عالمی کپ: معین خان بورڈ کے خرچے پر آسٹریلیا جائیں گے

پاکستان کرکٹ بورڈ نے دو عہدوں کے معاملے پر بالآخر حتمی فیصلہ کردیا ہے اور چیف سلیکٹر معین خان کو مینیجر کی اضافی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی جگہ چیف سیکرٹری صوبہ پنجاب اور ماضی میں قومی کرکٹ ٹیم کے مینیجر کی ذمہ داریاں نبھانے والے نوید اکرم چیمہ ایک مرتبہ پھر اس عہدے پر فائز کردیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود بورڈ معین خان کو عالمی کپ کے لیے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھیجے گا، وہ بھی خطیر اخراجات اپنی جیب سے ادا کرکے۔

معین خان کی واحد ذمہ داری 7 جنوری تک عالمی کپ کے لیے دستے کے اعلان کے ساتھ مکمل ہوجائے گی، اس کے باوجود خطیر رقم خرچ کرکے انہیں عالمی کپ میں بھیجنا بورڈ کا سمجھ میں نہ آنے والا فیصلہ ہے (تصویر: AP)

معین خان کی واحد ذمہ داری 7 جنوری تک عالمی کپ کے لیے دستے کے اعلان کے ساتھ مکمل ہوجائے گی، اس کے باوجود خطیر رقم خرچ کرکے انہیں عالمی کپ میں بھیجنا بورڈ کا سمجھ میں نہ آنے والا فیصلہ ہے (تصویر: AP)

ذرائع کا کہنا ہے کہ 7 جنوری تک عالمی کپ کے لیے حتمی 15 رکنی دستے کے اعلان کے ساتھ معین خان کی واحد ذمہ داری پوری ہوجائے گی لیکن اس کے باوجود وہ فروری میں ٹیم کے ساتھ آسٹریلیا جائیں گے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے قواعد کے مطابق کھلاڑیوں اور عہدیداران پر مبنی 21 رکنی دستے کے اخراجات آئی سی سی کے ذمے ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی بھی فرد کے اخراجات مقامی بورڈ کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔ عالمی کپ کے لیے 15 کھلاڑیوں کے ساتھ ہیڈ کوچ ، بیٹنگ کوچ، فیلڈنگ کوچ، مینیجر، فزیو اور وڈیو اینالسٹ ملا کر 21 افراد پورے ہوجاتے ہیں۔ دورے پر سلیکشن کا کوئی کام نہ ہونے کے باوجود بورڈ کا چیف سلیکٹر کو اپنے خرچے پر بھیجنے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ ان کے آسٹریلیا جانے اور ٹیم کے ساتھ رہنے کے کل اخراجات تقریباً نصف کروڑ روپے بنتے ہیں۔

معین خان رواں سال اپریل میں مینیجر کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے پہلے ہی طاقتور ترین عہدیداران میں شامل تھے اور دو عہدوں میں سے ایک سے ہٹائے جانے کے باوجود ان کی قوت میں کوئی کمی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سخت گیر نوید اکرم چیمہ کے ساتھ ان کی موجودگی عالمی کپ میں کیا رنگ دکھاتی ہے۔ فی الحال تو چیمہ صاحب اگلے ماہ دورۂ نیوزی لینڈ کی تیاری پکڑ رہے ہیں جہاں پاکستان کو دو ایک روزہ مقابلے کھیلنے ہیں۔

Facebook Comments