جیتنا اچھی بات، لیکن صرف کپتان کی تبدیلی سے نہیں جیتے: وقار یونس

مصباح الحق کے زخمی ہوجانے کے بعد جیسے ہی قیادت شاہد آفریدی کے ہاتھوں میں آئی، پاکستان نے پہلے ہی مقابلے میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنی تاریخ کی سب سے بڑی فتح حاصل کرلی۔ ایک طرف بلے بازوں نے 364 رنز بنا کر اپنی بھرپور قوت کا مظاہرہ کیا تو گیندبازوں نے بھی حریف کو صرف 217 رنز پر ڈھیر کردیا لیکن اس کے باوجود کوچ وقار یونس کہتے ہیں کہ جب ٹیم جیتتی ہے تو سب کو اچھا لگتا ہے اس لیے یہ تاثر قائم کرنا بالکل درست نہیں کہ پاکستان قیادت کی تبدیلی کی وجہ سے جیتا۔

شاہد آفریدی نے بہت اچھے انداز میں کپتانی کی لیکن یہ تاثر قائم کرنا کہ پاکستان قیادت کی تبدیلی کی وجہ سے جیتا، درست نہیں: کوچ وقار یونس (تصویر: AFP)

شاہد آفریدی نے بہت اچھے انداز میں کپتانی کی لیکن یہ تاثر قائم کرنا کہ پاکستان قیادت کی تبدیلی کی وجہ سے جیتا، درست نہیں: کوچ وقار یونس (تصویر: AFP)

پاکستان کے ایک روزہ کپتان مصباح الحق زخمی ہونے کی وجہ سے سیریز کے بقیہ مقابلوں سے باہر ہوگئے ہیں، جن کے لیے قیادت سابق کپتان شاہد آفریدی کے سپرد کی گئی ہے، جنہوں نے پہلے ہی مقابلے میں اپنی آل راؤنڈ کارکردگی کے ذریعے پاکستان کو جیت سے ہمکنار کیا۔ میچ میں شاہد نے صرف 26 گیندوں پر 55 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی اور پھر 37 رنز دے کر 3 وکٹیں بھی حاصل کیں۔

سوموار کو ایک گفتگو میں وقار یونس نے کہا کہ "ہمیں اپنے بارے میں اس تاثر کو ختم کرنا ہوگا کہ پاکستان کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، اور ان کی کارکردگی "پل میں تولہ، پل میں ماشہ" ہے۔"

پہلے ایک روزہ میں بمشکل 247 رنز کا ہدف حاصل کرنے کے بعد پاکستان دوسرے ون ڈے میں 252 رنز کا دفاع بھی نہ کرسکا اور نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوا۔ لیکن تیسرے مقابلے میں پاکستان کی "نازک" بیٹنگ لائن نے 364 رنز کا پہاڑ کھڑا کردیا۔ گو کہ یہ خوشی کی بات ہے لیکن کوچ وقار یونس اس عدم تسلسل سے مطمئن نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ "صرف ایک میچ میں بڑے فرق سے کامیابی حاصل کرکے پاکستان فاتح نہیں بن سکتا، اس کے لیے ہمیں بہت محنت کرنی ہوگی اور اپنی کارکردگی میں تسلسل لانا ہوگا۔ اگر ہم یکے بعد دیگرے اسی طرح کھیلیں تو پھر درمیان میں ایک شکست ہو بھی جائے تو دکھ نہیں پہنچے گا۔"

وقار یونس نے مزید کہا کہ "ٹیم انتظامیہ محمد حفیظ کی کمی پوری کرنے کے لیے باؤلنگ کے شعبے میں کام کررہی ہے۔ چند کھلاڑیوں کو باؤلنگ کے لیے آزمایا جا رہا ہے جیسا کہ پچھلے میچ میں ہم نے احمد شہزاد کو بھی باؤلنگ تھمائی، جنہوں نے ایک وکٹ بھی حاصل کیں۔ اس کے علاوہ حارث سہیل بھی بہت کامیاب ثابت ہو رہے ہیں، جو پچھلے دو مقابلوں میں 6 وکٹیں سمیٹ چکے ہیں۔" وقار کا کہنا تھا کہ ہم عالمی کپ سے پہلے حفیظ کے باؤلنگ ایکشن کو کلیئر کروانا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان مکمل قوت و صلاحیت کے ساتھ آسٹریلیا روانہ ہو۔"

پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ایک روزہ سیریز کے آخری دونوں مقابلے بدھ اور جمعے کو ابوظہبی میں کھیلے جائیں گے، جہاں کسی ایک میں بھی جیت کر پاکستان سیریز اپنے نام کرسکتا ہے۔

Facebook Comments