پہلی اننگز میں 400 رنز، نیوزی لینڈ کے لیے نیک شگون

مسلسل تین فتوحات حاصل کرنے کے بعد دبئی میں پاکستان بلند حوصلوں کے ساتھ میدان میں اترا لیکن صرف دو دن میں ہی پچھلے قدموں پر آ چکا ہے۔ ٹام لیتھم کی ایک اور شاندار سنچری کی بدولت نیوزی لینڈ نے پہلی اننگز میں ایسا ہندسہ عبور کرلیا ہے، جس کے بعد شاذونادر ہی اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس پر طرہ یہ کہ پاکستان صرف 34 رنز پر اپنے دونوں اوپنرز سے محروم ہوچکا ہے یعنی پہلی اننگز میں اب بھی 369 رنز کا خسارہ باقی ہے اور 8 وکٹیں باقی ہیں۔

نیوزی لینڈ نے جب آخری بار پاکستان کے خلاف پہلی اننگز میں 400 سے زیادہ رنز بنائے تھے تو 32 رنز سے ایک سنسنی خیز فتح حاصل کی تھی (تصویر: Getty Images)

نیوزی لینڈ نے جب آخری بار پاکستان کے خلاف پہلی اننگز میں 400 سے زیادہ رنز بنائے تھے تو 32 رنز سے ایک سنسنی خیز فتح حاصل کی تھی (تصویر: Getty Images)

نیوزی لینڈ کی پہلی اننگز کے دوران پاکستان اس وقت بہترین پوزیشن پر تھا جب اس نے 278 رنز پر ان کے 6 کھلاڑی آؤٹ کردیے تھے لیکن آخری چار وکٹوں نے کمال کی مزاحمت کی اور 125 رنز کا اضافہ کرکے اسکور کو 403 رنز تک پہنچا دیا۔ 400رنز وہ ہندسہ ہے، جسے پہلی اننگز میں عبور کرنے کے بعد نیوزی لینڈ کو تاریخ میں صرف دو بار شکست ہوئی ہے اور پاکستان کے خلاف تو وہ کبھی کوئی ایسا میچ میں نہیں ہارا جہاں اس نے پہلی اننگز میں 400 یا اس سے زیادہ رنز بنائے ہوں۔

نیوزی لینڈ نے اب تک 42 ایسے ٹیسٹ کھیلے ہیں، جن کی پہلی اننگز میں بلے بازوں نے 400 رنز جوڑے۔ ان میں سے 17 مقابلوں میں اس نے کامیابی حاصل کی اور صرف دو میں شکست کھائی ہے، جبکہ 23 مقابلے بغیر کسی نتیجے تک پہنچے اختتام پذیر ہوئے۔

اگر ہم تاریخ کے صفحات کھنگالیں تو نیوزی لینڈ کی جانب سے پہلی اننگز میں 400 سے زیادہ رنز بنانے کا پہلا اتفاق فروری 1968ء میں ہوا تھا جب کپتان گراہم ڈاؤلنگ کی شاندار ڈبل سنچری کی بدولت کیویز نے 502 رنز بنائے تھے اور آخر میں 6 وکٹوں سے فتح حاصل کی۔ بھارت کے خلاف چار ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز میں یہ نیوزی لینڈ کی واحد سیریز جیت تھی جس میں کپتان ڈاؤلنگ کے علاوہ ڈک موٹز کی تباہ کن باؤلنگ کا بھی اہم کردار تھا جس کی وجہ سے بھارت فالوآن کا شکار ہوا اور آخر میں نیوزی لینڈ کو صرف 88 رنز کا ہدف دے سکا۔

نیوزی لینڈ نے اپنی چند تاریخی فتوحات بھی پہلی اننگز میں بیٹنگ کے اس شاندار مظاہرے کے بعد حاصل کی ہیں۔ نومبر 1994ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ اور نومبر 2012ء میں سری لنکا کے خلاف کولمبو میں حاصل کردہ فتوحات پہلی اننگز میں 400 سے زیادہ رنز بنانے کے بعد ہی ملی تھیں۔  دوسری جانب اگر شکست کے پہلو کو دیکھا جائے تو جون 2004ء میں انگلستان کے خلاف ہیڈنگلے میں اور مارچ 2005ء میں آسٹریلیا کے خلاف کرائسٹ چرچ میں نیوزی لینڈ پہلی اننگز میں 400 سے زیادہ رنز جوڑنے کے باوجود میچ جیت نہ سکا۔ لیکن 42 میں سے صرف دو شکستیں ظاہر کرتی ہیں کہ پہلی اننگز میں بڑا مجموعہ اکٹھا کرنے کے بعد نیوزی لینڈ نے شاذونادر ہی میچ پر گرفت ڈھیلی کی ہے۔

ویسے پاکستان کے خلاف نیوزی لینڈ کا مجموعی ریکارڈ بہت ناقص ہے۔ 52 میں سے صرف 7 ٹیسٹ مقابلوں میں بلیک کیپس کو فتوحات حاصل ہوئی ہیں جن میں سے ایک شاندار فتح نومبر 2009ء میں پہلی اننگز میں 400سے زیادہ رنز بنا کر حاصل کی تھی۔ محمد یوسف کی زیر قیادت جب پاکستان نومبر 2009ء میں نیوزی لینڈ پہنچا تھا تو اس کا پہلا ٹیسٹ ڈنیڈن کے یونیورسٹی اوول میں کھیلا گیا تھا۔ نیوزی لینڈ نے پاکستان کی دعوت پر پہلے بلے بازی تھامی اور 429 رنز بنا کر محمد یوسف کے فیصلے کو غلط ثابت کردکھایا۔ اس اننگز میں نیوزی لینڈ کے دوبلے باز سنچری کے بہت قریب پہنچ کر محروم رہ گئے۔ پہلے روس ٹیلر روس ٹیلر 94 رنز بناکر سعید اجمل کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے اور پھر ڈینیل ویٹوری 99 رنز بنانے کے بعد عمر گل کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے دھر لیے گئے۔ اس کے علاوہ مارٹن گپٹل کے 60 اور وکٹ کیپر برینڈن میک کولم کے 78 رنز نے ٹیم کو ایک بڑے مجموعے تک پہنچانے میں مد دی۔

یہ عمر اکمل کا پہلا ٹیسٹ تھا، اور اپنے پہلے ہی امتحان میں انہوں نے خود کو ثابت کر دکھایا۔ پہلی اننگز میں اپنی شاندار سنچری اور بھائی کامران اکمل کے 82 رنز کے باوجود پاکستان 332 رنز تک ہی پہنچ سکا۔ ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر پاکستان کے باؤلرز ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکال لائے۔ دوسری اننگز میں محمد آصف اور محمد عامر کے سامنے نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم صرف 153 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور پاکستان کو جیتنے کے لیے 251 رنز کا ہدف ملا۔ لیکن ڈیبوٹنٹ عمراکمل کے علاوہ کوئی بلے باز نیوزی لینڈ کے باؤلرز کے سامنے ڈٹ نہ سکا اور پوری ٹیم 219 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ یوں نیوزی لینڈ نے یہ میچ 32 رنز سے جیت لیا۔

اب دبئی میں جاری ٹیسٹ میں پاکستان کے بلے بازوں پر ایک بہت بھاری ذمہ داری عائد ہے کہ وہ دبئی ٹیسٹ کے تیسرے روز ویسی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کریں جیسا کہ گزشتہ مقابلے میں اور اس سے پہلے آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں دکھاتے آئے ہیں، بصورت دیگر نیوزی لینڈ میچ پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرلے گا۔ اگر تاریخ نیوزی لینڈ کے ساتھ رہی تو کم از کم وہ مقابلے میں شکست تو نہیں کھا سکتا۔

آپ ذیل میں ملاحظہ کیجیے کہ پہلی اننگز میں 400 یا زیادہ رنز بنانے کے بعد پاکستان کے خلاف نیوزی لینڈ نے کیا نتائج حاصل کیے ہیں:

پہلی اننگز میں رنز میچ کا نتیجہ بمقابلہ بمقام بتاریخ
 نیو‍زی لینڈ 492 ڈرا  پاکستان ویلنگٹن جنوری 1985ء
نیو‍زی لینڈ 447 ڈرا پاکستان ویلنگٹن فروری 1989ء
نیو‍زی لینڈ 476 ڈرا پاکستان کرائسٹ چرچ مارچ 2001ء
نیو‍زی لینڈ 563 ڈرا پاکستان ہملٹن دسمبر 2003ء
نیو‍زی لینڈ 429 جیتا پاکستان ڈنیڈن نومبر 2009ء

Facebook Comments