سڈنی ٹیسٹ میں مچل جانسن کی شرکت مشکوک

نومبر اواخر میں جس میدان پر آسٹریلیا کے نوجوان اوپنر فلپ ہیوز نے جان لیوا زخم کھایا، 6 جنوری سے وہیں آسٹریلیا بارڈر-گاوسکر ٹرافی کا آخری مقابلہ کھیلے گا۔ اس لیے سیریز جیتنے کے باوجود آسٹریلیا ہر قیمت اس چوتھے ٹیسٹ میں بھی فتح حاصل کرنا چاہے گا تاکہ اسے فلپ ہیوز کے نام کرسکے لیکن اس مقابلے سے قبل ہی آسٹریلیا کو بڑا دھچکا پہنچ سکتا ہے کیونکہ اس کے اہم گیندباز مچل جانسن کی سڈنی ٹیسٹ میں شرکت یقینی نہیں۔

اگر مچل جانسن سڈنی ٹیسٹ نہ کھیلے تو شائقین کو جانسن اور ویراٹ کوہلی کی کشمکش دیکھنے کو نہیں ملے گی اور آخری جنگ پھیکی رہ جائے گی (تصویر: Getty Images)

اگر مچل جانسن سڈنی ٹیسٹ نہ کھیلے تو شائقین کو جانسن اور ویراٹ کوہلی کی کشمکش دیکھنے کو نہیں ملے گی اور آخری جنگ پھیکی رہ جائے گی (تصویر: Getty Images)

تین ٹیسٹ میں 13 وکٹیں حاصل کرنے والے "مچ" ران کی تکلیف کی وجہ سے ہفتے کو پریکٹس سیشن میں بھی شرکت نہیں کرسکے۔ سڈنی ٹیسٹ میں ان کی شرکت کا حتمی فیصلہ میچ کے آغاز سے قبل حتمی جانچ کے بعد ہی ہوگا۔

ان منفی خبر کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مچل جانسن کو عالمی کپ سے پہلے درکار آرام کا موقع مل جائے کیونکہ معمولی انجری کی صورت میں بھی سلیکٹرز انہیں کھلانے کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ پھر سیریز میں فیصلہ کن برتری کے بعد آسٹریلیا چوتھے ٹیسٹ میں ان کھلاڑیوں کو بھی موقع دینا چاہے گا جنہیں تمام میچز نہیں کھلائے گئے، جیسا کہ نوجوان مچل اسٹارک جو اب تک ٹیسٹ میں اپنا مقام مضبوط کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

دوسری جانب بھارت مہندر سںگھ دھونی کی ریٹائرمنٹ کے بعد اب ویراٹ کوہلی کی زیر قیادت آخری ٹیسٹ کھیلے گا۔ ویراٹ اور مچل جانسن کے درمیان جو الفاظ کی جنگ جاری ہے، اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے آخری ٹیسٹ میں دونوں کا کھیلنا ضروری ہے، ورنہ آخری معرکہ پھیکا رہ جائے گا۔

Facebook Comments