پاکستان نئی تاریخ مرتب کرنے کے لیے آج میدان میں اترے گا

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا معرکہ آج پروویڈنس، گیانا میں شروع ہوگا۔ پاکستان ان دو بدقسمت ممالک میں سے ایک ہے جو آج تک کیریبین سرزمین پر کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں جیت پائے۔ پاکستان کے علاوہ یہ 'اعزاز' صرف سری لنکا کو حاصل ہے۔

پاک ویسٹ انڈیز سیریز کی تاریخ

اپنی سرزمین پر پاکستان کے خلاف ویسٹ انڈیز کا ریکارڈ بہت شاندار ہے۔ ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے خلاف 21 ٹیسٹ میچز میں سے 10 میں فتح حاصل کی ہے اور اسے محض 4 میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

1958ء میں پہلے دورے سے لےکر آج تک پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے کل 6 دورے کیے ہیں اور فتح کے انتہائی قریب پہنچنے کے باوجود وہ کبھی ویسٹ انڈیز کو سیریز میں زیر نہیں کر پایا۔ ان میں سے سب سے قریبی لمحہ 2000ء کے دورۂ ویسٹ انڈیز میں آیا جب پاکستان ناقص فیلڈنگ اور گھٹیا امپائرنگ کے باعث محض ایک وکٹ سے آخری ٹیسٹ میچ ہارا اور سیریز بھی گنوا بیٹھا۔

دونوں ٹیمیں آخری مرتبہ 2006ء میں کسی ٹیسٹ سیریز میں مد مقابل آئی تھیں۔ یہ سیریز پاکستان میں کھیلی گئی تھی جس میں پاکستان نے 2-0 سے با آسانی کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک 5 سال کے عرصے میں دونوں ٹیموں کے درمیان کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا گیا۔ درمیان میں کئی عظیم کھلاڑی کو خیر باد کہہ گئے، جن میں برائن لارا اور انضمام الحق سب سے نمایاں ہیں۔ تاہم اب دونوں طرف بیشتر کھلاڑی نوجوان ہیں اور شائقین کو بھرپور توقع ہے کہ ویسٹ انڈیز کے میدانوں میں اچھا مقابلہ دیکھنے میں آئے گا۔

پاکستان : مثبت و منفی پہلو

پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کون جیتے گا؟

  • پاکستان (46% Votes)
  • برابر (41% Votes)
  • ویسٹ انڈیز (13% Votes)
Loading ... Loading ...

تاہم اب اس امر کی توقعات بہت زیادہ ہیں کہ مصباح الحق کی زیر قیادت پاکستان کی نوجوان ٹیم یہ کارنامہ انجام دینے میں کامیاب ہو جائے گی۔

گزشتہ سال انگلستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران میچ فکسنگ تنازع کھڑا ہونے کے بعد پاکستان کے حوصلے مزید پست ہو گئے تھے۔ لیکن مصباح الحق نے ٹیم میں واپسی کے بعد اپنی کارکردگی اور قیادت کے ذریعے ٹیم میں نئی روح پھونکی۔ انہوں نے نہ صرف عالمی نمبر 2 جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز برابر کرنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز جیت کر عرصہ بعد پاکستان کو کسی ٹیسٹ سیریز میں فتح نصیب کی۔

گو کہ یونس خان کی اچانک وطن واپسی کے باعث پاکستان کی مڈل آرڈر بلے بازی میں بہت بڑا خلاء پیدا ہو گیا ہے لیکن عمر اکمل اور اظہر علی جیسے نوجوان کھلاڑیوں سے توقع ہے کہ وہ اس دباؤ کو برداشت کر لیں گے۔ البتہ مڈل آرڈر میں سب سے بڑی ذمہ داری اب ٹیسٹ قائد مصباح الحق کے کاندھوں پر آ گئی ہے۔ محمد حفیظ جو ایک روزہ طرز میں بھرپور فارم میں ہیں، امید ہے کہ ان کی فارم برقرار رہے گی جبکہ تجربہ کار توفیق عمر ان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔ یونس خان کی روانگی کے بعد اب ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ میچ کا تجربہ رکھنے والا کوئی کھلاڑی پاکستانی دستے میں موجود نہیں ہے ۔

اگر پاکستان کی باؤلنگ کا جائزہ لیا جائے تو اسے عمر گل کی واپسی سے بہت قوت ملی ہے۔ عمر گل ویسٹ انڈیز کے خلاف بہترین ریکارڈ رکھتے ہیں۔ انہوں نے تین ٹیسٹ میچز میں 16 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔ عمر گل، وہاب ریاض اور تنویر احمد کی مثلث ویسٹ انڈین بلے بازوں کے لیے بڑی مشکلات کھڑی کر سکتی ہے جبکہ جنید خان کی صورت میں ایک بیک اپ بھی پاکستان کے پاس موجود ہوگا۔ اسپن گیند بازی کا مقابلہ کرنا ویسٹ انڈیز کی بلے بازی کا سب سے کمزور شعبہ ہے جس میں پاکستان کافی مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ اس کے پاس سعید اجمل اور محمد حفیظ جیسے اچھے اسپنر تو موجود ہیں ہی لیکن ساتھ ساتھ وہ ضرورت پڑنے پر عبد الرحمن کا استعمال بھی کر سکتا ہے۔

ویسٹ انڈیز: مثبت و منفی پہلو

ویسٹ انڈیز طویل عرصے سے ٹیسٹ کرکٹ میں واحد فتح حاصل کرنے سے بھی محروم ہے۔ ٹیم نے آخری مرتبہ 2009ء میں انگلستان کو شکست دے کر کوئی میچ جیتا تھا اور اس کے بعد سے اب کسی مقابلے میں فتحیاب نہیں ہو سکا۔

تاہم موجودہ سیریز میں ویسٹ انڈیز کے لیے سب سے زیادہ تقویت دینے والا عنصر رامنریش سروان اور شیونرائن چندرپال جیسے سینئر کھلاڑیوں کی موجودگی ہوگی۔ یہ دونوں کھلاڑی ماضی کی ان ٹیسٹ فتوحات کا حصہ رہے ہیں جو ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین پر حاصل کیں۔ چندرپال پاکستان کے خلاف بہترین ریکارڈ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کھیلے گئے 13 ٹیسٹ میچز میں 41.95 کی اوسط سے 923 رنز بنائے جس میں ایک سنچری بھی شامل ہے جس میں انہوں نے 153 رنز کی ناقابل شکست اننگ کھیلی تھی۔ یہ اننگ انہوں نے پاکستان کے گزشتہ دورۂ ویسٹ انڈیز میں کھیلی تھی۔ ان دونوں کے لیے علاوہ تین سال کے عرصے کے بعد واپس آنے والے مارلون سیموئلز بھی ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ کو تقویت بخشیں گے جبکہ لینڈل سیمنز کی بھرپور فارم بھی اک فیصلہ کن عنصر ثابت ہو سکتی ہے۔

باؤلنگ سائیڈ پر ویسٹ انڈیز کو فیڈل ایڈورڈز کی مدد حاصل ہوگی جو طویل عرصے کے بعد ایک مرتبہ پھر ایکشن میں نظر آئیں گے۔ وہ کمر کی شدید انجری کے باعث دو سال تک ٹیم سے غیر حاضر رہے اوراب اس توقع کے ساتھ ایک مرتبہ پھر میدان میں اتر رہے ہیں کہ وہ مزید انجریز کا شکار نہیں ہوں گے۔ ان کے علاوہ ان فارم روی رامپال اور کیمار روچ کی صورت میں ایک اچھا پیس اٹیک دستیاب ہے جبکہ اسپنرز میں ایک روزہ سیریز میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے دیوندر بشو پاکستان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

ان عناصر کی موجودگی میں پاکستان کے لیے ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز جیتنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگی ۔ اگر پاکستان اس چیلنج پر پورا اترنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ مصباح الحق کی ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

پاک ویسٹ انڈیز دستے

دونوں ٹیموں کا انتخاب مندرجہ ذیل دستوں میں سے عمل میں آئے گا:

پاکستان

مصباح الحق (کپتان)، اسد شفیق، اظہر علی، تنویر احمد، توفیق عمر، جنید خان، حماد اعظم، سعید اجمل، عبد الرحمن، عمر اکمل، عمر گل، محمد حفیظ، محمد سلمان اور وہاب ریاض۔

ویسٹ انڈیز

ڈیرن سیمی (کپتان)، برینڈن نیش (نائب کپتان)، دیوندر بشو، ڈیرن براوو، ڈیوون اسمتھ، رامنریش سروان، روی رامپال، شیونرائن چندرپال، فیڈل ایڈورڈز، کارلٹن با، کیمار روچ، لینڈل سیمنز اور مارلون سیموئلز۔

میدان

پروویڈنس اسٹیڈیم،، گیانا ویسٹ انڈیز کے جدید ترین میدانوں میں سے ایک ہے جہاں آج تک صرف ایک ٹیسٹ میچ کھیلا گیا ہے۔ دارالحکومت جارج ٹاؤن سے محض 9 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ اسٹیڈیم 2007ء کے عالمی کپ کی میزبانی کے لیے خصوصی طور پر تیار کیا گیا تھا۔ یہاں آج تک صرف ایک ٹیسٹ میچ کھیلا گیا جس میں سری لنکا نے میزبان ویسٹ انڈیز کا سامنا کیا اور فتح سری لنکا کے نام رہی۔

Facebook Comments