احمد شہزاد اور شاہد آفریدی چھاگئے، پاکستان کی بڑی فتح

پاکستان نے احمد شہزاد کی چھٹی سنچری اور قائم مقام کپتان شاہد خان آفریدی کی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کی بدولت نیوزی لینڈ کو تیسرے ایک روزہ مقابلے میں 147 رنز کے بھاری فرق سے شکست دے کر سیریز میں دو-ایک کی برتری حاصل کرلی۔

احمد شہزاد نے کو چھٹی ایک روزہ سنچری بنانے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا (تصویر: AFP)

احمد شہزاد نے کو چھٹی ایک روزہ سنچری بنانے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا (تصویر: AFP)

شارجہ میں کھیلے گئے سیریز کے تیسرے ایک روزہ میں پاکستان نے گزشتہ میچ کی کوئی غلطی نہیں دہرائی اور ٹاس جیتنے کے بعد ویسی بلے بازی کی، جیسی کہ اسے گزشتہ مقابلے میں کرنی چاہیے تھی۔ سرفہرست بلے بازوں نے خوب کام دکھایا اور احمد شہزاد کے ساتھ مل کر ابتدائی تینوں وکٹوں نے 60 رنز سے اوپر کی شراکت داریاں قائم کیں، اور آخر میں جب رنز کی رفتار بڑھانے کی ضرورت تھی تو شاہد آفریدی وقت سے پہلے میدان میں اترنے اور 21 گیندوں پر نصف سنچری کے ذریعے پاکستان کو تحریک دی اور سرفراز احمد نے آخری لمحات میں دھواں دار بیٹنگ کے ذریعے مجموعے کو 364 رنز تک پہنچا دیا جو پاکستان کی ایک روزہ تاریخ کا تیسرا سب سے بڑا ٹوٹل ہے۔

شاہد آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا، اور ابتداء ہی سے پاکستان نے مقابلے پر گرفت مضبوط کرلی۔ اوپنرز محمد حفیظ اور احمد شہزاد محض آٹھویں اوور ہی میں پاکستان کے اسکور کو 63 رنز تک لے گئے، جہاں پاکستان کو حفیظ کی وکٹ گنوانا پڑی، جو 26 گیندوں پر ایک چھکے اور 5 چوکوں کی مدد سے 33 رنز بنانے کے بعد وکٹوں کے پیچھے دھر لیے گئے۔ اس شراکت داری میں احمد نے مچل میک کلیناگھن کو دو مختلف اوورز میں مسلسل تین، تین چوکے رسید کیے۔ اس لیے حفیظ کے آؤٹ ہونے کے بعد رنز بنانے کی رفتار دھیمی ضرور پڑی لیکن تجربہ کار یونس خان کے ساتھ احمد شہزاد نے مزید 70 رنز کا اضافہ کرکے اننگز کو مستحکم کردیا۔ یونس خان، جنہیں عالمی کپ سے پہلے خود کو ایک روزہ کرکٹ کے لیے اہم امیدوار ثابت کرنا ہے، عین اس وقت پر آؤٹ ہوئے جب ان کی اننگز نے رفتار پکڑنا شروع ہی کی تھی۔ 22 ویں اوور میں یونس نے ناتھن میک کولم کو خوبصورت چوکا رسید کیا اور اگلی ہی گیند کو "کاؤ کارنر" میں چھکے کے لیے روانہ کردیا۔ اوور میں 12 رنز سمیٹنے کے بعد یونس آخری گیند کو پھر چھکے کے لیے روانہ کرنا چاہتے تھے لیکن گیند لانگ آن پر کھڑے کوری اینڈرسن سے آگے نہ جا سکی۔ یوں 39 گیندوں پر 35 رنز کی اننگز اپنے اختتام کو پہنچی۔

تیسری وکٹ پر احمد شہزاد اور اسد شفیق نے پاکستان کر مزید نقصان سے بچاتے ہوئے بیٹنگ پاور پلے تک پہنچا دیا اور تب تک 77 قیمتی رنز کا اضافہ بھی کیا۔ بیشتر رنز احمد شہزاد نے بنائے کیونکہ اس شراکت داری میں اسد کا حصہ صرف 23 رنز کا تھا۔ احمد شہزاد نے اپنی چھٹی سنچری مکمل کی اور اس کا خوب جشن منایا البتہ اس میں ان کی خوش قسمتی کا بھی عمل دخل رہا کیونکہ 92 کے انفرادی اسکور پر وکٹوں کے پیچھے ان کا کیچ چھوڑ دیا گیا تھا۔ احمد شہزاد کی اس شاہکار اننگز کا خاتمہ 38 ویں اوور کی پہلی گیند پر میٹ ہنری کے ہاتھوں ہوا، جو آج ہی اپنی سالگرہ منا رہے تھے۔ ہنری کی پہلی گیند کو مڈ آف کے اوپر سے چوکے کے لیے روانہ کرنے کی کوشش ناکام ہوئی اور گیند ولیم سن کے ہاتھوں میں جا ٹھہری۔ احمد نے 120 گیندوں پر 2 چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے 113 رنز بنائے اور تالیوں کی گونج میں میدان سے واپس آئے۔ اگلی ہی گیند پر ہنری نے ایک خوبصورت گیند پر اسد شفیق کو کلین بولڈ کردیا اور یہ منظر وقت سے پہلے میدان میں اترنے والے پاکستانی کپتان شاہد آفریدی دوسرے کنارے پر کھڑے دیکھ رہے تھے۔

شاہد آفریدی پاور پلے کے اوورز کا فائدہ اٹھانے اور اننگز کی رفتار بڑھانے کے لیے حارث سہیل اور عمر اکمل سے پہلے خود آئے تھے اور ان کی یہ چال آج خوب کامیاب رہی۔ اسکور ویسے ہی 37 اوورز میں 210 رنز تک پہنچ چکا تھا اور مقابلے کو نیوزی لینڈ کی پہنچ سے مزید دور کرنے کے لیے آئندہ 13 اوورز میں برق رفتاری سے کھیلنے کی ضرورت تھی۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے شاہد آفریدی اور حارث سہیل نے تیزی سے کھیلنا شروع کیا اور صرف 46 گیندوں پر 89 رنز کی ساجھے داری کی۔ اس میں "لالا" نے 45 اورحارث نے 39 رنز کے ذریعے اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ حارث نے اپنی اننگز 28 گیندوں پر ایک چھکے اور 5 چوکوں کی مدد سے تراشی اور اس وقت آؤٹ ہوئے جب مجموعہ 299 رنز تک پہنچ چکا تھا۔ تب پاکستان کو ایک مرتبہ پھر یکے بعد دیگرے دو وکٹوں کا نقصان سہنا پڑا کیونکہ عمر اکمل صفر پر ہی رن آؤٹ ہوکر میدان سے واپس آ گئے۔ البتہ شاہد آفریدی نے نیوزی لینڈ کے گیندبازوں پر کوئی رحم نہ کھایا ور صرف 21 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی اور ان کی دیکھا دیکھی سرفراز احمد بھی حریف باؤلرز پر پل پڑے۔ آخری چار اوورز میں "سیفی" اور سہیل تنویر کی بلے بازی نے مجموعے کو 364 رنز تک پہنچا دیا۔ سرفراز نے صرف 14 گیندوں پر ایک چھکے اور 4 چوکوں کی مدد سے 30 جبکہ سہیل تنویر نے 9 گیندوں پر دو چھکوں کی مدد سے 17 رنز بنائے، اور دونوں ناٹ آؤٹ رہے۔ یوں پاکستان نے آخری دس اوورز میں 125 اور پانچ اوورز میں 65 رنز کا اضافہ کیا اور نیوزی لینڈ کے لیے جیت کو ایک خواب بنا دیا۔

نیوزی لینڈ کے گیندبازوں میں صرف ناتھن میک کولم کو یہ "اعزاز" حاصل ہوا کہ وہ پاکستان کے بلے بازوں کے ہاتھوں 6 رنزفی اوور کے اوسط سےنہیں پٹے۔ورنہ آخری اوور میں 22 رنز کھانے والے کوری اینڈرسن نے اتنے ہی اوورز میں 96 رنز دیے جبکہ اسٹرائیک گیندباز مچل میک کلیناگھن کو 69 اور جمی نیشام کو 70 رنز کی مار سہنا پڑی۔ "برتھ ڈے بوائے" میٹ ہنری کو 9 اوورز میں 69 رنز پڑے لیکن انہیں 3 وکٹیں ضرور ملیں۔

اتنے بڑے ہدف کا دباؤ ہی نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کے اوسان خطا کر دینے کے لیے کافی تھا، یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ بھی وہ ہدف کی جانب درست سمت میں گامزن نہ دکھائی دیے۔ دوسرے ہی اوور میں محمد عرفان نے انتون ڈیوکچ کو صفر پر ٹھکانے لگایا اور کچھ ہی دیر میں ان کے ساتھی اوپنر مارٹن گپٹل بھی نامراد میدان سے واپس آ گئے۔

شاہد آفریدی نے تیز رفتار نصف سنچری بنائی اور تین وکٹیں بھی حاصل کیں (تصویر: AFP)

شاہد آفریدی نے تیز رفتار نصف سنچری بنائی اور تین وکٹیں بھی حاصل کیں (تصویر: AFP)

کپتان کین ولیم سن نے تجربہ کار روس ٹیلر کے ساتھ مل کر اسکور میں 45 رنز کا اضافہ کیا، لیکن اس سے پہلے کہ یہ شراکت داری خطرناک روپ اختیار کرتی، شاہد آفریدی نے کٹ شاٹ کے شوقین ٹیلر کی وکٹیں بکھیر دیں۔ ولیم سن نے ٹام لیتھم کی مدد سے مزید بغیر کسی نقصان کے نیوزی لینڈ کو تہرے ہندسے تک تو پہنچا دیا لیکن 30 اوورز کے پڑاؤ تک پہنچتے پہنچتے آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں کی تعداد 7 ہوچکی تھی، یعنی کہ جیت کے امکانات تقریباً ختم ہوگئے۔ اب صرف یہ جاننا رہ گیا تھا کہ شکست کتنے فرق سے ہوگی۔ آخری تین وکٹوں نے 55 رنز کا اضافہ کرکے اس مارجن کو کم کیا یہاں تک کہ 39 ویں اوور میں تمام کھلاڑی 217 رنز پر آؤٹ ہوگئے۔ پوری اننگز میں نہ نیوزی لینڈ کا کوئي بلے باز نصف سنچری تک پہنچ پایا اور نہ ہی کوئی شراکت داری 50 کا ہندسہ عبور کرسکی۔ ولیم سن 46 اور لیوک رونکی 41 رنز کے ساتھ نمایاں بلے باز رہے۔

پاکستان کی جانب سے شاہد آفریدی نے 37 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ اتنی ہی وکٹیں حارث سہیل کے ہاتھ بھی لگیں۔ دو وکٹیں محمد عرفان نے اور ایک، ایک احمد شہزاد اور وہاب ریاض نے حاصل کیں۔ وہاب ریاض آج پھر بہت مہنگے ثابت ہوئے جن کے 8 اوورز میں 62 رنز لوٹے گئے جبکہ حارث نے بھی 7 اوورز میں 45 رنز دیے لیکن انہوں نے کین ولیم سن کی قیمتی وکٹ سمیت تین کھلاڑیوں کو آؤٹ ضرور کیا۔

احمد شہزاد کو ایک یادگار اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گيا۔

اب تین مقابلوں کے بعد سیریز ابوظہبی منتقل ہوگی، جہاں آخری دو مقابلے 17 اور 19 دسمبر کو کھیلے جائیں گے۔

Facebook Comments