پاکستان اور نیوزی لینڈ کے یادگار ٹیسٹ مقابلے – قسط 1

پاکستان متحدہ عرب امارات میں حالیہ یادگار فتوحات کے باوجود آسٹریلیا کے خلاف بھیانک ترین ریکارڈ رکھتا ہے۔ پاکستان نے 58 سالوں میں کینگروز کے خلاف کل 59 ٹیسٹ مقابلے کھیلے اور حالیہ کلین سویپ کو ملا کر صرف 14 میچز ہی جیت پایا، جبکہ اس کے مقابلے میں آسٹریلیا نے 28 فتوحات حاصل کر رکھی ہیں۔ بس پاکستان اور نیوزی لینڈ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں پاکستان ویسی ہی برتری رکھتا ہے، جو آسٹریلیا پاکستان پر رکھتا ہے۔

نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان نے 59 سالوں میں کل 51 ٹیسٹ مقابلے کھیلے ہیں، جن میں سے 23 میں فتح نے پاکستان کے قدم چومے ہیں جبکہ صرف 7 میچز میں نیوزی لینڈ کو کامیابی نصیب ہوئی ہے۔ جس طرح پاکستان 20 سال بعد آسٹریلیا کے خلاف کوئی ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب ہوا، بالکل اسی طرح نیوزی لینڈ بھی گزشتہ 29 سالوں سے پاکستان کو زیر کرنے میں ناکام رہا ہے۔

لیکن اس یکطرفہ ریکارڈ کے باوجود پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین تاریخ میں چند بہت دلچسپ مقابلے کھیلے گئے۔ جب تک کہ ابوظہبی ٹیسٹ کا نتیجہ آئے تب تک ہم آپ کو پاکستان اور نیوزی لینڈ کے چند یادگار ٹیسٹ مقابلوں کے بارے میں بتاتے چلیں کہ جن کی یادیں آج بھی ان مقابلوں کو براہ راست دیکھنے یا سننے والے شائقین کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔

اگر کسی ایک مقابلے کو پاک-نیوزی لینڈ تاریخ کے دلچسپ ترین مقابلہ منتخب کیا جائے تو یہ فروری 1985ء کا ڈنیڈن ٹیسٹ ہوگا کہ جہاں نیوزی لینڈ نے تاریخی مزاحمت کے بعد صرف دو وکٹوں سے میچ جیت لیا اور سیریز بھی اپنے نام کرلی لیکن یہ میچ پاکستان کے ایک عظیم کھلاڑی کی آمد کا اعلان ثابت ہوا۔ یہ 'سوئنگ کے سلطان' وسیم اکرم کا پہلا بین الاقوامی دورہ تھا جس کے تیسرے و آخری مقابلے میں وسیم اکرم کو دوسری بار ٹیسٹ کھلایا گیا۔

پاکستان کی پہلی اننگز 274 رنز پر مکمل ہوئی تو پاکستان کو ضرورت تھی کہ وہ نیوزی لینڈ پر برتری حاصل کرے اور نوجوان وسیم اکرم نے جان ریڈ، مارٹن کرو اور جیف کرو کی وکٹیں حاصل کرکے نیوزی لینڈ کے مڈل آرڈر کی کمر توڑ کر رکھ دی اور آخر میں لانس کیرنز کی وکٹ حاصل کرکے اننگز میں پہلی بار پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ پاکستان کو دراصل اس میچ میں شکست بلے بازوں کی ناقص کارکردگی کی بدولت ہوئی۔ دوسری اننگز میں سوائے قاسم عمر کے 89 رنز کے کوئی بیٹسمین قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکا۔ مدثر نذر، کپتان جاوید میانداد، ظہیر عباس اور سلیم ملک کی اننگز تو دہرے ہندسے میں بھی داخل نہ ہوسکی۔

بہرحال، پہلی اننگز کی 54 رنز کی برتری کی بدولت پاکستان نیوزی لینڈ کو 278 رنز کا ہدف دینے میں کامیاب ہوگیا۔ کپتان جیف ہاورتھ، جان ریڈ اور جیف کرو ایک مرتبہ پھر وسیم اکرم کا نشانہ بنے اور دوسرے اینڈ سے عظیم حفیظ نے جان ریڈ کو آؤٹ کیا جس کے ساتھ نیوزی لینڈ صرف 23 رنز پر چار وکٹوں سے محروم ہوگیا۔ مقابلہ پاکستان کی گرفت میں دکھائی دیتا تھا لیکن مارٹن کرو اور جیریمی کونی کی 157 رنز کی شراکت داری نے نیوزی لینڈ کے لیے امید کی پہلی کرن روشن کی۔ مارٹن کرو 232 منٹوں کی مزاحمت کے بعد بالآخر طاہر نقاش کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ 12 چوکوں پر مشتمل اننگز میں مارٹن نے 84 رنز بنائے۔

جب نیوزی لینڈ کی اننگز نے 200 کا ہندسہ عبور کیا اور وسیم اکرم اپنے عروج پر آ گئے۔ انہوں نے وکٹ کیپر این اسمتھ کو کپتان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرایا اور پھر لانس کیرنز کو ایک زبردست باؤنسر کے ذریعے ڈھیر کردیا۔ لانس میدان سے باہر گئے اور کھوپڑی میں معمولی فریکچر کی وجہ سے پھر دوبارہ میدان میں واپس نہ اتر سکے۔ جب برینڈن بریسویل آؤٹ ہوئے تو نیوزی لینڈ جیت سے 50رنز کے فاصلے پر تھا۔ کہنے کو تو 2 وکٹیں باقی تھیں، لیکن لانس کیرنز کی حالت ہرگز دوبارہ بیٹنگ کے قابل نہ تھی، یعنی اب جیریمی کونی اور ایوین چیٹ فیلڈ ہی آخری سپاہی تھے۔ دونوں نے وسیم اکرم اور ہمنوا گیندبازوں کا جم کر مقابلہ کیا اور بالآخر اننگز کے 100 ویں اوور میں فاتحانہ رن دوڑ کر پاکستان کے لیے خلاف ایک یادگار فتح حاصل کی۔ کونی 111 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے جبکہ چیٹ فیلڈ نے 84 گیندوں پر 21 رنز کے ساتھ ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ نیوزی لینڈ کو میچ کے ساتھ سیریز بھی مل گئی لیکن پاکستان کو وسیم اکرم ملا، جسے مرد میدان کا اعزاز بھی دیا گیا۔

آئندہ چند دنوں میں ہم آپ کو پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مزيد یادگار مقابلوں کے بارے میں بتائیں گے، اس لیے کرک نامہ پر نظر رکھیے گا۔

Facebook Comments