فواد...پھر زیرِ عتاب

یاسر عرفات نے پاکستان کی جانب سے صرف 13 ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلے ہیں لیکن راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے آل راؤنڈر اب تک تین ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کھیل چکے ہیں۔ یہ یاسر کی خوش قسمتی ہے کہ مختصر کیریئر میں اسے تین عالمی ٹورنامنٹ کھیلنے کا موقع ملا ورنہ کئی کھلاڑی تو پورا کیریئر میگا ایونٹ کھیلنے کی حسرت ہی میں گزار دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے فواد عالم بھی ایسے ہی کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جو عالمی کپ سے قبل بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی کی حیثیت سے ابھرتے ہیں لیکن ٹورنامنٹ شروع ہونے سے ذرا پہلے بائیں ہاتھ کے بلے باز کو ناانصافی کی سولی چڑھا دیا جاتا ہے۔

عالمی کپ 2011ء سے پہلے بھی شاندار ڈومیسٹک کارکردگی کے باوجود فواد عالم کو میگا ایونٹ نہیں کھلایا گیا تھا، اب بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دیتا ہے (تصویر: AP)

عالمی کپ 2011ء سے پہلے بھی شاندار ڈومیسٹک کارکردگی کے باوجود فواد عالم کو میگا ایونٹ نہیں کھلایا گیا تھا، اب بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دیتا ہے (تصویر: AP)

آسٹریلیا کے خلاف محض دو ون ڈے مقابلوں کی ناکامی کے بعد فواد عالم کو نیوزی لینڈ کے خلاف آئندہ ایک روزہ سیریز سے باہر کردیا گیا ہے اور یوں فواد کو ایک مرتبہ پھر وہی مانوس وار سہنا پڑا ہے، جس کے گھاؤ اسے ماضی میں بھی لگتے رہے ہیں۔

2010ء میں فواد عالم نے شاہد آفریدی اور عمر اکمل کے بعد پاکستان کے لیے سب سے زیادہ رنز بنائے تھے مگر عالمی کپ سے پہلے ہی انہیں ٹیم سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا جس کے بعد سے اب تک ساڑھے تین سالوں میں ڈومیسٹک کرکٹ میں ’’رگڑا‘‘ کھانے کے بعد دوبارہ قومی ٹیم میں جگہ ملی تو ایشیا کپ میں انہوں نے اپنی پہلی ایک روزہ بین الاقوامی سنچری بنا کر مڈل آرڈر کے کئی بلے بازوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ رواں سال فواد نے احمد شہزاد کے بعد پاکستان کے لیے سب سے زیادہ رنز بنائے ہیں مگر اس کے باوجود عالمی کپ سے قبل اہم سیریز میں وہ موجود نہیں ہوں گے۔

نیوزی لینڈ کے خلاف ابتدائی دو ایک روزہ مقابلوں کے لیے اعلان کردہ دستے میں تجربہ کار بلے باز یونس خان کی واپسی ہوئی ہے جو سری لنکا کے دورے میں ’’ ایک مقابلے کی ناکامی ‘‘ کے بعد خارج کردیے گئے تھے، مگر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں عمدہ کارکردگی کا صلہ یونس خان ایک روزہ میں شامل کرکے دیا گیا ہے۔ یونس کی ٹیم میں جگہ بنتی ہے یا نہیں، اور وہ کس نمبر پر بلے بازی کریں گے؟ یہ ایک علیحدہ بحث ہے کیونکہ ٹیسٹ میں عمدہ کارکردگی کے نتیجے میں جب چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہی یہ بیان دے دیا تھا کہ کوئی اور منتخب ہو یا نہ ہو، یونس ضرور ایک روزہ ٹیم میں شامل ہوں گے، تو پھر سلیکشن کمیٹی کے سربراہ کے لیے بھی مشکل ہوگیا کہ یونس کو نہ چنیں۔ لیکن یہ بھی یاد رکھا جائے کہ فواد عالم کو نکال کر اور صہیب مقصود کے زخمی کے بعد یونس خان کے لیے جگہ نکالی گئی ہے، تو کیا فٹ ہو جانے کے بعد صہیب کو اپنا مقام واپس مل جائے گا؟ یا عالمی کپ میں بھی فواد اور صہیب جیسے نوجوانوں کی قربانی دے کر یونس خان جیسے سینئر کھلاڑی پر بھروسہ کیا جائے گا؟ جو کسی بھی دور میں ایک روزہ طرز کے اچھے بلے باز نہیں رہے اور 32 کی اوسط ون ڈے میں یونس کی اہلیت ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔

حقیقتاً کراچی سے تعلق رکھنے والے فواد عالم پاکستان کرکٹ کے نظام کے ستائے ہوئے کھلاڑی ہیں، اور جب بھی کسی کو قربانی کا بکرا بنانا مقصود ہو تے ’’نظر انتخاب ‘‘ فواد پر ہی پڑتی ہے۔

ابھی چند ہفتے قبل قائداعظم ٹرافی کے ایک مقابلے میں فواد سے ملاقات ہوئی تھی تو وہ نیوزی لینڈ کے خلاف کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم تھے، مکر اس ملاقات سے چند روز قبل بورڈ میں ’’دہری ذمہ داریاں‘‘ نبھانے والے ایک سابق ٹیسٹ کھلاڑی نے مجھے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ’’فواد عالم ورلڈ کپ نہیں کھیلے گا‘‘!

Facebook Comments