عالمی کپ کے لیے پاکستان کا ممکنہ 15 رکنی دستہ

پاکستان سمیت تمام ملکوں کے پاس عالمی کپ کے لیے حتمی ٹیموں کے اعلان کی خاطر اب صرف ایک دن موجود ہے یعنی کہ حتمی فیصلے تو ہو ہی چکے ہوں گے، ایک یا دو دن کی کارکردگی کی بنیاد پر کسی فیصلے میں تبدیلی کا امکان تو نہیں ہوگا، بس صرف اعلان ہونا باقی ہے۔

فواد عالم، عمر گل، شعیب ملک، یاسر شاہ اور اسد شفیق دستے میں شامل نہیں ہوں گے (تصویر: Getty Images)

فواد عالم، عمر گل، شعیب ملک، یاسر شاہ اور اسد شفیق دستے میں شامل نہیں ہوں گے (تصویر: Getty Images)

اپنی حالیہ بدترین ایک روزہ کارکردگی کے بعد پاکستان اس وقت سخت بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں حالات اس نہج پر پہنچ گئے تھے کہ کپتان مصباح الحق سیریز کے آخری ایک روزہ سے دستبردار ہوگئے اور ایک میچ کے لیے قیادت شاہد آفریدی کے سپرد کردی۔ وہ تو بھلا ہو کہ پاکستان سر توڑ کوشش کے باوجود وہ میچ نہ جیت سکا، ورنہ عالمی کپ سے پہلے قیادت کا سنگین بحران ایک مرتبہ پھر سر پر کھڑا ہوتا۔

بہرحال، عالمی کپ کے لیے چند کھلاڑی تو ناگزیر ہیں جیسا کہ کپتان مصباح الحق، آل راؤنڈر شاہد آفریدی اور تیز گیندباز محمد عرفان، لیکن چند دیگر کھلاڑیوں کی حتمی دستے میں موجودگی بھی یقینی ہے مثلاً اوپنر احمد شہزاد اور وکٹ کیپر بیٹسمین کا دیرینہ مسئلہ حل کرنے والے سرفراز احمد۔ اب باقی دس مقامات کے لیے ناموں کا اعلان ہونا باقی ہے جن میں چند کی شمولیت 'جوئے' کی طرح ہے، ہوسکتا ہے کامیاب ہوجائیں، اور یہ بھی خدشہ ہے کہ ناکام ہو کر ہمیشہ کے لیے کرکٹ چھوڑ دیں۔ ایسے ناموں میں یونس خان نمایاں ہیں۔ ایک روزہ دستے میں غیر مستقل مقام رکھنے کے باوجود یونس کو عالمی کپ کی صورت میں آخری موقع دیا جا رہا ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں انہوں نے ایک سنچری اننگز کھیل کر کسی حد تک اپنی اہلیت ثابت بھی کی ہے۔

پاکستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ محمد حفیظ کی صورت میں کھڑا ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل سے باؤلنگ ایکشن کی جانچ کی باضابطہ درخواست سے پہلے ہی وہ ناکام ثابت ہوئے ہیں اور اب ان کےعالمی کپ کھیلنے کی ایک ہی صورت ہے کہ انہیں صرف بلے باز کی حیثیت سے شامل کیا جائے اور اس کے امکانات خاصے روشن ہیں۔ ان کی حالیہ فارم اور اوپننگ پوزیشن پر احمد شہزاد کا ساتھ دینے کے لیے کسی تجربہ کار بلے باز کی ضرورت حفیظ کو عالمی کپ کے حتمی دستے میں شامل کرے گی البتہ تیسرے اوپنر کی جگہ حاصل کرنے کے لیے دو کھلاڑیوں میں زبردست رسہ کشی جاری ہے، ایک اظہر علی اور دوسرے سمیع اسلم۔ اظہر علی ٹیسٹ کا خاصا تجربہ رکھتے ہیں اور اننگز کو جمانے کی بھرپور صلاحیت بھی جبکہ نوجوان سمیع اسلم کی حالیہ فرسٹ کلاس فارم بھی انہیں عالمی کپ تک پہنچا سکتی ہے۔ یعنی ان دونوں میں سے کوئی ایک کھلاڑی عالمی کپ کھیلنے جا سکتا ہے۔ اظہر علی کو اپنی لیگ اسپن باؤلنگ اور بین الاقوامی کرکٹ کے تجربے کی بدولت فوقیت حاصل ہوگی۔

مڈل آرڈر میں مصباح الحق، یونس خان اور عمر اکمل اننگز سنبھالیں گے۔ اس وقت عمر اکمل کے باہر ہونے کی خبریں زیر گردش ہیں، لیکن اسد شفیق کی حالیہ کارکردگی ہرگز ایسی نہیں کہ انہیں عمر اکمل پر فوقیت دیتے ہوئے ورلڈ کپ کھلایا جائے۔ پھر عمر اکمل 2014ء میں پاکستان کے دوسرے کامیاب ترین بلے باز رہے ہیں اس لیے انہیں پیچھے چھوڑ دینا پاکستان کے لیے ممکن ہی نہیں۔ پھر وہ سرفرازاحمد کی جگہ وکٹ کیپنگ کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پاکستان وکٹوں کے پیچھے ان پر اعتماد کرسکتا ہے۔ 18 ایک روزہ مقابلوں میں 35 سے زیادہ کا شاندار اوسط رکھنے والے صہیب مقصود مکمل فٹ ہونے کی صورت میں عالمی کپ کھیلیں گے اور وہ پاکستان کے لیے بہت اہم کھلاڑی ثابت ہوسکتے ہیں۔

اگر آل راؤنڈرز کی جگہ دیکھی جائے تو صرف شاہد آفریدی یقینی ہیں جبکہ شعیب ملک کا وسیع تجربہ، پنٹاگولر کپ میں شاندار کارکردگی اور آسٹریلیا میں جاری بگ بیش لیگ میں شمولیت انہیں ایک مرتبہ پھر عالمی ٹورنامنٹ میں واپس لا سکتی ہے۔ البتہ آل راؤنڈر کے لیے شاہد آفریدی کا ساتھ دینے کے لیے حارث سہیل اور انور علی مناسب دکھائی دیتے ہیں۔ حارث 9 ون ڈے مقابلوں میں 40 کا شاندار بیٹنگ اوسط رکھتے ہیں اور ساتھ ہی 6 وکٹیں حاصل کرکے خود کو آل راؤنڈر ثابت بھی کر چکے ہیں۔ اس لیے ان کا باہر ہونا تقریباً ناممکنات میں سے ہے یعنی شعیب ملک حتمی دستے میں جگہ نہیں بنا پائیں گے۔

اب پاکستان کا اہم ترین مسئلہ یعنی باؤلنگ۔ محمد عرفان اور جنید خان کی موجودگی میں بائیں ہاتھ کے کسی تیسرے گیندباز کی شمولیت کے امکانات نہیں دکھائی دیتے یعنی کہ وہاب ریاض اور سہیل تنویر باہر ہوں گے۔عمر گل بھی اس وقت مکمل طور پر فٹ نہیں ہیں، اس لیے ان کی جگہ احسان عادل کی شمولیت کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔ صرف دو ٹیسٹ اور دو ہی ون ڈے مقابلوں کا معمولی تجربہ رکھنے والے احسان فرسٹ کلاس میں صرف 24 مقابلوں میں 110 اور لسٹ 'اے' میں 29 میچز میں 46 وکٹیں رکھتے ہیں۔ آل راؤنڈر انور علی بھی تیسرے تیز گیندباز کی حیثیت سے کھیلیں گے۔

عالمی کپ کے دوران اسپن گیندبازی میں شاہد آفریدی کا ساتھ دینے کے لیے نوجوان رضا حسن شامل ہوں گے، جو اس وقت بہترین فارم میں ہیں۔ پنٹاگولر کپ میں انہوں نے فیڈرل یونائیٹڈ جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف ہیٹ ٹرک کے ساتھ 5 وکٹوں حاصل کیں اور اپنی شرکت کو یقینی بنایا ہے۔

یاسر شاہ کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ عالمی کپ کھیلنے کے لیے جاسکتے ہیں لیکن سلیکٹرز سمجھتے ہیں کہ شاہد آفریدی کی موجودگی میں ان کی جگہ نہیں بنتی۔ ان کے ترکش میں کوئی ایسا ہتھیار نہیں ہے جو انہیں شاہد آفریدی سے بہتر اسپنر ثابت کرے اس لیے لیگ اسپن میں شاہد آفریدی ہی پر اعتماد کیا جائے گا۔

کراچی میں جاری پنٹاگولر کپ میں سلیکٹرز کی نظریں کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو جانچ چکی ہیں اور ایک دن بعد جس دستے کا انتخاب ہوگا، وہ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہوسکتا ہے:

احمد شہزاد، محمد حفیظ، اظہر علی، یونس خان، مصباح الحق (کپتان)، صہیب مقصود، عمر اکمل، حارث سہیل، سرفراز احمد(وکٹ کیپر) ، شاہد آفریدی، احسان عادل، جنید خان، رضا حسن، محمد عرفان اور انور علی۔

Facebook Comments