بھارت کی شکست، کوہلی کی جیت

آسٹریلیا اور بھارت کا ایڈیلیڈ ٹیسٹ فلپ ہیوز کی موت کی وجہ سے جس انتہائی غمزدہ اور افسردہ ماحول میں شروع ہوا تھا، اتنے ہی سنسنی خیز اور دلچسپ انداز میں اپنے اختتام کو پہنچا۔ میچ کے آخری سیشن کے آغاز تک دونوں ٹیموں کے لیے تمام نتائج ممکن تھے، کوئی بھی جیت سکتا تھا، کسی کو بھی شکست ہو سکتی تھی اور مقابلہ بغیر کسی نتیجے تک پہنچے بھی اختتام کو پہنچ سکتا تھا، ایسے مقابلے شاذونادر ہی دیکھنے کو ملتے ہیں، اور اسی صورت میں کہ جب دونوں ٹیمیں جارحانہ رویہ اپنائیں اور ایک دوسرے پر غالب آنے کے لیے ہر صورت میں جیت کی طرف پیش قدمی کریں۔ آسٹریلیا اس انداز کے کھیل کے لیے جانا جاتا ہے۔ وہ کھیل کے ہر شعبے میں حریف پر غلبہ قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لیے ہر نفسیاتی اور جذباتی حربہ بھی استعمال کرتا ہے کہ تاکہ مخالف ہر محاذ پر ایسا سرنگوں ہوجائے کہ وہ چاہتے ہوئے بھی سر نہ اٹھا سکے۔

ویراٹ کوہلی کی 141 رنز کی اننگز بھارت کو بیرون ملک وہ اعتماد بخش سکتی ہے، جو اسے حالیہ دوروں میں حاصل نہیں رہا (تصویر: Getty Images)

ویراٹ کوہلی کی 141 رنز کی اننگز بھارت کو بیرون ملک وہ اعتماد بخش سکتی ہے، جو اسے حالیہ دوروں میں حاصل نہیں رہا (تصویر: Getty Images)

ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے تیسرے روز جب مچل جانسن کا زبردست باؤنسر ویراٹ کوہلی کے ہیلمٹ پر لگا تو میدان میں موجود آسٹریلیا کے کھلاڑیوں نے جو ردعمل دکھایا اسے چند سابق کھلاڑیوں نے تنقید کا نشانہ بنایا، صرف اس لیے کہ یہ ان کے مزاج اور فطرت کے خلاف تھا۔ پھر اس طرح کا ’’ ہمدردانہ رد عمل‘‘ حریف بلے باز کے حوصلے بلند کرتا، نیز حریف پر خوف کے اثرات بھی زائل ہوتے۔ بہرحال، اگلے ہی دن ورون آرون اور ڈیوڈ وارنر کے مابین گرما گرمی سے یہ ٹیسٹ بالکل وہی رخ اختیار کرگیا، جیسا کہ بھارت-آسٹریلیا مقابلے ہوتے ہیں۔

مہندر سنگھ دھونی کی عدم موجودگی میں قائم مقام کپتان ویراٹ کوہلی کی زیر قیادت بھارت کی جارح مزاجی قائل ستائش تھی لیکن درحقیقت میچ کے نتیجہ خیز ہونے میں اصل کردار آسٹریلیا کے کپتان مائیکل کلارک کی جرات مندی کا تھا۔ کلارک، جو جیت کے لیے خطرات مول لینے سے کبھی نہیں کتراتے، ایک مرتبہ پھر اپنی انفرادیت قائم رکھی اور بالکل اسی طرز پر ویراٹ کوہلی نے ایک ایسی اننگز تراشی، جو بھارت کی روایات کے بالکل خلاف تھی۔ مرلی وجے کے ساتھ کھیل کے آخری دورانیہ میں وہ بھارت کو بظاہر ناممکن نظر آنے والی جیت کے قریب لے آئے تھے اور اگر اس مقام پر دو چار بھارتی بیٹسمین ڈٹ جاتے، تو شاید میچ کا نتیجہ کچھ اور ہوتا۔ تاہم یہ ایک ایسی شکست تھی، جس میں ہارنے والا کپتان شکست کے باوجود سرخرو رہا۔

درحقیقت آخری روز 365 رنز کے ہدف کا تعاقب، وہ بھی ایسے تین تجربہ کار گیندبازوں کے سامنے کہ جنہوں نے ماضی قریب میں آسٹریلیا کو کئی فتوحات سے ہمکنار کیا، ناممکن نہ سہی لیکن بہت مشکل کام تھا۔ اس کا اندازہ لگانے کے لیے یہی کافی ہے کہ بھارت کے تمام گیندبازوں دونوں اننگز میں آسٹریلیا کی صرف 12 وکٹیں لے سکے، جبکہ میچ میں ناتھن لیون ہی کی وکٹوں کی تعداد 12 رہی۔ بھارت کے لیے ایڈیلیڈ ٹیسٹ سے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ مثبت اور جارحانہ انداز کی کرکٹ طویل عرصے سے بھارت میں مفقود دکھائی دے رہی تھی، لیکن کوہلی کی کپتانی میں یہ جذبہ واضح طور پر نظر آیا۔ اگر بھارت اس کارکردگی کا تسلسل قائم رکھنے میں کامیاب رہا تو کوئی وجہ نہیں کہ گزشتہ بیرون ملک دوروں کے مقابلے میں اس مرتبہ بھارت حریف کو ناکوں چنے چبوائے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آسٹریلیا کے میدانوں پر ملنے والی گزشتہ ہزیمتوں کے داغ دھل جائیں۔

اب ذرا اس مقابلے کی چند تلخ حقیقتیں بھی ملاحظہ کیجیے۔ بھارت نے جیت کے بہت قریب پہنچ کر چند ایسی فاش غلطیاں کیں، جس کا نتیجہ سوائے شکست کے کچھ اور نہ نکلتا۔ صورت میں نکلا۔ جب آخری سیشن کا کھیل شروع ہوا تو بھارت کو 37 اوورز میں 159 رنز کی ضرورت تھی اور مرلی وجے اور ویراٹ کوہلی بہت عمدگی کے ساتھ تمام گیندبازوں کا سامنا کررہے تھے۔ چائے کے وقفے کے بعد ایک ہی اوور میں مرلی وجے اور اجنکیا راہانے کے آؤٹ ہونے سے بھارت کو دھچکا ضرور پہنچا لیکن کریز پر ویراٹ کوہلی کے ساتھ دو مرتبہ ون ڈے ڈبل سنچریاں بنانے والے روہیت شرما موجود تھے، اور اس وقت تک رہے جب تک کہ بھارت کو آخری 21 اوورز میں صرف 90 رنز کی ضرورت تھی۔ اگر ایک، دو رنز دوڑنے کا سہارا بھی لیا جاتا تو بھارت باآسانی پندرہویں یا سولہویں اوور میں اس ہدف کو حاصل کرلیتا لیکن قریب آتی ہوئی جیت کو دیکھ کر بھارت کے بلے بازوں کے ہاتھ پیر پھول گئے اور آسٹریلیا نے اس کاپورا پورا فائدہ اٹھا کر بساط لپیٹ دی۔ روہیت تو جال میں پھنسے ہی لیکن وریدھمن ساہا نے جس طرح اوور میں 15 رنز ملنے کے باوجود آخری گیند پر ایک اور چھکا لگانے کی کوشش کرکے وکٹ گنوائی، وہ ایک بہت مایوس کن منظر تھا۔ پھر جو کسر رہ گئی تھی وہ اگلے اوور میں ویراٹ کوہلی (141 رنز) کے ڈیپ اسکوائر لیگ پر دیے گئے کیچ سے پوری ہوگئی اور بھارت کچھ ہی دیر میں باقی تین وکٹیں بھی پیش کرکے مقابلہ 48 رنز سے ہارگیا۔

اس لیے جم کر اور ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی شاباشی اپنی جگہ، لیکن فیصلہ کن لمحات میں اتنی فاش غلطیاں کرنے کی وجہ سے ہی بھارت صرف 73 رنز کے اضافے سے 8 وکٹوں سے محروم ہوا۔ اگر اسی مقام پر آسٹریلیا ہوتا تو شاید ہر گز اپنے ہاتھ سے جیت کو نہ نکلنے دیتا۔ اب سب کی نظریں اگلے بدھ سے برسبین پر جمی ہوں گی، جہاں حقیقی اندازہ ہوگا کہ بھارت نے ایڈیلیڈ سے سیکھے گئے اسباق کا فائدہ اٹھانا سیکھا ہے یا وہ دوبارہ ایسی غلطیاں دہرا کر سیریز میں مزید خسارے سے دوچار ہوگا۔

Facebook Comments