محمد حفیظ ڈبل سنچری کے بہت قریب، اور ایک مرتبہ پھر محروم

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین شارجہ میں جاری تیسرا ٹیسٹ محض ایک دن میں روپ بدل چکا ہے۔ پہلے روز کے کھیل کے اختتام پر پاکستان بالادست مقام پر تھا تو دوسرا روز مکمل ہونے پر نیوزی لینڈ ایسی پوزیشن پر ہے کہ مقابلہ اس کی گرفت میں دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان سے جتنی بدترین کارکردگی کی توقع کی جا سکتی تھی، وہ اس نے شارجہ ٹیسٹ کے دوسرے دن کے کھیل میں دکھائی ہے۔ پہلے صرف 66 رنز کے اضافے سے اپنی آخری 7 وکٹیں گنوائیں اور پھر صرف 45 اوورز میں نیوزی لینڈ سے 249 رنز کھا بیٹھا اور وکٹ بھی صرف ایک حاصل کر پایا۔ اس پوری صورتحال میں شائقین کو جو مایوسی ہوئی، محمد حفیظ کے 197رنز پر آؤٹ ہوجانے کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوا۔

محمد حفیظ دوسری بار ڈبل سنچری کے اتنا قریب پہنچ کر بھی محروم رہ گئے (تصویر: AFP)

محمد حفیظ دوسری بار ڈبل سنچری کے اتنا قریب پہنچ کر بھی محروم رہ گئے (تصویر: AFP)

محمد حفیظ اپنے ٹیسٹ کیریئر میں دوسری بار 190 رنز بنانے کے بعد ڈبل سنچری تک پہنچنے سے قبل ہی آؤٹ ہوئے ہیں۔ 2012ء کے دورۂ سری لنکا میں وہ صرف 4 رنز کی دوری سے اپنی پہلی ڈبل سنچری نہیں بنا پائے تھے اور اب صرف تین رنز پہلے دھر لیے گئے۔

ایک ایسے موقع پر جب پاکستان کو محمد حفیظ کے کھڑے رہنے کی بہت ضرورت تھی، ایک غیر ضروری پل شاٹ نے نہ صرف حفیظ کو اہم سنگ میل سے محروم کیا بلکہ پاکستان کی اننگز کو بھی پٹڑی سے اتار دیا۔ 285 رنز پر صرف 3 وکٹوں سے محروم پاکستان صرف 351 رنز پر ڈھیر ہوگیا اور پھر نیوزی لینڈ کو مقابلے میں واپس آنے کا موقع دے دیا۔
316 گیندوں پر 25 چوکوں اور 3 چھکوں سے مزین حفیظ کی شاندار اننگز 197 رنز پر مکمل ہوئی اور یوں وہ یونس خان اور یونس خان کے بعد پاکستان کی تاریخ کے تیسرے بیٹسمین بن گئے، جو ایک سے زیادہ مرتبہ 'نروس ون نائنٹیز' کا شکار ہوئے۔ اس افسوسناک صورتحال سے دوچار ہونے والے پاکستان کے پہلے کھلاڑی یونس خان تھے۔ جنوری 2006ء میں بھارت کے خلاف 'ہوم سیریز' میں یونس خان لاہور ٹیسٹ میں 199 رنز بنانے کے بعد رن آؤٹ ہوئے اور پھر فیصل آباد میں کھیلے گئے مقابلے میں 194 رنز بنانے کے بعد دھر لیے گئے۔

اسی سال یعنی 2006ء میں محمد یوسف، ایک نہیں، دو نہیں بلکہ تین مرتبہ ڈبل سنچری بنانے میں ناکام ہوئے۔ پہلے اگست کے مہینے میں انگلستان کے خلاف لیڈز ٹیسٹ میں 192 رنز پر آؤٹ ہوئے اور پھر نومبر میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم سیریز میں دو مرتبہ دھر لیے گئے۔ پہلے لاہور میں 192 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور پھر ملتان میں ان کی اننگز 191 رنز تک پہنچ کر دم توڑ گئی۔ بحیثیت مجموعی یہ سال محمد یوسف کے لیے بہت یادگار تھا جس میں انہوں نے ایک سال میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، جو آج بھی جوں کا توں موجود ہے لیکن تین مرتبہ ڈبل سنچری سے محروم ہوجانا یوسف کے لیے بہت مایوس کن تھا ورنہ آج ان کی ڈبل سنچریوں کی تعداد 7 ہوتی۔

ویسے یونس اور یوسف دونوں کو ڈبل سنچری کا مزا ضرور چکھنے کو ملا۔ یونس تو ٹرپل سنچری کا ہندسہ بھی پھلانگ چکے ہیں جبکہ یوسف نے 4 مرتبہ ڈبل سنچری بنائی لیکن بدقسمتی محمد حفیظ کا پیچھا ابھی تک نہیں چھوڑ رہی۔

ذیل میں ہم آپ کو پاکستان کے ان کھلاڑیوں سے آگاہ کررہے ہیں جو 190 رنز بنانے کے بعد ڈبل سنچری سے پہلے آؤٹ ہوئے۔ اب تک پاکستان کے پانچ بیٹسمین 9 مرتبہ اس بدقسمتی کا شکار ہوچکے ہیں۔

کھلاڑی رنز گیندیں چوکے چھکے بمقابلہ بمقام بتاریخ
مدثر نذر  پاکستان 199 408 24 0 بھارت فیصل آباد اکتوبر 1984ء
محمد وسیم پاکستان 192 407 23 0 زمبابوے ہرارے مارچ 1998ء
یونس خان پاکستان 199 336 26 0 بھارت لاہور جنوری 2006ء
یونس خان پاکستان 194 299 22 1 بھارت فیصل آباد جنوری 2006ء
محمد یوسف پاکستان 192 261 25 2 انگلستان لیڈز اگست 2006ء
محمد یوسف پاکستان 192 330 24 1 ویسٹ انڈیز لاہور نومبر 2006ء
محمد یوسف پاکستان 191 344 22 0 ویسٹ انڈیز ملتان نومبر 2006ء
محمد حفیظ پاکستان 196 331 20 1 سری لنکا کولمبو جون 2012ء
محمد حفیظ پاکستان 197 316 25 3 نیوزی لینڈ شارجہ نومبر 2014ء

Facebook Comments