سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کی دوسری جانچ میں حوصلہ افزاء نتائج

جیسے جیسے عالمی کپ نزدیک آتا جا رہا ہے، پاکستان کے "پابند" اسپنر سعید اجمل کی بے تابی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ 37 سالہ آف اسپن گیندباز اپنے نئے باؤلنگ ایکشن کی 'غیر سرکاری' جانچ کے لیے اس وقت برطانیہ میں موجود ہیں اور دوسرے تجربے میں سوائے "دوسرا" کے ان کی تمام گیندیں بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی مقررہ حدود کے اندر پائی گئی ہیں۔ یہ بات نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ہیڈ کوچ محمد اکرم نے معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔

سعید اجمل آف اسپن اور تیز گیند 15 درجے خم کی حد کے اندر رہتے ہوئے پھینک رہے ہیں، تازہ ترین رپورٹ (تصویر: AFP)

سعید اجمل آف اسپن اور تیز گیند 15 درجے خم کی حد کے اندر رہتے ہوئے پھینک رہے ہیں، تازہ ترین رپورٹ (تصویر: AFP)

رواں سال اگست میں دورۂ سری لنکا میں سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کو مشکوک قرار دیا گیا تھا اور بعد ازاں برسبین، آسٹریلیا میں جانچ کے بعد ان کی تمام گیندوں کو مقررہ حد، یعنی کہنی میں 15 درجے کے خم، سے دوگنا سے بھی زیادہ پایا گیا تھا۔ ان کی کہنی میں اوسط خم 42 درجے کا تھا جس کی وجہ سے ان پر فوری طور پر پابندی عائد کردی گئی۔ پھر سعید اجمل ڈیڑھ مہینے تک سابق آف اسپنر ثقلین مشتاق کی زیر نگرانی لاہور میں باؤلنگ ایکشن کو تبدیل کرنے اور اسے قانونی حدود کے اندر لانے کے لیے کام کرتے رہے یہاں تک کہ انہیں ابتدائی جانچ کے لیے برطانیہ بھیجا گیا جہاں دو مرتبہ تجربات کیے جانے کے بعد اب ان کی عام آف اسپن اور تیز پھینکی جانے والی گیندیں حدود کے اندر پائی گئی ہیں۔ اب چند روز بعد سعید اجمل تیسری بار جانچ کروائیں گے اور اس کے نتائج کی بنیاد پر پاکستان کرکٹ بورڈ انہیں ڈومیسٹک کرکٹ میں آزمانے کا فیصلہ کرے گا۔ جہاں کامیابی کی صورت میں آئی سی سی کو باضابطہ درخواست دی جائے گی کہ وہ سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کی ازسرنو جانچ کرے۔

اس پیشرفت پر سابق قومی باؤلنگ کوچ محمد اکرم کہتے ہیں کہ سعید اجمل نے باؤلنگ ایکشن کی درستگی کے لیے سخت محنت کی ہے اور ابتدائی جانچ کے نتائج بہت حوصلہ افزاء ہیں۔ البتہ محمد اکرم کہتے ہیں کہ نئے ضابطوں کے بعد جانچ کے تمام مراحل سے گزرنا بہت مشکل امر ہے جبکہ سعید اجمل ایک حادثے کی وجہ سے اپنی کہنی میں قدرتی خم بھی رکھتے ہیں، اس لیے رعایت ملنی چاہیے۔ البتہ انہوں نے غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کے خلاف آئی سی سی کے کریک ڈاؤن کی حمایت کی اور کہا کہ مشتبہ غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کے حامل گیندبازوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان آئی سی سی کے ساتھ کھڑا ہے اور پی سی بی ڈومیسٹک سطح پر ہی غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کی بیخ کنی کے لیے کام کررہا ہے۔ ہم مشتبہ ایکشن کے حامل باؤلرز پر ہاتھ ڈال رہے ہیں اور اس وقت ان کے باؤلنگ ایکشن کو بہتر بنانے پر کام کررہے ہیں۔

2009ء میں جب پہلی بار سعید اجمل کا باؤلنگ ایکشن رپورٹ ہوا تھا تو پی سی بی نے موقف اختیار کیا تھا کہ ایک حادثے کی وجہ سے سعید اجمل کی کہنی میں قدرتی طور پر خم پایا جاتا ہے۔ بعد ازاں آئی سی سی نے جانچ کے بعد ان کے باؤلنگ ایکشن کو شفاف قرار دیا تھا۔ اب محمد اکرم کہتے ہیں کہ آئی سی سی سعید اجمل کو شک کی گنجائش دے۔

Facebook Comments