انفرادی درجہ بندی، پاکستانی کھلاڑی بلندیوں کی جانب گامزن

سال بھر کی مایوس کن کارکردگی کے بعد جب پاکستان کے اوسان خطا ہوچکے تھے، لیکن متحدہ عرب امارات میں تین یادگار فتوحات کے بعد اب ٹیم نہ صرف سنبھل چکی ہے بلکہ عالمی درجہ بندی میں بھی ایک شایان شان مقام پر کھڑی ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف کلین سویپ کے بعد پاکستان کو عالمی درجہ بندی میں تیسرا مقام مل گیا تھا تو وہیں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کی جیتنے انفرادی سطح پر بھی کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔

مصباح الحق اور یونس خان سرفہرست 10 بلے بازوں میں اپنا مقام مزید کرگئے ہیں (تصویر: Getty Images)

مصباح الحق اور یونس خان سرفہرست 10 بلے بازوں میں اپنا مقام مزید کرگئے ہیں (تصویر: Getty Images)

ابوظہبی ٹیسٹ کے خاتمے کے بعد تازہ ہونے والی عالمی درجہ بندی کے مطابق اچھی کارکردگی پیش کرنے والے تقریباً تمام ہی پاکستانی کھلاڑی درجہ بندی میں ترقی پا گئے ہیں۔ سب سے نمایاں مصباح الحق اور ساتھی بلے باز یونس خان ہیں، جن میں سے کپتان کیریئر کے بہترین ریٹنگ پوائنٹس تک پہنچ گئے ہیں۔ نئی درجہ بندی کے مطابق مصباح الحق 842 پوائنٹس کے ساتھ بلے بازوں میں آٹھویں درجے پر موجود ہیں۔ دوسری جانب یونس خان 867 پوائنٹس کے ساتھ دنیا کے پانچویں بہترین بلے باز ہیں۔ چوتھے نمبر پر اینجلو میتھیوز کو ان پر اب صرف 6 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔ یوں یونس خان کے پاس بہترین موقع ہے کہ وہ اسی سیریز میں چوتھے نمبر پر پہنچ جائیں۔ ٹیسٹ بلے بازوں کی درجہ بندی میں سری لنکا کے کمار سنگاکارا بدستور نمبر ایک بیٹسمین ہیں جن کے بعد جنوبی افریقہ کے ابراہم ڈی ولیئرز اور ویسٹ انڈیز کے شیونرائن چندرپال موجود ہیں۔

بلے بازوں کی درجہ بندی میں ترقی پانے والے دیگر پاکستانی بیٹسمینوں میں وکٹ کیپر سرفراز احمد دو درجے پھلانگ کر 31 ویں نمبر پر آ چکے ہیں جبکہ ابوظہبی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 176 رنز کی شاندار باری کھیلنے والے احمد شہزاد 18 درجے پھلانگ کر 29 ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔

گیندبازوں میں پاکستان کے پابندی کے شکار گیندباز سعید اجمل سرفہرست 10 میں ضرور موجود ہیں لیکن جلد ہی ان کا اس فہرست سے اخراج ہوجائے گا۔ لیکن ان کی جگہ لینے والے اسپنرز درجہ بندی میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ذوالفقار بابر 11 درجے ترقی پانے کے بعد 31 ویں جبکہ یاسر شاہ ان کے قریب 35 ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔ ابوظہبی ٹیسٹ میں مرد میدان کا اعزاز حاصل کرنے والے نوجوان راحت علی بھی 6 وکٹوں کی کارکردگی کی بدولت سرفہرست 50 گیندبازوں میں شامل ہوگئے ہیں۔

17 نومبر سے دبئی میں شروع ہونے والا دوسرا پاک-نیوزی لینڈ ٹیسٹ قومی کھلاڑیوں کو درجہ بندی میں آگے بڑھنے کے مزید مواقع دے گا، بشرطیکہ وہ پچھلے تین ٹیسٹ مقابلوں کی کارکردگی کو یہاں بھی دہرا پائیں۔

آپ تازہ ترین عالمی درجہ بندی کرک نامہ کے ان خصوصی صفحات پر دیکھ سکتے ہیں، جہاں ٹیسٹ کے علاوہ ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کی درجہ بندیاں بھی موجود ہیں۔

Facebook Comments