نیوزی لینڈ کا حشر بھی آسٹریلیا جیسا، پاکستان پھر جیت گیا

آسٹریلیا کے خلاف سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا، مصباح الیون نے بالکل وہیں سے جوڑتے ہوئے نیوزی لینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ 248 رنز کے بھاری مارجن سے جیت لیا اور تین مقابلوں کی سیریز میں ایک-صفر کی برتری حاصل کرلی۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے ہاتھ 'جیت کا نسخہ' لگ گیا ہے کیونکہ نیوزی لینڈ کے خلاف بھی بالکل اسی ترکیب کا استعمال کیا گیا جو کہ آسٹریلیا کے مقابلے میں آزمائی گئی تھی اور نتیجہ ایک اور بڑی جیت کی صورت میں نکلا۔ پہلے بیٹنگ، تمام بلے بازوں کی شاندار کارکردگی کے ذریعے ایک بڑے مجموعے کا حصول، پھر حریف کو اپنی باؤلنگ کے ذریعے دیوار سے لگانا، لیکن فالو-آن پر مجبور نہ کرنا، دوبارہ بیٹنگ کرکے مقابلے کو حریف کی گرفت سے باہر کردینا اور پھر بڑے ہدف کے دباؤ تلے مقابل بیٹسمینوں کو ایک مرتبہ پھر ڈھیر کرکے مقابلہ جیت لینا۔ آسان ہے نا؟ 🙂

شاندار بیٹنگ اور راحت علی کی یادگار باؤلنگ نے پاکستان کی فتح کو پہلی اننگز میں ہی یقینی بنا دیا تھا (تصویر: Getty Images)

شاندار بیٹنگ اور راحت علی کی یادگار باؤلنگ نے پاکستان کی فتح کو پہلی اننگز میں ہی یقینی بنا دیا تھا (تصویر: Getty Images)

ویسے اس اس جیت کے ساتھ ہی مصباح الحق پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان بن گئے ہیں، جن کی کل فتوحات کی تعداد اب 15 ہوچکی ہے۔ یوں وہ عمران خان اور جاوید میانداد کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سب سے زیادہ ٹیسٹ جیتنے والے پاکستانی قائد ہیں۔

ابوظہی میں ہونے والےسیریز کے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان نے ایک مرتبہ پھر ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور پہلے ہی دن ظاہر کردیا کہ وہ نیوزی لینڈ کے مقابلے میں بھی رحم کا کوئی جذبہ نہیں رکھتا۔ محمد حفیظ اور احمد شہزاد کے درمیان 178 رنز کی افتتاحی شراکت داری نے ایسی بنیاد فراہم کی جس کا نتیجہ پانچویں دن ایک شاندار جیت کی صورت میں نکلا۔ محمد حفیظ، جن پر کارکردگی دکھانے کے لیے سخت دباؤ تھا، بہترین کھیلے۔ جب احمد شہزاد وکٹ پر جمے رہنے کو ترجیح دے رہے تھے تو اسکور کو متحرک کرنے کا سارا فریضہ حفیظ نے انجام دیا۔ وہ بہت بدقسمت رہے کہ صرف 4 رنز کے فرق سے چھٹی ٹیسٹ سنچری نہ بنا سکے اور کوری اینڈرسن کی ایک دھیمی گیند پر انہی کو کیچ دے بیٹھے۔ صرف 137 گیندوں پر 10 چوکوں سے مزین 96 رنز کی اننگز تمام ہوئی اور اس کے بعد احمد شہزاد کو اظہر علی کی صورت میں دوسرا قابل اعتماد ساتھی ملا۔ دونوں نے دوسرے روز کھانے کے وقفے سے پہلے تک مزید 169 رنز جوڑ دیے۔ نیوزی لینڈ کے باؤلرز اور فیلڈرز ڈیڑھ دن سخت گرمی میں کھیلتے ہوئے ہانپ رہے تھے۔ احمد شہزاد ڈبل سنچری کی جانب گامزن تھے اور ان کا اعتماد بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ اسی حد درجہ خود اعتمادی نے انہیں اس وقت سخت نقصان پہنچایا جب کھانے کے وقفے سے پہلے کوری اینڈرسن کا ایک اٹھتا ہوا باؤنسران کے ہیلمٹ پر لگا، بلّا ان کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور وہ گر پڑے۔ ہٹ وکٹ آؤٹ تو ہوئے ہی لیکن بعد میں کنپٹی کے ساتھ کھوپڑی میں معمولی فریکچر نے انہیں سیریز ہی سے باہر کردیا۔ 371 گیندوں پر کھیلی گئی اننگز 176 رنز پر ختم ہوئی۔ احمد شہزاد نے کیریئر کی اس بہترین اننگز میں ایک چھکا اور 17 چوکے لگائے۔ حفیظ سنچری سے، احمد شہزاد ڈبل سنچری سے محروم ہوئے تو اظہر علی بھی اسی بدقسمت فہرست میں آ گئے۔ وہ 87 رنز بنانے کے بعد ایش سودھی کی ایک ناقابل یقین گیند پر بولڈ ہوئے۔ البتہ تجربہ کار یونس خان اور مصباح الحق نے ضرور اپنی سنچریاں مکمل کیں۔ دونوں نے چوتھی وکٹ پر 193 رنز کی ناقابل شکست پارٹنرشپ بنائی اور پہلی اننگز صرف 3 وکٹوں پر 566 رنز کے ساتھ ڈکلیئر کردی۔

نیوزی لینڈ کے باؤلرز حال سے بے حال ہوچکے تھے۔ کوری اینڈرسن نے دو اور سودھی نے ایک وکٹ لی لیکن رنز سب کو ٹھیک ٹھاک پڑے۔ 162 رنز سودھی نے دیے جبکہ مارک کریگ نے 126 رنز کھائے۔ یعنی دونوں اہم اسپن گیندبازوں ہی نے 288 رنز دیے۔

پاکستان کا باؤلنگ اٹیک، جسے آسٹریلیا کے خلاف سیریز سے پہلے دنیا کی کمزور ترین باؤلنگ لائن اپ سمجھا جا رہا تھا، اپنے اعتماد کی بدولت ایک مرتبہ پھر چھا گیا۔ سوائے ٹام لیتھم کے کوئی نیوزی لینڈ کا گیندباز اس کے مقابلے میں زیادہ دیر جم نہیں سکا۔ لیتھم نے کیریئر کی پہلی سنچری بنائی لیکن دوسرے اینڈ سے یہ حال تھا کہ 47 رنز پر ہی برینڈن میک کولم، کین ولیم سن اور روس ٹیلر جیسے اہم ترین بلے باز آؤٹ ہوچکے تھے۔ دو کو ذوالفقار بابر نے واپسی کی راہ دکھائی جبکہ ایک کو راحت علی نے بولڈ کیا۔

لیتھم اور اینڈرسن نے 83 رنز کے ذریعے کچھ مزاحمت کی لیکن راحت علی، جو ناقابل یقین باؤلنگ کررہے تھے، نصف سنچری کے قریب پہنچنے والے اینڈرسن کو بھی بولڈ کردیا۔ انہوں نے 48 رنز بنائے۔ اس کے بعد انہوں نے لیتھم کو ٹھکانے لگایا جو 103 رنز بنانے کے بعد راحت کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ آخری چار وکٹوں نے 47 رنز کا اضافہ کیا اور نیوزی لینڈ کی پہلی اننگز 262 رنز پر مکمل ہوگئی۔

راحت علی نے 17 اوورز میں صرف 22 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ تین وکٹیں ذوالفقار بابر نے حاصل کیں۔ ایک، ایک کھلاڑی کو محمد حفیظ اور یاسر شاہ نے آؤٹ کیا۔

پاکستان نے نیوزی لینڈ کو فالو-آن پر مجبور نہیں کیا اور ایک مرتبہ پھر اپنی بیٹنگ صلاحیتیں ثابت کیں۔ شاید اس لیے کہ کہیں کوئی یہ نہ سمجھے کہ پاکستانی بلے باز اتفاقی طور پر کھیل رہے ہیں کیونکہ دوسری اننگز میں بھی انہوں نے صرف دو وکٹوں پر 175 رنز جوڑ ڈالے۔ محمد حفیظ جو پہلی اننگز میں سنچری سے محروم رہ گئے تھے، اس مرتبہ پچھلی غلطی نہیں دہرائی اور کیریئر کی چھٹی سنچری مکمل کی۔ 130 گیندوں پر 101 رنز کی شاندار باری مکمل ہوئی تو پاکستان نے اننگز کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کو 480 رنز کا ہدف دیا۔

پہلی اننگز میں 96 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد محمد حفیظ دوسری اننگز میں سنچری بنانے میں کامیاب رہے (تصویر: Getty Images)

پہلی اننگز میں 96 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد محمد حفیظ دوسری اننگز میں سنچری بنانے میں کامیاب رہے (تصویر: Getty Images)

نیوزی لینڈ نے آغاز بہت تیز لیا۔ جن پاکستانی شائقین کے ہاتھ پیر بہت جلد پھول جاتے ہیں، وہ پریشان ہوتے نظر آئے کہ شاید پاکستان نے بہت بڑا ہدف نہیں دیا کیونکہ ابھی خاصے اوورز باقی تھے۔ صرف 13 اوورز میں 57 رنز اوپنرز ہی نے اکٹھے کر ڈالے لیکن جیسے ہی گیند اسپنرز کے ہاتھوں میں آئی، مقابلہ نیوزی لینڈ کی گرفت سے نکلتا چلا گیا۔ چار اوورز میں تین بلے باز میدان سے لوٹ گئے جن میں پہلی اننگز کے سنچورین ٹام لیتھم، کپتان برینڈن میک کولم اور روس ٹیلر شامل تھے۔ لیتھم کو ذوالفقار بابر کی گیند پر یاسر شاہ کے ایک شاندار کیچ نے واپسی پر مجبور کیا، جس کے بعد 'شاہ صاحب' نے اپنے مسلسل دو اوورز میں میک کولم اور ٹیلر کو ٹھکانے لگا کر پاکستان کو میچ پر حاوی کردیا۔ کین ولیم سن اور کوری اینڈرسن نے 42 رنز جوڑے جس کے بعد ایک اور 'وکٹیں دو' مرحلہ آیا۔ اس مرتبہ ولیم سن، جمی نیشام، بریڈلے-جان واٹلنگ، اینڈرسن اور ٹم ساؤتھی پاکستان کے جال میں پھنسے۔ ولیم سن حفیظ کی گیند پر وکٹ کیپر سرفراز احمد کی پھرتی کی بدولت اسٹمپڈ ہوئے۔ نیشام اور واٹلنگ ایک ہی اوور میں راحت علی کے ہتھے چڑھے جبکہ اینڈرسن عمران خان کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔138 رنز اور 8 آؤٹ!! ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مقابلہ چوتھے روز ہی مکمل ہوجائے گا لیکن آخری بلے بازوں نے پاکستان کو کافی دیر تک جیت سے روکے رکھا۔ انہوں نے دن کے اختتام تک اسکور میں 40 رنز کا اضافہ بھی کیا اور وکٹ بھی نہیں دی۔ نیوزی لینڈ کی آخری دو وکٹوں نے مجموعی طور پر 31 اوورز تک مزاحمت کی، جس میں آخری وکٹ پر 54 رنز کی شراکت داری بھی شامل رہی۔ ایش سودھی نے اپنے کیریئر کے بہترین 63 رنز بنائے جبکہ مارک کریگ 28 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ نیوزی لینڈ کی دوسری اننگز عمران خان کے ہاتھوں سودھی کے ایل بی ڈبلیو سے مکمل ہوئی اور پاکستان جیت گیا۔

یاسر شاہ نے 74 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ دو، دو کھلاڑیوں کو راحت علی، عمران خان اور ذوالفقار بابر نے آؤٹ کیا۔ ایک وکٹ محمد حفیظ کے ہاتھ لگی۔

راحت علی کو دونوں اننگز میں شاندار باؤلنگ کروانے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ کئی کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ ایوارڈ شاید کئی لوگوں کے لیے حیران کن ہو لیکن یہ ضرور دیکھیں کہ ایک ایسی وکٹ پر جو بلے بازوں کی جنت تھی وہاں ایک فاسٹ باؤلر کا ایسی کارکردگی دکھانا واقعی اس اعزاز کا مستحق بناتا ہے۔

اب دونوں ٹیموں کا دوسرا ٹیسٹ 17 نومبر سے دبئی میں شروع ہوگا۔

Facebook Comments