میدانوں میں شعلہ زنی پر پابندی، کرکٹ آسٹریلیا کا فیصلہ

جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے مابین پہلے ٹی ٹوئنٹی کے دوران ایک حادثہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ کپتان آرون فنچ اس وقت ایک زبردست شعلے سے بال بال بچے جب وہ باؤنڈری لائن پار کرجانے والی گیند اٹھانے کے لیے جا رہے تھے۔ اس واقعے نے کھلاڑیوں کی حفاظت کے حوالے سے سوالات اٹھائے اور اب کرکٹ آسٹریلیا نے فیصلہ کیا ہے کہ نئے ضابطوں کے لاگو ہونے تک وہ میدان میں شعلہ پھینکنے والی مشینیں استعمال نہیں کرے گا۔

آرون فنچ اپنے قریب سے گزرنے والے آگ کے سرخ شعلے سے بال بال بچے (تصویر: Cricket Australia)

آرون فنچ اپنے قریب سے گزرنے والے آگ کے سرخ شعلے سے بال بال بچے (تصویر: Cricket Australia)

اس وقت جاری سیریز میں ہر چوکے اور چھکے پر باؤنڈری لائن سے باہر نصیب مشینیں رنگین شعلے اگلتی ہیں۔ جب پہلے ٹی ٹوئنٹی میں جنوبی افریقہ ہدف کا تعاقب کررہا تھا تو ایک گیند چوکے کے بعد ان مشینوں کے عین درمیان چلی گئی۔ گیند کا پیچھا کرنے والے آسٹریلوی کپتان آرون فنچ ایک لمحے کے لیے رکے کہ اب شاید مشین آگ اگلے، لیکن جب چند ثانیے تک کچھ نہیں ہوا تو وہ بے خطر گیند لینے کے لیے آگے بڑھ گئے، عین اسی وقت ایک مشین نے سرخ رنگ کی آگ پھینکی۔ فنچ کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچا لیکن یہ بہت خطرناک ہو سکتا تھا، جس پر بعد ازاں کپتان نے تشویش کا اظہار بھی کیا۔

کرکٹ آسٹریلیا نے اس واقعے پر آرون فنچ سمیت دیگر کھلاڑیوں سے بھی معذرت کی اور کہا کہ بورڈ کی اولین ترجیح کھلاڑیوں اور شائقین کی حفاظت ہے اور اب شعلہ زنی کے کسی بھی سامان کو چلانے کے لیے نئے ضابطے بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس وقت تک کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے ہم آئندہ کچھ عرصے تک آگ کا کوئی سامان میدان میں استعمال نہیں کریں گے۔

Facebook Comments