پاکستان کو سخت دھچکا، حفیظ غیر سرکاری جانچ میں ناکام

عالمی کپ کے آغاز میں اب ڈیڑھ مہینے کا وقت بھی نہیں بچا اور ایک روزہ کرکٹ میں سخت جدوجہد کرنے والے پاکستان کی مہم کو دوسرا ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ آل راؤنڈر محمد حفیظ بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے اپنا باؤلنگ ایکشن شفاف قرار دلوانے سے پہلے غیر سرکاری جانچ کا مرحلہ بھی عبور نہیں کرسکے۔

اب محمد حفیظ کے عالمی کپ کھیلنے کا صرف ایک امکان ہے کہ انہیں بلے باز کی حیثیت سے حتمی دستے میں شامل کیا جائے (تصویر: AFP)

اب محمد حفیظ کے عالمی کپ کھیلنے کا صرف ایک امکان ہے کہ انہیں بلے باز کی حیثیت سے حتمی دستے میں شامل کیا جائے (تصویر: AFP)

بھارت کے شہر چنئی میں واقع سری رام چندر یونیورسٹی میں ہونے والی غیر سرکاری جانچ میں محمد حفیظ کی 11 میں سے چھ گیندوں قانونی حدود سے تجاوز کرتی پائی گئیں۔ 'اوور دی وکٹ' پھینکی گئی گیندوں میں محمد حفیظ کی کہنی میں اوسطاً 16 درجے کا خم پایا گیا جبکہ 'راؤنڈ دی وکٹ' پانچ میں سے دو گیندیں اس حد کو عبور کرگئیں۔ آئی سی سی قوانین کے مطابق گیند پھینکتے ہوئے باؤلر کی کہنی میں 15 درجے سے زیادہ کا خم نہیں ہونا چاہیے۔

محمد حفیظ نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز کے دوران غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کے خلاف چلنے والی مہم کی زد میں آئے تھے۔ بعد ازاں آئی سی سی کی منظور شدہ تنصیب سے جانچ کے بعد ظاہر ہوا کہ ان کا باؤلنگ ایکشن قانونی حدود کے اندر نہیں ہے، جس کی بنیاد پر انہیں فوری طور پر بین الاقوامی کرکٹ میں باؤلنگ سے روک دیا گیا البتہ اپنے باؤلنگ ایکشن کر بہتر بنا کر آئی سی سی سے دوبارہ جانچ کی درخواست کا دروازہ کھلا تھا۔ حفیظ نے باضابطہ درخواست کے اس مرحلے تک پہنچنے سے پہلے چنئی سے غیر سرکاری طور پر اپنے باؤلنگ ایکشن کی جانچ کروائی لیکن اب مایوس کن نتائج کے بعد وہ آئی سی سی کا رخ کرنے کی جرات نہیں کرسکتے، کیونکہ اگر دوبارہ جانچ میں ناکام ہوئے تو ان پر آئی سی سی ان پر کم از کم ایک سال کی پابندی لگا دے گا۔

اس تازہ صورتحال کے بعد محمد حفیظ کے عالمی کپ کھیلنے کے امکانات کو بھی سخت ٹھیس پہنچی ہے۔ وہ نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ ایک روزہ میں بطور بلے باز شریک ہوئے تھے اور اب عالمی کپ میں بھی ان کی شرکت کا واحد امکان یہی ہے۔

حفیظ بین الاقوامی درجہ بندی میں سعید اجمل کے بعد پاکستان کے دوسرے بہترین باؤلر تھے لیکن پاکستان عالمی کپ سے پہلے ان دونوں گیندبازوں سے محروم ہوچکا ہے۔ گو کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی سرزمین پر اسپن گیندبازوں کا کردار اتنا فیصلہ کن اور واضح نہیں ہوگا لیکن اس کے باوجود دو 'ورلڈ کلاس' اسپنرز کی عدم موجودگی پے در پے شکستوں کا سامنا کرنے والے پاکستانی دستے کے حوصلے مزید پست کرے گی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ محمد حفیظ کی بلے بازی پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں آئندہ چند دنوں میں اعلان کردہ 15 رکنی حتمی دستے میں شامل کرتا ہے یا پھر کسی دوسرے آل راؤنڈر پر اعتماد کیا جاتا ہے۔

Article Tags

Facebook Comments