[سالنامہ 2014ء] پاکستان اور ٹی ٹوئنٹی، دو قدم آگے، ایک قدم پیچھے

سال 2014ء، بلکہ پچھلے کئی سالوں سے، میدان عمل میں پاکستان کی حکمت عملی صاف ظاہر کرتی ہے کہ اس کے ذریعے صرف ٹیسٹ مقابلے ہی جیتے جا سکتے ہیں، اور گزشتہ سال یہ بات ثابت بھی ہوئی۔ جو چند فتوحات ملیں، وہ صرف ٹیسٹ میں حاصل ہوئیں اور محدود اوورز کی کرکٹ میں پاکستان کا دامن بالکل خالی رہا۔ سال بھر میں کوئی ون ڈے نہ سیریز جیتنے والا پاکستان ٹی ٹوئنٹی طرز میں بھی نہ کوئی ٹورنامنٹ جیت سکا اور نہ کوئی سیریز۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شکست کے بعد پاکستان کے پاس کسی نئے کھلاڑیوں کو بحیثیت کپتان آزمانے کا اچھا موقع تھا، لیکن شاہد آفریدی کو "نیا" کپتان بنانے کا فیصلہ کیا گیا، وہ بھی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء تک (تصویر: AFP)

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شکست کے بعد پاکستان کے پاس کسی نئے کھلاڑیوں کو بحیثیت کپتان آزمانے کا اچھا موقع تھا، لیکن شاہد آفریدی کو "نیا" کپتان بنانے کا فیصلہ کیا گیا، وہ بھی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء تک (تصویر: AFP)

پاکستان کی سال بھر کی ٹی ٹوئنٹی کارکردگی کو صرف ایک مقابلے سے سمجھا جا سکتا ہے، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اہم ترین میچ کہ جہاں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں پر قابو پالیا لیکن آخری پانچ اوورز میں آل راؤنڈرز کے ہاتھوں 82 رنز کی مار کھائی اور پھر بلے بازی کے بدترین مظاہرے کے بعد تقریباً اسی فرق سے میچ ہار گیا اور تاریخ میں پہلی بار ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی نہ کرسکا۔

ٹی ٹوئنٹی طرز میں پاکستان کی ناکامیوں کا آغاز ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں روایتی حریف بھارت کے خلاف ابتدائی مقابلے سے ہوا۔ یوم پاکستان سے صرف دو روز قبل جب ڈھاکہ میں بھارت کی باؤلنگ کے سامنے صرف 130 رنز بنانے کے بعد یہ توقع بے کار تھی کہ پاکستان جیت پائے گا۔ بھارت نے صرف تین وکٹوں کے نقصان پر باآسانی ہدف کو جا لیا اور پاکستان کو پہلی ضرب پہنچائی۔

اب پاکستان کو بہت بڑی مشکل کا سامنا تھا۔ اسے اگلے مقابلے میں آسٹریلیا کو شکست دینا تھی اور اسی صورت میں اس کے اگلے مرحلے تک پہنچنے کے امکانات ہوتے۔ وہی آسٹریلیا جس نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2010ء کے سیمی فائنل میں ناقابل یقین انداز میں پاکستان کو باہر کردیا تھا لیکن پاکستان کی جانب سے 192 رنز کا دیا گیا ہدف اتنا تھا کہ آسٹریلیا گلین میکس ویل اور آرون فنچ کی دھواں دار بلے بازی کے باوجود وہاں تک نہ پہنچ سکا۔ دونوں بلے بازوں نے صرف 65 گیندوں پر 118 رنز جوڑ کر پاکستان کے اعصاب کا بھرپور امتحان لیا۔ پاکستان اس بڑے امتحان سے سرخرو ہو کر نکلا تو امید تھی کہ اب کوئی رکاوٹ اس کی راہ میں آڑے نہیں آئے گی۔ بڑے ٹورنامنٹ جیتنے والی تمام ہی ٹیمیں اسی طرح مشکل مقابلوں سے ظفر مند ہو کر نکلتی ہیں اور پھر منزل پر پہنچ کر دم لیتی ہیں۔ پاکستان نے احمد شہزاد کی تاریخی سنچری کی بدولت اگلے مقابلے میں میزبان بنگلہ دیش کو چت کیا اور یکم اپریل کو اہم ترین مقابلے کے لیے ویسٹ انڈیز کے سامنے آیا۔

جب شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز پہلے بلے بازی کرتے ہوئے چودہویں اوور میں صرف 81 رنز پر پانچ وکٹوں سے محروم ہوچکا تھا تو کسی کو آنے والے طوفان کا اندازہ نہیں تھا۔ جب بلے باز کام نہ آئے تو آل راؤنڈرز نے کارکردگی دکھائی اور ویسٹ انڈیز آخری پانچ اوورز میں 82 رنز بنا کر 166 رنز تک پہنچ گیا۔

167 رنز کے ہدف کا تعاقب پاکستان کی گزشتہ دو میچز کی بلے بازی کو دیکھتے ہوئے بہت زیادہ نہیں تھا لیکن صفر پر دونوں اوپنرز کے آؤٹ ہوجانے کے بعد ٹیم ایک لمحے کے لیے بھی نہ سنبھل سکی اور پوری ٹیم 82 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ ایسا محسوس ہوا کہ پاکستان نے "اپریل فول" منایا، کیونکہ یہ تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ پاکستان کسی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے سیمی فائنل تک نہیں پہنچا۔ شکستہ دل محمد حفیظ نے کچھ ہی دن بعد قیادت سے استعفیٰ دیا اور پاکستان کی کرکٹ تاریخ میں ایک انوکھی مثال قائم کی۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ میں پہلی بار سیمی فائنل تک رسائی میں ناکامی کے بعد محمد حفیظ نے قیادت سے استعفیٰ دے کر ایک اچھی مثال قائم کی (تصویر: AFP)

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ میں پہلی بار سیمی فائنل تک رسائی میں ناکامی کے بعد محمد حفیظ نے قیادت سے استعفیٰ دے کر ایک اچھی مثال قائم کی (تصویر: AFP)

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے باہر ہوجانے کے بعد پاکستان کو باقی پورے سال میں صرف تین ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلنے کو نصیب ہوئے جن میں صرف ایک میں اسے جیت نصیب ہوئی۔ پاکستان نے حفیظ کے بعد ایک مرتبہ پھر شاہد آفریدی کو کپتان مقرر کیا لیکن وہ بھی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز جیتنے میں کامیاب نہ ہوئے۔

اکتوبر میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے واحد ٹی ٹوئںٹی میں پاکستان کو 6 وکٹوں کی بھاری شکست ہوئی جبکہ نیوزی لینڈ کے مقابلے میں پہلا ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے باوجود فیصلہ کن مقابلے میں 17 رنز سے شکست ہوئی اور یوں پاکستان کے لیے ٹی ٹوئنٹی کے مایوس کن سال کا اختتام ہوا۔ سال بھر میں کسی سیریز یا ٹورنامنٹ کی ٹرافی پاکستان کو نصیب نہیں ہوئی۔

شکستیں زخموں کی طرح ہوتی ہیں۔ ان کے لیے وقت، اور آنے والی فتوحات، سب سے بڑا مرہم ہوتی ہیں۔ لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء تک شاہد آفریدی کو کپتان مقرر کرکے ایک قدم آگے بڑھنے کے بجائے دو قدم پیچھے کا سفر شروع کیا ہے۔ دنیا بھر کی ٹیمیں اپنے نوجوان کھلاڑیوں کو ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے ذریعے بین الاقوامی کرکٹ میں کپتانی کا تجربہ دیتی ہیں۔ انگلستان سے لے کر آسٹریلیا اور سری لنکا سے لے کر نیوزی لینڈ تک، تمام ٹیمیں مستقبل کے کپتان کو ٹی ٹوئنٹی میں آزماتی ہیں لیکن پاکستان نے بجائے قیادت کسی نوجوان اور ابھرتے ہوئے کھلاڑی کے سونپنے کے، تین سال پرانے کپتان کے حوالے کردی، وہ بھی اگلے دو سالوں کے لیے۔ پھر سال کے بقیہ مقابلوں میں اس "نئے" کپتان کی زیر قیادت بھی ٹیم فتوحات کی راہ پر گامزن نہ ہوسکی۔ ہمیشہ کی طرح کسی بڑے سانحے یا بڑی شکست کا انتظار کیا جائے گا اور پھر نئے سرے سے دستہ تشکیل دیا جائے گا۔ کیا پاکستان کرکٹ میں وقت سے پہلے حکمت عملی ترتیب دینے کا کوئی رواج نہیں؟ لگتا تو ایسا ہی ہے۔

بہرحال، سال بھر میں کھیلے گئے 7 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں پاکستان نے صرف 3 جیتے اور 4 میں شکست کھائی اور ایک روزہ ہی کی طرح ٹی ٹوئنٹی میں بھی تمام قابل ذکر ٹیموں میں سب سے کم مقابلے جیتے۔ زیر نظر جدول سے پاکستان اور دیگر ٹیموں کی سال بھر کی ٹی ٹوئنٹی کارکردگی ظاہر ہے۔

سال 2014ء: سب سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی فتوحات حاصل کرنے والی ٹیمیں

ملک مقابلے فتوحات شکستیں برابر مقابلے بہترین مجموعہ کمترین مجموعہ*
آسٹریلیا 13 9 4 0 213 86
سری لنکا 9 8 1 0 189 119
ویسٹ انڈیز 15 7 7 0 179 -
نیوزی لینڈ 10 6 4 0 189 60
بھارت 7 5 2 0 177 -
جنوبی افریقہ 10 4 6 0 196 -
انگلستان 12 3 9 0 200 88
آئرلینڈ 5 3 2 0 189 -
نیدرلینڈز 7 3 4 0 193 39
پاکستان 7 3 4 0 191 82
بنگلہ دیش 10 2 7 0 166 98
ہانگ کانگ 4 2 2 0 153 69
نیپال 4 2 2 0 149 72
زمبابوے 3 2 1 0 163 -
افغانستان 3 1 2 0 154 72
متحدہ عرب امارات 3 0 3 0 151 151

*جس اننگز میں ٹیم آل آؤٹ ہوئی

اگر انفرادی سطح پر کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو بلے بازوں میں احمد شہزاد سب سے نمایاں ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی تاریخ کی پہلی سنچری بنائی اور مجموعی طور پر 6 مقابلو ں میں 36.20 کے اوسط سے 191 رنز بنائے۔ ایک روزء کی طرح یہاں بھی ان کے بعد عمر اکمل کا نام ہے کہ جنہوں نے 27 کے اوسط کے ساتھ 166 رنز بنائے۔ باقی کوئی پاکستانی بلے باز سال بھر میں 100رنز بھی نہ بنا سکا۔

سال 2014ء: ٹی ٹوئنٹی میں بہترین پاکستانی بلے باز

بلے باز ملک مقابلے رنز بہترین اننگز اوسط نصف سنچریاں سنچریاں
احمد شہزاد پاکستان 6 181 111* 36.20 0 1
عمر اکمل پاکستان 7 166 94 27.66 1 0
شاہد آفریدی پاکستان 7 98 28 19.60 0 0
سرفراز احمد پاکستان 2 77 76* 77.00 1 0
محمد حفیظ پاکستان 6 66 19 11.00 0 0

گیندبازوں میں شاہد آفریدی اور عمر گل 8، 8 وکٹوں کے ساتھ نمایاں رہے ۔ باقی گیندبازوں کا حال یہ رہا۔

سال 2014ء: ٹی ٹوئنٹی میں بہترین پاکستانی گیندباز

گیندباز ملک مقابلے رنز وکٹیں بہترین باؤلنگ اوسط اکانمی ریٹ
شاہد آفریدی پاکستان 7 175 8 2/30 21.87 6.48
عمر گل پاکستان 5 147 8 3/30 18.37 8.40
رضا حسن پاکستان 3 65 4 2/17 16.25 5.41
سعید اجمل پاکستان 4 112 4 2/20 28.00 7.46
سہیل تنویر پاکستان 4 107 4 2/24 26.75 7.13

درحقیقت 2013ء میں ٹی ٹوئنٹی کی عمدہ کارکردگی کے بعد پاکستان سے بڑی توقعات وابستہ تھیں، اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں عمدہ نتائج پاکستان کو مختصر ترین طرز کی کرکٹ میں کافی آگے لے جا سکتے تھے لیکن ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں ہار نے پاکستان کے حوصلے ایسے توڑے کہ پھر سال بھر ٹیم شکست کے گرداب سے نہ نکل سکی اور مستقبل کے لیے جس طرح کی منصوبہ بندی تیار کی گئی ہے، کم از کم اس سے بھی یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ پاکستان فتوحات کی راہ پر گامزن ہوگا۔

Facebook Comments