مصباح الحق پاکستان کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان بن گئے

مصباح الحق نے چند روز پہلے آسٹریلیا کے خلاف ایک سنگ میل عبور کرتے ہوئے عمران خان کو پیچھے چھوڑا تھا، جب وہ کپتان کی حیثیت سے پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بنے تھے، لیکن اب نیوزی لینڈ کے خلاف ابوظہبی ٹیسٹ میں شاندار جیت کے ساتھ وہ پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان بھی بن چکے ہیں۔

مصباح الحق 15 ٹیسٹ فتوحات کے ساتھ اب پاکستان کرکٹ تاریخ کے کامیاب ترین کپتان بن گئے ہیں (تصویر: AFP)

مصباح الحق 15 ٹیسٹ فتوحات کے ساتھ اب پاکستان کرکٹ تاریخ کے کامیاب ترین کپتان بن گئے ہیں (تصویر: AFP)

آسٹریلیا کے خلاف کلین سویپ فتح کے بعد مصباح الحق کی ٹیسٹ فتوحات کی تعداد 14 ہوچکی تھی، اور وہ عمران خان اور جاوید میانداد کے برابر آ گئے تھے۔ اب نیوزی لینڈ کے خلاف جیت نے اس کو 15 تک پہنچا دیا ہے یعنی وہ کسی بھی پاکستانی کپتان کے مقابلے میں سب سے زیادہ ٹیسٹ جیتنے والے قائد بن گئے ہیں۔

مصباح الحق نے 2010ء میں اس وقت پاکستان کی قیادت کا کانٹوں بھرا تاج پہنا تھا، جب سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی پابندیوں کی زد میں آ رہے تھے۔ ٹیم کا شیرازہ بکھر رہا تھا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اتنے بڑے تنازع کے بعد اب شاید ہی پاکستانی کرکٹ کبھی دوبارہ سر اٹھا سکے۔ لیکن مصباح کے ٹھنڈے مزاج، دھیمے لہجے اور مضبوط اعصاب نے پاکستان کو صرف چار سالوں میں عالمی درجہ بندی میں تیسرے درجے پر پہنچا دیا ہے اور اس دوران کئی ایسے تاریخی کارنامے بھی انجام دیے، جن تک آج تک کوئی پاکستانی کپتان نہیں پہنچ سکا۔ جیساکہ 2012ء کے اوائل میں انگلستان کے خلاف کلین سویپ جیت۔ پھر ابھی آسٹریلیا کے خلاف 20 سال بعد سیریز جیتنا بھی ایسا ہی یادگار لمحہ تھی، جسے مدتوں یاد کیا جائے گا۔

مصباح الحق سے پہلے سب سے زیادہ فتوحات حاصل کرنے والے پاکستانی کپتان عمران خان کا قائدانہ عہد کل 10 سال پر محیط تھا۔ انہوں نے 1982ء میں پاکستان کی قیادت سنبھالی تھی اور پھر 1992ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ انہیں سب سے زیادہ ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی قیادت کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ انہوں نے بحیثیت قائد 48 مقابلے کھیلے اور 14 میں فتوحات حاصل کیں جن میں آسٹریلیا کے خلاف کلین سویپ اور پھر بھارت کے خلاف 1983ء اور 1987ء کی تاریخی فتوحات بھی شامل ہیں۔ انہی کے عہد میں پاکستان نے انگلستان کو اسی کی سرزمین پر جاکر شکست دی۔ ان فتوحات کی بدولت ٹیسٹ کرکٹ میں بھی عمران خان پاکستان کے کامیاب ترین کپتان بنے یہاں تک کہ ان کے جانشیں جاوید میانداد نے یہ ریکارڈ برابر کیا۔ میانداد کو 34 میچز میں پاکستان کی قیادت کا شرف حاصل ہوا، جن میں انہوں نے بھی 14 ہی فتوحات حاصل کیں۔ 1992ء کے دورۂ انگلستان کی جیت ان کے قائدانہ عہد کا سب سے شاندار لمحہ تھی۔

مصباح الحق نے اپنے کیریئر میں عمران اور جاوید دونوں سے کم ٹیسٹ مقابلے کھیلے ہیں اور اس سے بھی کم مقابلوں میں قیادت کی لیکن فتوحات دونوں سے زیادہ پائیں۔ اس کی ایک وجہ تو شاید دورجدید میں فیصلہ کن ٹیسٹ مقابلوں کی تعداد میں اضافہ ہونا ہے۔ اب شاذونادر ہی ایسا کوئی ٹیسٹ دیکھنے کو ملتا ہے جو بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہو۔ پھر بھی جیت تو جیت ہی ہوتی ہے۔ مصباح نے 32 مقابلوں میں پاکستان کی قیادت کی اور 15 جیتے۔ اس میں نیوزی لینڈ کے خلاف 2011ء میں اوائل میں حاصل کی پہلی جیت سے لے کر اب ابوظہبی میں اسی ٹیم کے خلاف حاصل کی گئی حالیہ فتح بھی شامل ہے۔ اس دوران مصباح الیون نے تین سرفہرست ٹیموں کے خلاف بھی شاندار کارکردگی دکھائی۔ 2012ء میں انگلستان اور آسٹریلیا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کلین سویپ فتوحات حاصل کیں اور جنوبی افریقہ کے خلاف دو مرتبہ ٹیسٹ سیریز برابر کھیلیں۔

پھر اس دوران مصباح کی انفرادی کارکردگی بھی بہت عمدہ رہی۔ انہوں نے کپتان کی حیثیت سے 32 ٹیسٹ میچز میں 63.09 کے اوسط کے ساتھ 2650 رنز بنائے ہیں۔

مصباح نے جتنے ممالک کے خلاف پاکستان کی قیادت کی، سب کے خلاف کم از کم ایک ٹیسٹ مقابلہ ضرور جیتا ہے اور یہ تمام کارنامے انہوں نے اپنے ملک سے باہر انجام دیے ہیں کیونکہ پاکستان میں پچھلے ساڑھے 5 سالوں سے کوئی بین الاقوامی کرکٹ نہیں کھیلی جارہی۔ جنوبی افریقہ ہو یا آسٹریلیا، انگلینڈ ہو یا نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز ہو یا سری لنکا، جو بھی ٹیم پاکستان کے مقابل آئی اسے کم از کم ایک مرتبہ شکست کا ذائقہ ضرور چکھنا پڑا ہے۔ ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک میں صرف بھارت ایسا ملک ہے جو ابھی تک پاکستان سے کوئی ٹیسٹ نہیں ہارا، کیونکہ وہ پچھلے 7 سالوں سے پاکستان سے ٹیسٹ سیریز کھیل ہی نہیں رہا۔ اگر اگلے سال دسمبر میں طے شدہ پاک-بھارت سیریز ہوئی، اور مصباح الحق اس وقت تک پاکستان کے کپتان بھی رہے تو غالب امکان ہے کہ مصباح تمام ٹیسٹ ممالک کے خلاف کم از کم ایک میچ جیتنے والے انوکھے کپتان بن جائیں گے۔امکانات کم ہیں، لیکن امید پر دنیا قائم ہے۔

پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان

کپتان ملک مقابلے فتوحات شکستیں ڈرا جیت/شکست کا تناسب
مصباح الحق پاکستان 32 15 9 8 1.66
عمران خان پاکستان 48 14 8 26 1.75
جاوید میانداد پاکستان 34 14 6 14 2.33
انضمام الحق پاکستان 31 11 11 9 1.00
وسیم اکرم پاکستان 25 12 8 5 1.50

Facebook Comments