[سالنامہ 2014ء] پاکستان کے لیے شاندار اور ناقابل یقین ٹیسٹ فتوحات کا سال

سال 2014ء اپنے اختتام کو پہنچا اور نئے سال کا سورج بس چند گھنٹوں میں سرزمین پاک پر طلوع ہونے والا ہے۔ نئی امیدوں، نئی تمناؤں اور نئی امنگوں کے ساتھ ہر پاکستانی کی خواہش ہوگی کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے میدانوں پر سرخرو ہو اور 23 سال بعد عالمی چیمپئن کا تاج پہنے۔ ایک روزہ کرکٹ میں حالیہ مایوس کن کارکردگی کے بعد اس نتیجے کی توقع تو کم ہے لیکن پاکستان 2014ء میں ٹیسٹ کرکٹ میں پیش کی گئی اپنے چند لازوال مظاہروں سے حوصلہ پاتے ہوئے ایسا کر بھی سکتا ہے۔ جنوری میں سری لنکا کے خلاف شارجہ ٹیسٹ اور پھر آسٹریلیا کے خلاف دو شاندار فتوحات ایسی ہیں کہ آنے والی کئی نسلیں انہیں یاد رکھیں گی۔ ان یادگار فتوحات کے باوجود پاکستان کے لیے سال 2014ء ٹیسٹ کرکٹ میں ایک ملا جلا سال رہا۔ چار ہی فتوحات اور چار ہی شکستیں۔ ایک طرف متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں سری لنکا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف جامع فتوحات ہیں تو دوسری جانب دورۂ سری لنکا میں اور سال کے آخری ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں بدترین شکستیں بھی سامنے ہیں۔

چالیس سالہ مصباح الحق رواں سال سب سے نمایاں رہے، تیز ترین نصف سنچری اور سنچری کے ریکارڈ اور چند دیگر یادگار اننگز مدتوں یاد رکھی جائیں گی (تصویر: Getty Images)

چالیس سالہ مصباح الحق رواں سال سب سے نمایاں رہے، تیز ترین نصف سنچری اور سنچری کے ریکارڈ اور چند دیگر یادگار اننگز مدتوں یاد رکھی جائیں گی (تصویر: Getty Images)

گو کہ پاکستان نے 2014ء کا آغاز بہت عمدگی سے کیا۔ سری لنکا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ کا آغاز 31 دسمبر 2013ء کو ہوا تھا اور سال کے آخری دن کا سورج غروب ہونے سے پہلے پاکستان سری لنکا کو 204 رنز پر ڈھیر کرچکا تھا۔ لیکن پہلی اننگز میں 179 رنز کی برتری حاصل کرنے کے باوجود پاکستان سری لنکا کو مات نہ دے سکا، جس میں اہم کردار سری لنکا کے کپتان اینجلو میتھیوز کی دو قائدانہ اننگز کا تھا۔ پاکستان مقابلے پر گرفت مضبوط کرنے کے بعد جیتنے میں ناکام رہا اور سری لنکا نے ڈرا کے نتیجے سے اتنا حوصلہ پہلا کہ دوسرے ٹیسٹ میں 9 وکٹوں نے شاندار جیت حاصل کرکے سیریز میں ناقابل شکست برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

پاکستان کی دفاعی منصوبہ بندی ایک مرتبہ پھر زبردست تنقید کی زد میں تھی اور جب ٹیم 16 جنوری کو تیسرا ٹیسٹ کھیلنے کے لیے شارجہ میں اتری تو سری لنکا کے 429 رنز نے اس کے ارمانوں کو بالکل ٹھنڈا کردیا۔ پاکستان احمد شہزاد کی سنچری اور دیگر بلے بازوں کے اچھے ساتھ کے باوجود اس مجموعے کو نہ پہنچ سکا۔ سری لنکا 87قیمتی رنز کی برتری کے بعد مزید 214 رنز جوڑنے میں کامیاب ہوگیا۔ اور پاکستان کو آخری روز 59 اوورز میں 302 رنز کا ہدف ملا۔ وہی ہدف جو پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں 62 اوورز میں حاصل کرنا تھا، اور اس نے جیتنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔ لیکن پاکستان کی "رگ جاں پنجہ لنکا میں" تھی اور اسے ہر قیمت پر مقابلہ جیتنا تھا۔ یہاں پاکستان نے معجزہ کر دکھایا، 58 ویں اوور میں ہی 302 رنز کے ہدف کو جا لیا جس میں اظہر علی کی سنچری اور مصباح الحق اور سرفراز احمد کی دھواں دار بیٹنگ کا کردار کلیدی تھا۔ سیریز داؤ پر لگنے کے بعد ایسی کارکردگی گو کہ کافی تاخیر سے دکھائی گئی لیکن اس کی وجہ سے پاکستان سیریز میں شکست سے بچ گیا۔

بلاشبہ یہ سال کے دلچسپ ترین ٹیسٹ لمحات میں سے ایک تھا۔ پاکستان، جو محدود اوورز کی کرکٹ میں بھی ہدف کے تعاقب میں ہمیشہ کمزوری دکھاتا ہے، ٹیسٹ میں پانچویں دن کی وکٹ پر 5 رنز فی اوور سے زیادہ کے اوسط کے ساتھ ہدف حاصل کرے گا، کسی کو یقین نہیں آتا تھا۔ ڈیو واٹمور کے عہد کا خاتمہ ایک یادگار جیت کے ساتھ ہوا۔

اس کے بعد پاکستان کو تقریباً 8 مہینوں تک ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کو نہیں ملی۔ اگست کے مہینے میں دو ٹیسٹ کھیلنے کے لیے سری لنکا کا دورہ کیا گیا، جو اگر نہ ہوتا تو زیادہ بہتر تھا۔ کیونکہ طویل طرز کی کرکٹ میں پاکستان کا سال میں بدترین لمحہ تھا۔ گال میں پہلی اننگز میں 451 رنز بنانے کے باوجود 7 وکٹوں کی شکست اور اس کے بعد کولمبو میں 271 رنز کے تعاقب میں 165 رنز پر ڈھیر ہوکر پاکستان دو-صفر سے سیریز ہارگیا اور ساتھ ساتھ اپنے نمبر ایک گیندباز سعید اجمل سے بھی محروم ہوگیا۔

پاکستان سعید اجمل کی صورت میں سال کا سب سے بڑا نقصان اٹھانا پڑا جو غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کی وجہ سے اب کرکٹ سے باہر ہیں (تصویر: AP)

پاکستان سعید اجمل کی صورت میں سال کا سب سے بڑا نقصان اٹھانا پڑا جو غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کی وجہ سے اب کرکٹ سے باہر ہیں (تصویر: AP)

گال ٹیسٹ کے دوران امپائروں نے سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن پر شک کا اظہار کیا اور جانچ کے بعد انہیں بین الاقوامی کرکٹ میں باؤلنگ سے روک دیا گیا۔ یہاں تک کہ تین مہینوں کی کوشش کے بعد بھی سعید اپنے ایکشن کو قانونی حدود کے اندر نہیں لا سکے۔ بلاشبہ یہ پاکستان کے لیے سال کا سب سے بڑا نقصان تھا اور اگر آئندہ سال عالمی کپ کو مدنظر رکھیں تو شاید ناقابل تلافی نقصان۔

اس نقصان کے بعد پاکستان کو سال کی سب سے اہم سیریز میں آسٹریلیا کا سامنا کرنا تھا۔ ایک روزہ اور ٹی ٹوئںٹی مرحلے کے تمام مقابلوں میں شکست کے بعد دو ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز اس عالم میں کھیلی گئی کہ پاکستان اپنے تمام اہم گیندبازوں کے بغیر کھیلنے پر مجبور تھا۔ نہ سعید اجمل تھے، نہ محمد عرفان، نہ عمر گل، جنید خان اور وہاب ریاض۔ اس صورت میں باؤلنگ کی ذمہ داری ناشناس سے چہروں پر تھی، عمران خان، راحت علی، ذوالفقار بابر اور یاسر شاہ۔ ان نوآموز کھلاڑیوں نے دنیا کی بہترین ٹیسٹ ٹیم کو چاروں شانے چت کیا۔ پہلے ٹیسٹ میں 221 اور دوسرے میں 356 رنز کی کامیابی نے پاکستان کے قدم چومے۔ یونس خان، مصباح الحق، اظہر علی اور سرفراز احمد کی بلے بازی ایک طرف اور ذوالفقار بابر اور یاسر شاہ کی باؤلنگ ایک طرف، آسٹریلیا کو کوئی جائے فرار نہ ملی اور مصباح الحق کے حصے میں ایک اور تمغہ آیا کہ وہ آسٹریلیا کو شکست دینے والے پاکستانی کپتانوں میں سے ایک بن گئے۔

پاکستان کے لیے سال کا آغاز اور اختتام شکست کے ساتھ ہوا لیکن درمیان میں سری لنکا کے خلاف شارجہ ٹیسٹ اور پھر آسٹریلیا کے خلاف دو یادگار فتوحات نمایاں رہیں (تصویر: Getty Images)

پاکستان کے لیے سال کا آغاز اور اختتام شکست کے ساتھ ہوا لیکن درمیان میں سری لنکا کے خلاف شارجہ ٹیسٹ اور پھر آسٹریلیا کے خلاف دو یادگار فتوحات نمایاں رہیں (تصویر: Getty Images)

مصباح الحق نے ابوظہبی میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ کے دوران تیز ترین نصف سنچری اور تیز ترین سنچری کے نئے ریکارڈز بنائے اور جو ان کے روایتی دھیمے انداز کے بالکل برعکس تھا۔

سال کا اختتام نیوزی لینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز کے ساتھ ہوا جہاں ابوظہبی میں پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف پیش کردہ کارکردگی دہرائی اور 248 رنز سے کامیابی سمیٹی لیکن دوسرے مقابلے میں 261 رنز کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا اور مقابلہ بغیر کسی نتیجے تک پہنچے تمام ہوا۔ شارجہ میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ کے دوران دنیائے کرکٹ سے فلپ ہیوز کی اندوہناک موت کی خبر سنی جس کی وجہ سے مقابلہ ایک روز کے لیے موخر کردیا گیا اور اس کے بعد کہانی تبدیل ہوگئی۔ نیوزی لینڈ اپنے کپتان برینڈن میک کولم کی دھواں دار ڈبل سنچری کی بدولت مقابلے میں ایسا بالادست مقام حاصل کرگیا کہ پاکستان کو سال کے آخری ٹیسٹ میں ایک اننگز اور 80 رنز کی بڑی شکست کھاتے ہی بنی۔

اس شکست کے باوجود سال 2014ء ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے لیے نمایاں رہا۔ دورۂ سری لنکا کو ایک طرف رکھیں تو پاکستان نے شاذونادر ہی ایسی کارکردگی پیش کی ہے۔ رواں سال پاکستان نے عالمی درجہ بندی میں تیسرا مقام تک حاصل کیا جو ظاہر کرتا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کی موجودہ ذہنی ساخت ٹیسٹ کے لیے بالکل موزوں ہے اور اگر پاکستان ایک روزہ کرکٹ میں بھی اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا چاہتا ہے تو اسے بالکل مختلف مائنڈسیٹ کے ساتھ کھیلنا ہوگا۔

سرفراز احمد اور یاسر شاہ کو اگر سال کی بڑی دریافت کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ان دونوں کھلاڑیوں نے کئی اہم مواقع پر پاکستان کو جیت سے ہمکنار کیا۔ سرفراز نے جس تواتر کے ساتھ رواں سال بیٹنگ کی ہے اس نے شاید پاکستان سے "اکمل عہد" کا ہی خاتمہ کردیا ہے جبکہ یاسر کی صورت میں طویل عرصے کے بعد قومی منظرنامے پر ایک لیگ اسپنر کی آمد ہوئی ہے۔

پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کارکردگی جتنی نمایاں رہی، بدقسمتی سے ایک روزہ میں اتنی ہی بھیانک کارکردگی پیش کی۔ جس کا احوال ہم آپ کو سالنامے کی اگلی تحریر میں بتائیں گے۔ تب تک آپ پاکستان کے کھلاڑیوں کی ٹیسٹ میں انفرادی کارکردگی ملاحظہ کیجیے جن میں یونس خان اور یاسر شاہ سب سے نمایاں ہیں۔

پاکستان: سال 2014ء کے بہترین بلے باز

بلے باز ملک مقابلے رنز بہترین اننگز اوسط سنچریاں نصف سنچریاں چوکے چھکے
یونس خان  پاکستان 10 1213 213 71.35 6 2 101 12
مصباح الحق  پاکستان 10 882 135 63.00 4 4 74 17
اظہر علی  پاکستان 8 770 109 51.33 3 3 58 2
سرفراز احمد  پاکستان 9 743 112 67.54 3 4 75 2
احمد شہزاد  پاکستان 8 693 176 46.20 3 2 64 7
محمد حفیظ  پاکستان 6 579 197 64.33 2 2 70 5

پاکستان: سال 2014ء کے بہترین گیندباز

گیندباز ملک مقابلے رنز وکٹیں بہترین باؤلنگ/اننگز بہترین باؤلنگ/میچ اوسط
یاسر شاہ پاکستان 5 710 27 5/79 7/116 26.29
ذوالفقار بابر پاکستان 5 864 27 5/74 8/233 32.00
جنید خان پاکستان 5 590 18 5/87 5/87 32.77
راحت علی پاکستان 7 664 17 4/22 6/70 39.05
سعید اجمل پاکستان 5 750 17 5/166 5/173 44.11
محمد حفیظ پاکستان 6 381 9 2/38 3/51 42.33

Facebook Comments