پاک-انگلستان سیریز 2012ء کا انعقاد سری لنکا میں ہونے کا امکان

پاکستان اور انگلستان کے درمیان 2012ء کے اوائل میں ہونے والی سیریز کی میزبانی ممکنہ طور پر سری لنکا کرے گا۔

2009ء میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور یہاں کے میدان ویران پڑے ہیں۔ پاکستان نے اپنی 'ہوم سیریز' متحدہ عرب امارات اور انگلستان سمیت متعدد مقامات پر کھیلی ہیں۔ لیکن گزشتہ سال دورۂ انگلستان میں پیدا ہونے والے اسپاٹ فکسنگ تنازع کے بعد انگلستان نے بھی پاکستان کے میچز کی میزبانی سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور اب پاکستان کو 'ہوم سیریز' متحدہ عرب امارات کے علاوہ کوئی مقام میسر نہیں اور اس وقت سری لنکا ایک نئے امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترا ہے۔

یہ گزشتہ سال متنازع دورۂ انگلستان کے بعد پاکستان اور انگلستان کا کسی ٹیسٹ سیریز میں پہلا ٹکراؤ ہوگا۔ 'میچ فکسنگ تنازع' کے نتیجے میں پاکستان کرکٹ پر پڑنے والے اثرات اور پاک-انگلستان بورڈز کے درمیان تناؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس امر کے خدشات بہت زیادہ ہیں کہ اس سیریز میں میدان بہت گرم رہے گا۔ اسی لیے دونوں ٹیموں کے لیے زبردست مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ سری لنکا نے پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کے لیے جتنی کوششیں کیں، ان کوششوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سری لنکا کو اس شاندار سیریز کی میزبانی بخشنا ان کی احسان مندیوں کا بوجھ اتارنے کے مترادف ہوگا۔

پاکستان اس سے قبل 2002ء میں سری لنکا میں آسٹریلیا کے خلاف 'ہوم سیریز' کھیل چکا ہے جب کراچی میں فرانسیسی انجینئرز پر ہونے والے حملے کے بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم دورۂ پاکستان ادھورا چھوڑ کر چلی گئی تھی اور آسٹریلیا نے بھی حفاظت کے خطرے کے پیش نظر پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا۔

سری لنکا کرکٹ کے سیکرٹری نشانتھا راناتنگا کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی میزبانی کے حقوق ملنے کے حوالے سے کافی پرامید ہیں تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس امر کا حتمی فیصلہ کرنا ہے۔

راناتنگا نے کہا کہ سری لنکا ایک بہترین مقام ہے کیونکہ یہ انگلستان اور پاکستان دونوں کے شائقین کا پسندیدہ ہے۔ میں نے دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز سے بات کی ہے اور وہ سری لنکا میں سیریز کھیلنے کے حوالے سے کافی مثبت رائے رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی کپ 2011ء کے تمام گروپ میچز سری لنکا میں کھیلے اوران مقابلوں میں اسے سری لنکن تماشائیوں کی جانب سے بھرپور حمایت و پذیرائی ملی۔ دوسری جانب انگلستان بھی سری لنکا میں کھیلنے کا خواہاں ہے کیونکہ ان کے شائقین یہاں گزشتہ دوروں کا بھرپور لطف اٹھا چکے ہیں۔

حتمی فیصلے کا ایک اہم رخ مالیاتی پہلو بھی ہے۔ عالمی کپ کی میزبانی کے بعد ممکنہ طور پر سری لنکا کرکٹ اس وقت قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور ممکنہ سیریز اس صورتحال سے نکلنے میں مدد فراہم کرے گی۔ راناتنگا نے کہا کہ یہ سیریز کرکٹ بورڈ کے لیے آمدنی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرے گی اور ہماری سیاحت کی صنعت کو بھی بہتر بنائے گی۔"

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی تجویز پی سی بی کو ارسال کر دی ہے اور اب ان کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ سری لنکا میں سیریز ضرور کھیلنا چاہیں گے۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے معروف کرکٹ ویب سائٹ ای ایس پی این کرک انفو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم میزبانی کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں جن میں متحدہ عرب امارات اور سری لنکا بھی شامل ہیں، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

پاکستان کے لیے سری لنکا متحدہ عرب امارات سے کہیں سستا آپشن ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ سال اکتوبر میں جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز متحدہ عرب امارات ہی میں کھیلی تھی اور یہ سمجھا جارہا ہے کہ پاکستان اخراجات میں کمی کے لیے دیگر آپشنز پر غور کر رہا ہے جن میں سری لنکا بھی شامل ہے۔

سری لنکا کو رواں سال اکتوبر میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ اور ایک روزہ سیریز بھی طے کرنی ہے اور یہ بات تو یقینی ہے کہ یہ سیریز سری لنکا میں کھیلی جائے گی۔ یاد رہے کہ پاکستان میں آخری مرتبہ کرکٹ کھیلنے والی ٹیم بھی سری لنکا ہی تھی جو 2009ء کے اوائل میں پاکستان آئی تھی۔ تاہم لاہور میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ کے دوران ان پر دہشت گردانہ حملے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں دورہ درمیان ہی سے ختم کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد پاکستان کو 2011ء کے عالمی کپ کی میزبانی سے بھی محروم کر دیا گیا اور پاکستان کو اس کے بعد سے ملک میں کھیلے جانے والے تمام میچز دبئی اور ابوظہبی منتقل کرنا پڑے۔

Facebook Comments