سعید اجمل عالمی کپ سے "دستبردار"

بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے لیے طویل و صبر آزما جدوجہد کے باوجود سعید اجمل پراسرار طور پر عالمی کپ سے دستبردار ہوگئے ہیں۔ یوں عالمی درجہ بندی میں ساتویں درجے پر جا پڑنے والے پاکستان کی اہم ترین آئندہ مہم کو ایک ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے کیونکہ وہ اب اپنے نمبر ایک گیندباز کی خدمات سے محروم ہوچکا ہے۔

گزشتہ تین ماہ کی جان توڑ محنت کے بعد سعید اجمل کا یہ فیصلہ سمجھ سے بالاتر دکھائی دیتا ہے (تصویر: Getty Images)

گزشتہ تین ماہ کی جان توڑ محنت کے بعد سعید اجمل کا یہ فیصلہ سمجھ سے بالاتر دکھائی دیتا ہے (تصویر: Getty Images)

گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کی کئی کامیابیوں کے مرکزی کردار رہنے والے سعید اجمل کو رواں سال اگست میں دورۂ سری لنکا کے دوران ناقص باؤلنگ ایکشن پر دھر لیا گیا تھا اور جانچ کے بعد ان کے باؤلنگ ایکشن کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی مقررہ حدود سے تجاوز کرتا پایا گیا جس پر آئی سی سی نے انہیں فوری طور پر بین الاقوامی کرکٹ میں باؤلنگ سے روک دیا۔ سعید اجمل کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنے باؤلنگ ایکشن کو بہتر بنا کر، اور اسے قانونی حدود کے اندر لا کر، ایک مرتبہ پھر جانچ کے مراحل سے گزریں اور بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آئیں لیکن ابھی تک جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ اتنے حوصلہ افزاء نہیں ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ سعید اجمل کو اپنے باؤلنگ ایکشن کو قانونی حدود میں لانے کے لیے مزید محنت اور وقت کی ضرورت ہے، اس لیے انہوں نے خود فیصلہ کیا ہے کہ وہ عالمی کپ کی دوڑ میں شامل نہیں رہیں گے۔ چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے لاہور میں صحافیوں کو بتایا کہ "بورڈ سعید اجمل کے کیریئر کو خطرے سے دوچار نہیں کرنا چاہتا کیونکہ تازہ ترین رپورٹیں ظاہر کررہی ہیں کہ تمام تر کوششوں کے باوجود سعید کا ایکشن اب بھی مقررہ حدود کے اندر نہیں ہے۔ ہمیں یہ بھی اندازہ ہے کہ اگر انہیں عالمی کپ میں شامل کرنے کے لیے جلدبازی کا مظاہرہ کیا گیا آئی سی سی کی دوبارہ جانچ میں وہ ناکام ہوئے تو پھر انہیں ایک سے دو سال تک کی پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کا واضح مطلب یہ ہوگا کہ سعید اجمل کا کیریئر ہی تمام ہوجائے۔"

بظاہر تو یہ بہت سیدھا سا بیان لگتا ہے لیکن سعید اجمل کی عمر دیکھی جائے تو یہ عالمی کپ کے لیے ان کے لیے زندگی و موت کا مسئلہ تھا اور جس طرح ستمبر میں پابندی عائد ہونے سے لے کر اب تک انہوں نے جان توڑ محنت کی، وہ ایسے ہمت ہارنے والے اور ہتھیار پھینکنے والے کھلاڑی نہیں لگتے۔ بہرحال، پس پردہ جو بھی عوامل ہیں، اب یہ بات تو یقینی ہے کہ آسٹریلیا و نیوزی لینڈ کے میدانوں پر سعید اجمل باؤلنگ کرواتے ہوئے نہیں دکھائی دیں گے۔

بورڈ نے سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کو بہتر بنانے کے لیے ماضی کے عظیم اسپن گیندباز ثقلین مشتاق کی خدمات حاصل کی تھیں، جنہوں نے ایک مہینے تک سعید کے ساتھ کام کیا ۔ جس کے بعد پی سی بی نے رواں ماہ کے اوائل میں سعید اجمل کے ایکشن کی دوبارہ باضابطہ جانچ کا فیصلہ کیا تھا لیکن ابتدائی غیر سرکاری جانچ کے نتائج کے بعد آئی سی سی سے باضابطہ درخواست کو موخر کردیا۔ اس ابتدائی جانچ کے مطابق سعید اجمل کی "دوسرا" تو واضح طور پر اب بھی قانونی حدود کے اندر نہیں ہے البتہ دیگر گیندیں کسی حد تک 15 درجے کے زاویے کے اندر آتی ہیں، جو آئی سی سی کی مقرر کردہ حد ہے کہ ہر باؤلر کی کہنی میں گیند پھینکتے ہوئے 15 درجے سے زیادہ کا خم نہیں ہونا چاہیے۔

سعید اجمل کا معاملہ انجام تک پہنچ جانے کے بعد اب سب نظریں پاکستان کے دوسرے اہم ترین اسپنر محمد حفیظ پر ہیں، جو اس وقت آئی سی سی کی معطلی کی زد میں ہیں۔ پی سی بی حفیظ کے باؤلنگ ایکشن کی ابتدائی غیر سرکاری جانچ کے لیے چند روز میں انہیں بھارت کے شہر چنئی بھجوا رہا ہے۔ اس جانچ کے نتائج کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا کہ آئی سی سی سے باضابطہ جانچ کی درخواست کی جائے یا نہیں۔

عالمی کپ 2015ء کے لیے تمام ٹیموں کو 7 جنوری تک اپنے حتمی 15 رکنی دستوں کا اعلان کرنا ہے، اور پاکستان کی کوشش ہوگی کہ اس تاریخ سے قبل محمد حفیظ کے معاملے کو کسی فیصلہ کن موڑ تک پہنچا دے۔

Facebook Comments