پی سی بی چار اسٹیڈیم ضلعی انتظامیہ کے حوالے کرنے کا خواہشمند

ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کے عدم انعقاد اور اس کے نتیجے میں ہونے والے مالی خسارے کو کم کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی نئی انتظامیہ نے چند اہم فیصلے کرنے کی ٹھان لی ہے اور اس سلسلے کا ایک قدم چار بین الاقوامی اسٹیڈیمز ضلعی انتظامیہ کے سپرد کرنا ہوگا۔

بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ اسٹیڈیمز کو سنبھالنا بورڈ کے لیے مالی طور پر پریشان کن ہے (تصویر: AFP)

بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ اسٹیڈیمز کو سنبھالنا بورڈ کے لیے مالی طور پر پریشان کن ہے (تصویر: AFP)

اچھے دنوں میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی اور حیدرآباد کے اسٹیڈیمز ضلعی انتظامیہ سے اپنی تحویل میں لے لیے تھے اور ان کے تمام تر انتظامات پی سی بی کی ذمہ داری ہیں۔ لیکن ذرائع کے مطابق اب ان چاروں شہروں کے یہ تاریخی میدان ایک مرتبہ پھر ضلعی انتظامیہ کے حوالے کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

ماضی قریب میں ضلعی انتظامیہ نے حیدرآباد کے تاریخی نیاز اسٹیڈیم کی جو درگت بنائی تھی، اور وہاں میدان کے وسط میں جس طرح شادی کی تقریبات منعقد کی جاتی تھیں، وہ پاکستان کے کرکٹ میدانوں کی زبوں حالی کا ثبوت تھی۔ ذرائع ابلاغ میں خبریں نمایاں ہونے کے بعد ہی پاکستان نے اس میدان کو واپس اپنی تحویل میں لے لیا تھا لیکن اب بورڈ کا یہ فیصلہ ان چاروں اہم میدانوں کی حالت دوبارہ بگاڑ سکتا ہے۔ ان اسٹیڈیمز کی واپسی کے بعد اب تعینات شدہ عملے کی خدمات بھی ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہوں گی۔

حیران کن بات یہ ہے کہ ایک طرف پاکستان کرکٹ بورڈ اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی معیار کے اسٹیڈیم کی تعمیر کررہا ہے اور میرپور، آزاد کشمیر اور ایبٹ آباد کے میدانوں کو معیاری بنانے کی باتیں ہیں، لیکن دوسری طرف ان چار اہم ترین اسٹیڈیمز کو دوبارہ زبوں حالی کا شکار کرنے کا سامان بھی کیا جا رہا ہے۔

Article Tags

Facebook Comments