فلپ ہیوز کی آخری رسومات، مائیکل کلارک کا جذباتی خراج تحسین

فلپ ہیوز جس کھیل سے محبت کرتے تھے، اسی کو کھیلتے ہوئے چل بسے اور آج آہوں اور سسکیوں میں انہیں اپنے آبائی شہر میں سپرد خاک کردیا گیا۔ آسٹریلیا کے کپتان مائیکل کلارک سے لے کر بدقسمت گیندباز شان ایبٹ تک، آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ سے لے کر آنجہانی بلے باز کے اہل خانہ، احباب، ماضی و حال کے کھلاڑیوں اور معروف شخصیات نے ان کی آخری رسومات میں شرکت کی۔

فلپ ہیوز کی آخری رسومات میں دنیا بھر کی کرکٹ شخصیات نے شرکت کی (تصویر: Getty Images)

فلپ ہیوز کی آخری رسومات میں دنیا بھر کی کرکٹ شخصیات نے شرکت کی (تصویر: Getty Images)

محض 7 ہزار آبادی رکھنے والے قصبے میکس وِل کے 5 ہزار سے زائد افراد نے ان کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ جن میں آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ، کرکٹ ٹیم کے کپتان مائیکل کلارک، سابق کپتان رکی پونٹنگ، شین وارن، عظیم ویسٹ انڈین بلے باز برائن لارا، نیوزی لینڈ کے عظیم باؤلر رچرڈ ہیڈلی کے علاوہ ماضی کے آسٹریلوی ستاروں ڈین جونز، ایڈم گلکرسٹ، گلین میک گرا، بریٹ لی، جسٹن لینگر، میتھیو ہیڈن اور ڈیمین مارٹن کے علاوہ بدقسمت گیندباز شان ایبٹ نے بھی شرکت کی کہ جن کی گیند فلپ ہیوز کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوئی۔

فلپ ہیوز 25 نومبر کو حریف باؤلر شان ایبٹ کا ایک باؤنسر لگنے سے زخمی ہوئے تھے اور میدان ہی میں گر کر بے ہوش ہوگئے تھے اور اسی عالم میں دو روز بعد مقامی ہسپتال میں چل بسے۔

آسٹریلیا کے کپتان مائیکل کلارک نے جذبات و احساسات نے بھرپور تقریر کی، جس کے دوران کئی بار ان کی آواز بھرا گئی۔ انہوں نے کہا کہ "مجھے نجانے کیوں ایسا لگتا ہےکہ کسی بھی منٹ مجھے اس کا فون آ جائے گا یا اس کا مسکراتا ہوا چہرہ دکھائی دے گا۔ اگر یہ اس کی روح ہے تو مجھے امید ہے کہ یہ کبھی میرا ساتھ نہیں چھوڑے گی۔"

کلارک نے بتایا کہ "وہ 27 نومبر کی شب سڈنی کرکٹ گراؤنڈ بھی گئے تھے، گھاس کے اسی قطعے پر کہ جہاں میں نے اور اس کے کئی ساتھیوں نے شراکت داریاں بنائی تھیں، مواقع حاصل کیے تھے اور ان خوابوں کی تعبیر پائی کہ جو ہم نے لڑکپن میں دیکھے تھے۔ ان اسٹینڈز کو کہ جہاں تماشائی اس کے لیے قدموں پر کھڑے ہوتے اور وہی باؤنڈری کہ جہاں وہ بار بار گیند پھینکتا تھا۔ میں وہاں وکٹ پر کھڑا تھا، جھکا اور گھاس کو چھوا اور یقین کریں وہ میرے ساتھ تھا۔ اس نے مجھے اٹھایا اور بتایا کہ ہمیں تھوڑی دیر مزید جمے رہنا ہوگا تاکہ چائے کے وقفے تک جائیں۔ اس نے مجھے میرے اس شاٹ کے بارے میں بتایا جو کمزور تھا۔ اس فلم کے بارے میں کہ جو ہم رات کو دیکھتے اور پھر گایوں کے بارے میں ایک بیکار سی بات ہی کی۔ میں اسے دوسرے کنارے پر کھڑا دیکھ سکتا تھا، باؤلر کی دیکھ کر مسکراتے ہوئے اور خود کو رن کے لیے بلاتے ہوئے، اتنی بھاری آواز میں کہ شاید کار پارک میں کھڑے شخص کو بھی سنائی دیتی۔ آسٹریلیا کے اصل باشندے کہتے ہیں کہ مرنے والی کی روح اس زمین سے جڑ جاتی ہے جہاں وہ چلتا ہے، اگر ایسی بات ہے تو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ کے بارے میں وہ بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔ یہ میدان میرے لیے ہمیشہ مقدس رہے گا۔"

آسٹریلوی کپتان نے کہا کہ "دنیا بھر سے جو خراج تحسین پیش کیا گیا، وہ ہمیں تحریک دے گا کہ ہم اس کھیل کو جاری رکھیں۔ دنیا بھر سے آنے والی تصویریں، الفاظ، دعائیں اور باہمی رشتے کا تصور ہمیں دکھاتا ہے کہ اس کی روح کارفرما ہے۔ اور آسٹریلیا کے لیے کھیلنے والے میرے بھائیوں اور بہنوں کی محبت نے مجھے کھڑا رکھا جب میں سمجھتا تھا کہ میں مزید آگے نہیں بڑھ پاؤں گا۔ اس کی روح ہمیں قریب لے آئی ہے –۔ وہ ہمیشہ لوگوں کو قریب لانا چاہتا تھا۔ کراچی میں چھوٹی لڑکی کے ہاتھ میں موم بتی سے لے کر تنڈولکر، وارن اور لارا جیسے عظیم کھلاڑیوں کے اظہار غم تک کرکٹ کی روح نے ہمیں جوڑے رکھا ہے۔ ہم کور ڈرائیو کے ہیجان میں اس روح کو محسوس کرتے ہیں یا گلی میں پکڑے گئے ایک شاندار کیچ میں، چاہے وہ وارسسٹر میں ایک 12 سالہ لڑکا پکڑے یا دبئی میں برینڈن میک کولم۔ یہ ہر شاندار سنچری اور پانچ وکٹیں حاصل کرنے کی کارکردگی میں ہوتی ہے، چاہے ویسٹرن سبربس کے کلب مقابلے میں ہو یا کسی ٹیسٹ میچ میں۔ یہ تعلق دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو اپنے بیٹ فلپ ہیوز کی یاد میں سجانے کی تحریک دیتا ہے، ایسے لوگوں کو لارڈز کے دروازے پر اس کے لیے پھول سجاتے دکھاتا ہے جو فلپ کو جانتے تک نہیں اور یہی کرۂ ارض پر کرکٹ کھیلنے والے ہر ملک کو اپنا نذرنہ عقیدت پیش کرنے دیتا ہے۔ اسی تعلق نے پرانے اور نئے کھلاڑیوں کو فلپ ہیوز کے بستر مرگ تک پہنچتے دکھایا۔ انہوں نے جہاں بھی خبر سنی اپنی دعاؤں میں اسے یاد رکھا۔ یہی چیز ہمارے کھیل کو دنیا کا عظیم ترین کھیل بناتی ہے۔ فلپ کی روح اب ہمیشہ کے لیے اس کھیل کا حصہ ہے اور کرکٹ جیسے کھیل کی نگرانی کا کردار ادا کرے گی، جس سے ہم سب محبت کرتے ہیں۔ ہمیں اس آواز کو سننا ہے، اس عزیز رکھنا ہے۔ ہمیں اس سے سیکھنا ہے۔ وکٹ پر جمے رہنا ہے اور چائے کے وقفے تک جانا ہے۔ اور کھیل کو جاری رکھنا ہے۔"

تقریب کے بعد فلپ ہیوز کے والد گریگ ہیوز اور جیسن ہیوز کے علاوہ مائیکل کلارک، آرون فنچ اور ٹاپ کوپر ان کے تابوت کو کاندھا دے کر باہر لائے جس کے بعد ان کا جنازہ قصبے کی گلیوں سے ہوتا ہوا آخری آرام گاہ پہنچا۔

اس دوران سڈنی کے میدان میں خصوصی طور پر آخری تقریبات براہ راست نشر کی گئیں، جہاں فلپ ہیوز 25 نومبر کو زخمی ہوئے تھے۔ ایک یادگار تصویر، پھول اور کرکٹ کھیلنے کا سامان وکٹوں کے ساتھ رکھا گیا۔ پچ اور اس کے اردگرد کا علاقہ ہیوز کے احترام میں بند کردیا گیا تھا اور اب یہ پچ رواں موسم گرما میں دوبارہ استعمال نہیں ہوگی۔

عمر صرف 25 سال کی عمر میں دنیا کو الوداع کہنے والے فلپ ہیوز کی صورت میں آسٹریلیا کا مستقبل کا ایک ستارہ ڈوب گیا ہے۔

Facebook Comments