بلیک کیپس اور گرین شرٹس مقابلے کیلیے تیار

نیوزی لینڈ اور پاکستان کے درمیان دوسرا اور آخری کرکٹ ٹیسٹ میچ 15 جنوری سے ویلنگٹن میں کھیلا جائے گا۔ دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں مہمان ملک کو 1-0 کی ناقابل شکست برتری حاصل ہے۔ جو اسے ٹیسٹ میچ کے تیسرے ہی دن 10 وکٹوں سے نیوزی لینڈ کو شکست دے کر حاصل ہوئی۔

پہلے ٹیسٹ کی شاندار جیت کے بعد پاکستانی ٹیم کے حوصلہ بلند دکھائی دیتے ہیں۔ کپتان مصباح الحق ٹیسٹ کرکٹ میں نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کے بہترین ریکارڈ کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ میچ کے بے نتیجہ خاتمے کے برعکس گزشتہ میچ کی طرح فتح کے حصول کی کوشش کریں گے۔ توقع ہے کہ دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستانی پہلے میچ کی فاتح ٹیم ہی میدان میں اتارے گا۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کوچ جان رائٹ اپنی ٹیم کے بلے بازوں سے خوش نہیں۔ انہوں نے بلے بازوں کا کارکردگی بہتر بنانے کی خصوصی ہدایت دیتے ہوئے آئندہ میچ میں بڑا اسکور کرنے اور مخالف ٹیم کو مشکل وقت دینے پر زور دیا ہے۔ یاد رہے کہ سیڈن پارک میں کھیلے گئے ٹیسٹ کی دوسری اننگ میں نیوزی لینڈ کے بیٹسمین صرف 110 رنز کا مجموعہ جوڑ سکے جس کے بعد پاکستان نے مطلوبہ ہدف باآسانی حاصل کرلیا تھا۔ دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے اوپنر ٹم میکنٹوش کی جگہ جیمز فرینکلن کو شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

ویلنگٹن ٹیسٹ کے لیے تیار کی گئی پچ بلے بازوں کے لیے مشکلات جبکہ بالرز کے لیے بہتر ثابت ہوسکتی ہے۔ پچ پر فاسٹ بالر خصوصاً سیمرز کو زیادہ مدد ملنے کا امکان ہے۔ گراسی وکٹ بیک وقت دونوں ٹیموں کے لیے مشکل اور مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔ اضافی و تیز باؤنس اور سیم کے باعث بلے بازوں کو بہت زیادہ سنبھل کر کھیلنا ہوگا۔

دورہ نیوزی لینڈ کے دوران پاکستان نے میزبان ملک کے خلاف اب تک مجموعی طور 12 ٹیسٹ سیریز کھیلی ہیں جن میں سے 6 میں پاکستان اور صرف 1 میں نیوزی لینڈ کو فتح حاصل ہوئی جبکہ 5 ٹیسٹ سیریز بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئیں۔ ویلنگٹن کے کرکٹ گراؤنڈ پر بھی پاکستان کا سابقہ ریکارڈ بہت شاندار ہے۔ پچھلے بیس سالوں میں پاکستان نے یہاں تین ٹیسٹ میچز کھیلے اور تمام میں فتح حاصل کی۔ اس لحاظ سے نیوزی لینڈ میں دونوں ممالک کے درمیان کھیلی جانے والی سیریز میں پاکستان کو نفسیاتی برتری حاصل ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اپنی گزشتہ شاندار کارکردگی برقرار رکھتے ہوئے 2006ء کے بعد پہلی مرتبہ کسی ٹیسٹ سیریز میں فتح حاصل کرتا ہے یا بلیک کیپس اپنے اوپر چھائے شکست کے گہرے بادلوں کو کسی حد تک منتشر کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

Facebook Comments