دھونی کی ریٹائرمنٹ، ذہن میں کلبلاتے چند سوالات

ابھی مہندر سنگھ دھونی کے متبادل پر ہونے والی بحث کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچی تھی کہ 'ایم ایس' نے ایک عجیب و حیرت انگیز فیصلہ کر ڈالا۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ قیادت چھوڑ دی بلکہ ٹیسٹ کرکٹ کو ہی خیرباد کہہ گئے۔ دھونی گرچہ بحیثیت ٹیسٹ کپتان کوئی خاطر خواہ نتائج نہیں دے رہے تھے اور بیرون ملک بھارت کی کارکردگی اپنی جگہ برقرار تھی لیکن بحیثیت وکٹ کیپر اور بلے باز شاید ابھی وہ وقت نہیں آیا تھا کہ دھونی طویل طرز کی کرکٹ کو الوداع کہہ دیتے۔ پھر اس فیصلے کا دوسرا سنگین پہلو یہ ہے کہ مستقبل قریب میں قیادت میں ان کا کوئی متبادل یا قائم مقام بھی نظر نہیں آتا۔ ویراٹ کوہلی جارح مزاج کھلاڑی ضرور ہیں اور قیادت میں ان کا یہ انداز جھلکتا بھی ہے لیکن جس طرح وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں وہ کسی قائد کو زیب نہیں دیتا بلکہ اس سے ٹیم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

مہندر سنگھ دھونی نے 60 ٹیسٹ میں قیادت کے بعد بالآخر تنقید سے دلبرداشتہ ہوکر ٹیسٹ کرکٹ کو ہی خیرباد کہہ دیا (تصویر: Getty Images)

مہندر سنگھ دھونی نے 60 ٹیسٹ میں قیادت کے بعد بالآخر تنقید سے دلبرداشتہ ہوکر ٹیسٹ کرکٹ کو ہی خیرباد کہہ دیا (تصویر: Getty Images)

بلاشبہ کرکٹ میں جارح مزاجی اور حریف پر غالب رہنے کی تڑپ ہی جیت سے ہمکنار کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ کپتان کا نرم مزاج اور پرسکون ہونا بھی بہت ضروری ہے کیونکہ جذبات میں لیے گئے فیصلے بسا اوقات بہت نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ دھونی کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ کھیل کے بدلتے ماحول کے ساتھ بالکل یکساں مزاج کے ساتھ مقابلہ کرتے۔ کھیل کتنا ہی نازک مرحلے میں کیوں نہ ہو، دھونی اپنے اعصاب قابو میں رکھتے اور ان کی اسی لیاقت کی وجہ سے بھارت نے کئی کارہائے نمایاں انجام دیے۔ البتہ بیرون ملک ٹیسٹ کارکردگی میں دھونی کی منصوبہ بندی اکثر مواقع پر کام نہیں کرتی تھی اور ناقدین یہ کہہ کر اعتراض رہے کہ دھونی میچ بچانے کے لیے کھیلتے ہیں، جیتنے کے لیے نہیں۔ بہرحال، اب دھونی کے علیحدہ ہوجانے سے بھارت کی ٹیسٹ کرکٹ میں ایک بڑا خلا پیدا ہوچکا ہے جو ویراٹ کوہلی اتنی جلدی پر نہیں کرسکتے۔

دھونی کا اس قدر مایوس کن انداز میں ٹیسٹ کرکٹ سے الگ ہوجانا یقینی طور پر یہ سوال پیدا کرتا ہےکہ آیا دھونی نے یہ فیصلہ اپنی مرضی سے لیا ہے یا اس کے پس پردہ کوئی ہاتھ کارفرما ہے، یا کوئی ایسی حقیقت ہے جسے آشکار کرنے سے دھونی قاصر ہیں۔ یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ دھونی نے دورۂ آسٹریلیا سے قبل ریٹائرمنٹ کا ذہن نہیں بنایا تھا۔ ٹیسٹ کرکٹ میں جارحانہ انداز اختیار نہ کرنے پر ناقدین ان پر نشتر برسا رہے تھے اور ویراٹ کوہلی کو ان کے متبادل کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا لیکن دھونی دباؤ کا مقابلہ کرنے والے کھلاڑی ہیں اور ان کا مزاج قطعی جھکنے والا نہیں۔ پھر آخر کیا اسباب تھے کہ دھونی یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئے؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب صرف دھونی دے سکتے ہیں۔

بالکل یہی سوال اس وقت بھی پیدا ہوا تھا جب 2012ء کے اختتامی ایام میں عظیم بلے باز سچن تنڈولکر نے کچھ اسی انداز میں ایک روزہ کرکٹ کو الوداع کہا تھا۔ اس وقت یہ اطلاعات زیر گردش تھیں کہ پاکستان کے خلاف ہونے والی تاریخی ایک روزہ سیریز کے لیے سچن کا انتخاب ہی نہیں کیا گیا جس سے مایوس ہوکر انہوں نے بورڈ کو استعفیٰ پیش کردیا تھا۔ کیا کچھ اسی قسم کا مسئلہ دھونی کے ساتھ بھی پیش آیا ہے؟ کیا آسٹریلیا کے خلاف کھیلے جانے والے چوتھے و آخری ٹیسٹ کے لیے بھارتی کرکٹ بورڈ نے کوئی غیر معمولی تبدیلی کر ڈالی تھی؟ دھونی کے اس فیصلے کے پیچھے ان کی اپنی مرضی تھی یا مایوسی، یا کوئی ایسا ذہنی دباؤ جو ان کے لیے ناقابل برداشت ہوچکا ہو؟ دھونی جیسے عظیم کھلاڑی کا اس طرح طویل طرز کی کرکٹ چھوڑ دینا متقاضی ہے کہ ان تمام سوالوں کے جوابات ملیں۔

Facebook Comments