٹریون گریفتھ اور شمروئے بیرنگٹن 77 رنز کا مستحکم آغاز فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ سعید اجمل نے بیرنگٹن کو ایل بی ڈبلیو کر کے اس شراکت داری کو توڑا۔ بیرنگٹن نے 58 رنز بنائے جبکہ گریفتھ 55 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔ اس کے بعد نارسنگھ دیونرائن اور چندرپال نے بھی بالترتیب 40 اور 44 رنز کے ساتھ اچھی اننگز کھیلیں اور جب دوسرا روز ختم ہوا تو گیانا 6 وکٹوں پر 252 رنز ہی بنا پایا۔ یوں میچ بغیر کسی فیصلے کے ختم ہو گیا۔

پاکستان کی جانب سے سعید اجمل نے 41 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ جنید خان، وہاب ریاض، تنویر احمد اورعبد الرحمن کو ایک، ایک وکٹ ملی۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیم میں بلائے گئے عمر گل 11 اوورز میں کوئی وکٹ حاصل نہ کر پائے۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا معرکہ جمعرات 12 مئی سے پروویڈنس، گیانا میں شروع ہو رہا ہے۔ جس میں گیانا سے تعلق رکھنے والے سینئر کھلاڑی شیونرائن چندرپال بھی ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں۔

Facebook Comments