عالمی کپ سے باہر بھی کردیا گیا تو گلہ نہیں کروں گا: ایلسٹر کک

عالمی کپ سے صرف دو مہینے قبل دورۂ سری لنکا گویا انگلستان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا، جہاں آخری ایک روزہ مقابلے میں سری لنکا نے 87 رنز سے کامیابی حاصل کرکے سیریز پانچ-دو کے بڑے فرق سے جیت لی۔ یوں رواں سال پانچ میں سے چار سیریز میں انگلستان کو شکست ہوئی اور کپتان ایلسٹر کک کی بدقسمتی دیکھیں کہ سال بھر میں جو ایک سیریز جیتی گئی ہے،اس میں کک آرام کررہے تھے۔ یعنی ان کی قیادت میں رواں سال انگلستان تمام سیریز ہارا ہے اور انفرادی سطح پر بدترین فارم کی وجہ سے ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی کپ سے باہر بھی کردیے گئے تو انہیں شکایت نہیں ہوگی۔

انگلستان نے فروری 2013ء سے لے کر اب تک کک کی قیادت میں کوئی باہمی ایک روزہ سیریز نہیں جیتی (تصویر: Getty Images)

انگلستان نے فروری 2013ء سے لے کر اب تک کک کی قیادت میں کوئی باہمی ایک روزہ سیریز نہیں جیتی (تصویر: Getty Images)

کولمبو میں کھیلے گئے ساتویں و آخری ایک روزہ مقابلے میں بھی کک صرف 32 رنز بنانے کے بعداس وقت آؤٹ ہوئے جب محض 51 رنز پر انگلستان معین علی اور ایلکس ہیلز دونوں سے محروم ہوچکا تھا۔ بعد ازاں 303 رنز کا ہدف حاصل کرنا ایک خواب بن گیا اور پوری ٹیم 46 ویں اوور میں صرف 215 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ پورے دورے میں کک 34 رنز سے زیادہ بڑی اننگز نہ کھیل سکے اور جن 6 مقابلوں میں انہوں نے شرکت کی ان میں صرف 19.83 کے اوسط کے ساتھ 119 رنز بنا سکے۔

چند حلقے جو عرصے سے دبی دبی آواز میں کک کو قیادت سے ہٹانے کا مطالبہ کررہے تھے، اب واشگاف انداز میں کہہ رہے ہیں کہ انہیں ٹیم ہی سے باہر کردیا جائے، لیکن کیا عالمی کپ سے صرف دو مہینے پہلے اتنی بڑی تبدیلی ممکن ہوگی؟ اس سوال کا جواب آئندہ ایک ہفتے میں مل جائے گا۔ فی الحال کک کا کہنا ہے کہ رواں سال جو کارکردگی میں نے دکھائی ہے، اس پر اگر باہر بھی کردیا گیا تو وہ شکایت نہیں کرسکتے۔

حالانکہ انگلستان کے ہیڈ کوچپیٹر مورس اور مینیجنگ ڈائریکٹر پال ڈاؤنٹن کک کی حمایت کر چکے ہیں، لیکن حتمی فیصلہ رواں ہفتے سامنےآئے گا جب عالمی کپ کے لیے انگلستان کے دستے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

فروری 2013ء کے بعد سے اب تک کک کی کپتانی میں کوئی سیریز نہ جیت پانے والا انگلستان کیا دو ماہ بعد عالمی کپ میں بھی کچھ کر پائے گا؟ اس کے لیے انتظار کرنا پڑے گا۔

Facebook Comments