وارنر، شیکھر، کوہلی، مصباح پر جرمانے، ملنے کی سرزنش

ایک جانب جہاں ہاکی کے میدان میں بھارت کے خلاف تاریخی جیت کے بعد پاکستان کے کھلاڑیوں کے آپے سے باہر ہوجانے پر تنقید کی جارہی ہے تو دوسری جانب کرکٹ کے میدانوں میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ ایک طرف آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر اور بھارت کے ویراٹ کوہلی اور شیکھر دھاون کو جھگڑے میں ملوث ہونے پر جرمانوں کا سامنا ہے تو پاکستان کے خلاف دوسرے ایک روزہ میں امپائر کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرنے پر کپتان مصباح الحق جرمانے کا شکار ہوں گے۔ نیوزی لینڈ کے باؤلر ایڈم ملنے کی بھی حد سے تجاوز کرنے پر سرزنش کی گئی ہے۔

ڈیوڈ وارنر اور شیکھر دھاون ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے چوتھے دن ہونے الفاظ کی جنگ کے دو اہم کردار تھے (تصویر: Getty Images)

ڈیوڈ وارنر اور شیکھر دھاون ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے چوتھے دن ہونے الفاظ کی جنگ کے دو اہم کردار تھے (تصویر: Getty Images)

بھارت اور آسٹریلیا کے مابین پہلا ٹیسٹ سنسنی خیز مقابلے کے بعد 48 رنز سے آسٹریلیا کی جیت پر منتج ہوا، لیکن اس تاریخی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے چوتھے روز ایڈیلیڈ میں بہت گرم ماحول دیکھنے کو ملا۔ ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب آسٹریلیا کی دوسری اننگز کے دوران ڈیوڈ وارنر حریف گیندباز ورون آرون کی ایک گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔ بھارت بہت دیر سے وکٹوں کے لیے جدوجہد کررہا تھا اور اس قیمتی وکٹ کے حصول کے ساتھ ہی باؤلر سمیت کئی کھلاڑی پھٹ پڑے۔ انہوں نے وارنر کے خلاف خوب طوفان بدتمیزی مچایا لیکن یہ سارا جوش اس وقت جھاگ کی طرح بیٹھ گیا جب ری پلے میں ثابت ہوا کہ یہ ایک نو-بال تھا۔ نتیجے میں وارنر میدان میں واپس آئے اور پھر انہوں نے باؤلر کو زچ کرنے کے لیے تمام حربے آزمائے۔ اس ہنگامے کے بعد ایک مرحلے پر بھارت کے جذباتی کپتان ویراٹ کوہلی بھی میدان میں کودے اور شیکھر دھاون نے بھی عادت سے مجبور ہوکر اپنا حصہ ڈالا۔ میچ کے اختتام کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ورون آرون کو تو بخش دیا لیکن وارنر پر 15 فیصد اور شیکھر دھاون اور ویراٹ کوہلی پر 30، 30 فیصد میچ فیس کے جرمانے عائد کیے ہیں۔

دوسری جانب پاک-نیوزی لینڈ دوسرا ایک روزہ مقابلہ بھی جذباتی ماحول میں کھیلا گیا، خاص طور پر امپائروں کے چند فیصلے میچ کے نتیجے پر اثرانداز ہوئے جن میں پاکستانی قائد مصباح الحق کا فیصلہ بھی شامل تھا۔ مصباح 47 رنز پر کھڑے تھے کہ ایک اٹھتی ہوئی گیند کو ہک کرنے کی کوشش میں ناکام ہوئے، جس پر وکٹوں کے پیچھے سے صدا بلند ہوئی اور امپائر رچرڈ النگورتھ نے لبیک کہتے ہوئے صدا بلند کردی۔ مصباح نے فیصلے سے اتفاق نہ کیا اور ریویو لینے کا فیصلہ کیا لیکن تیسرے امپائر جوئیل ولسن نے ہر زاویے سے جائزہ لینے کے بعد فیلڈ امپائر کے فیصلے کو بدلنے کے لیے کافی شہادت نہ پائی، اور آؤٹ ہی قرار دیا، جس پر مصباح برہم ہوئے اور امپائر سے بحث کرتے ہوئے میدان سے باہر آ گئے۔ کچھ دیر بعد نیوزی لینڈ کے گیندباز ایڈم ملنے نے شاہد آفریدی کو آؤٹ کیا اور نامناسب زبان استعمال کی۔ مقابلے کے بعد امپائروں نے دونوں کھلاڑیوں کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا اور مصباح الحق پر میچ فیس کا 15 فیصد جرمانہ عائد کیا جبکہ ملنے کی سرزنش پر اکتفا کیا۔

کرکٹ جسے شرفاء کا کھیل سمجھا جاتا ہے، میں بڑھتی ہوئی جذباتیت اس کے روایتی تاثر کو نقصان پہنچا رہی ہے، اس لیے آئی سی سی کو میدان میں بدکلامی اور ناپسندیدہ اشارے کرنے والے کھلاڑیوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments