ہیوز نے پرانے ماڈل کا ہیلمٹ پہن رکھا تھا: ہیلمٹ ساز ادارہ

جولائی میں کریگ کیزویٹر، اگست میں اسٹورٹ براڈ، نومبر میں احمد شہزاد اور اب فلپ ہیوز کا سنگین ترین واقعہ دنیا بھر کے ہیلمٹ ساز اداروں کی نیندیں حرام کرنے کے لیے کافی ہے۔ ابتدائی تینوں کھلاڑیوں نے ہیلمٹ پہن کر کھیلنے کے باوجود سخت چوٹیں کھائیں، کیزویٹر کی آنکھ ضائع ہوتے ہوتے بچی، براڈ کی ناک کی ہڈی بری طرح ٹوٹی، احمد شہزاد کی کھوپڑی میں فریکچر ہوا جبکہ ہیوز سر پر چوٹ لگنے کے بعد ہسپتال میں زندگی و موت کی کشمکش مبتلا ہیں۔

ہیلمٹ ساز ادارے نے تصویری خاکے کے ذریعے واضح کیا ہے کہ پرانے اور نئے ہیلمٹ میں کیا فرق ہے (تصویر: PA Photos)

ہیلمٹ ساز ادارے نے تصویری خاکے کے ذریعے واضح کیا ہے کہ پرانے اور نئے ہیلمٹ میں کیا فرق ہے (تصویر: PA Photos)

گزشتہ روز سڈنی میں کھیلے جا رہے شیفیلڈ شیلڈ کے مقابلے میں باؤلر شان ایبٹ کا ایک باؤنسر 25 سالہ فلپ ہیوز کے سر پر جا لگا اور وہ کچھ دیر کھڑے ہونے کے بعد منہ کے بل زمین پر گرگئے اور بے ہوش ہوگئے۔ انہیں فوری طور پر مقامی ہسپتال لے جایا گیا جہاں آئندہ دو دنوں کو ان کی زندگی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ واقعے کے وقت فلپ ہیوز کے سر پر برطانوی ادارے ماسوری کا تیار کردہ ہیلمٹ تھا، جس کا کہنا ہے کہ فلپ نے ادارے کا بنایا گیا جدید ترین ہیلمٹ نہیں پہن رکھا تھا۔

ماسوری کا کہنا ہے کہ اب تک سامنے آنے والی فوٹیج سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گیند فلپ کے سر کے پچھلے حصے میں بائیں جانب لگی ہے جو جالی کی پشت پر اور ہیلمٹ کے خول کے نیچے کا علاقہ ہے۔ سر اور گردن کی اس جگہ کا پرانے ہیلمٹ مکمل طور پر احاطہ نہیں کرتے۔ فلپ نے اس میچ کے دوران ماسوری کا اوریجنل ٹیسٹ ماڈل کا ہیلمٹ پہن رکھا تھا جبکہ ادارے کا کہنا ہے کہ نیا وژن سیریزکا ہیلمٹ اس جگہ کو اضافی حفاظت فراہم کرتا ہے۔ ادارے نے مزید وڈیو فوٹیج اور تصاویر طلب کی ہیں تاکہ اس پر مزید غور کیا جا سکے اور ساتھ ساتھ فلپ ہیوز کی جلد اور مکمل صحت یابی کی دعا بھی کی ہے۔

انتہائی مہنگے اور جدید ترین ہیلمٹ ہونے کے باوجود ایک ہی سال میں کئی کھلاڑیوں کا بری طرح زخمی ہونا ظاہر کرتا ہے کہ ان کی تیاری میں کچھ بنیادی خامیاں ہیں، جنہیں فوری طور پر دور کرنے کی ضرورت ہے ورنہ نجانے کتنے مزید کھلاڑی شدید زخمی ہوں گے اور خاکم بدہن کوئی جان سے نہ ہاتھ دھو بیٹھے۔

Facebook Comments