دھونی نے ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا

اپنی دھواں دار بلے بازی کی وجہ سے حریف کو حیران کر دینے والے مہندر سنگھ دھونی نے ٹیسٹ کرکٹ کو اچانک خیرباد کہہ کر دنیائے کرکٹ کو بھی حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔

شاید گزشتہ چار سالوں میں بیرون ملک مایوس کن ٹیسٹ کارکردگی اس فیصلے کا سبب ہو (تصویر: Getty Images)

شاید گزشتہ چار سالوں میں بیرون ملک مایوس کن ٹیسٹ کارکردگی اس فیصلے کا سبب ہو (تصویر: Getty Images)

ملبورن میں کھیلے گئے تیسرے بھارت-آسٹریلیا مقابلے کے اختتام کے بعد پریس کانفرنس میں دھونی نے ایسا کوئی اشارہ تک نہیں دیا لیکن کچھ دیر بعد بھارتی کرکٹ بورڈ کے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دھونی نے فوری طور پر ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔

بھارت آسٹریلیا کے میدانوں پر پے در پے شکست کے بعد ملبورن ٹیسٹ ڈرا کرنے میں کامیاب ہوگیا جہاں 384 رنز کے ہدف کے تعاقب میں وہ 6 وکٹوں پر 174 رنز ہی بنا سکا جبکہ دھونی 24 گیندوں پر ناقابل شکست تھے جب مقابلہ بغیر کسی نتیجے تک پہنچے اختتام پذیر ہوا۔ اس نتیجے کے باوجود بھارت سیریز میں شکست سے نہیں بچ سکا کیونکہ آسٹریلیا ابتدائی دونوں مقابلوں میں فتوحات حاصل کرچکا تھا۔ یوں بارڈر-گاوسکر ٹرافی آسٹریلیا کے نام ہوئی۔

لیکن اس مقابلے کے نتیجے سے قطع نظر اب سب سے بڑی خبر دھونی کا اچانک ٹیسٹ چھوڑ دینے کا اعلان ہے۔ دھونی زخمی ہونے کی وجہ سے سیریز کا پہلا مقابلہ بھی نہیں کھیل پائے تھے جہاں قیادت کے فرائض ان کے نائب ویراٹ کوہلی نے انجام دیے تھے اور اب سیریز کے آخری مقابلے میں بھی وہی کپتان ہوں گے جو 6 جنوری سے سڈنی میں کھیلا جائے گا۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری سنجے پٹیل نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "بھارتی تاریخ کے عظیم ترین کپتانوں میں سے ایک مہندر سنگھ دھونی، کہ جن کی زیر قیادت بھارت نے ٹیسٹ درجہ بندی میں پہلا مقام بھی حاصل کیا، نے ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے یہ فیصلہ تمام طرز کی کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے خود پر اضافی دباؤ کے پیش نظر کیا ہے اور اب وہ ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی طرز پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے۔ بی سی سی آئی دھونی کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ کے لیے ان کی عظیم خدمات اور بھارت کو خوشی کے کئی لمحات عطا کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہے۔"

2011ء میں ایک روزہ کا عالمی چیمپئن بننے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں بھارت کی کارکردگی بہت مایوس کن رہی اور اس پورے عرصے میں وہ بیرون ملک 22 میں سے صرف دو ٹیسٹ مقابلے جیت پایا۔ اس کے باوجود دھونی 60 مقابلوں میں 27 فتوحات کے ساتھ بھارت کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان ہیں۔

دھونی نے پہلی بار اپریل 2008ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف کانپور میں بھارت کی قیادت کی تھی اور پھر انیل کمبلے کے بعد مستقل یہ ذمہ داری حاصل کرلی۔ دھونی نے مجموعی طور پر 90 ٹیسٹ مقابلے کھیلے اور 38 سے زیادہ کے اوسط کے ساتھ 4876 رنز بنائے، جس میں چھ سنچریاں اور 33 نصف سنچریاں شامل تھیں۔
ان کی بہترین اننگز 224 رنز کی تھی جو گزشتہ سال آسٹریلیا کے خلاف کھیلی گئی۔ دھونی نے وکٹوں کے پیچھے 294 شکار بھی کیے جن میں سے 256 کیچ تھے۔

Facebook Comments