سہیل خان کی شمولیت: دیر آید، درست آید؟

کرکٹ گیند رکھنے والے ہر کھیل کی طرح درست وقت پر ٹھیک فیصلے کرنے کا کھیل ہے۔ فیصلہ کرنے میں چند ملی سیکنڈز کی بھی تاخیر گیند اور بلے کا درست ملاپ نہیں کرپائے گی، اور نتیجہ بلے باز کے لیے الٹا بھی نکل سکتا ہے۔ بالکل اسی طرح کھیل کے آغاز سے قبل کیے گئے فیصلے بھی اسی وقت کارگر ثابت ہوتے ہیں جب انہیں موقع محل پر کیا جائے۔ لیکن عالمی کپ 2015ء کے لیے پاکستان کے دستے میں سہیل خان کی شمولیت ایسا غیر متوقع فیصلہ ہے کہ جس کی امید خود اُن کو بھی نہیں ہوگی۔

سہیل خان بلاشبہ بہت باصلاحیت ہوں گے، اور اپنے انتخاب کو درست بھی ثابت کر سکتے ہیں، لیکن تین سال بعد عالمی کپ جیسے اہم ٹورنامنٹ کا اضافی دباؤ ڈالنا خود ان پر ظلم ہے (تصویر: AFP)

سہیل خان بلاشبہ بہت باصلاحیت ہوں گے، اور اپنے انتخاب کو درست بھی ثابت کر سکتے ہیں، لیکن تین سال بعد عالمی کپ جیسے اہم ٹورنامنٹ کا اضافی دباؤ ڈالنا خود ان پر ظلم ہے (تصویر: AFP)

درحقیقت عالمی کپ کے لیے تیاریوں کے آغاز کا درست ترین وقت دورۂ سری لنکا تھا۔ پاکستان کئی ماہ کے آرام کے بعد بین الاقوامی کرکٹ میں آمد کے ساتھ ہی ان تمام کھلاڑیوں کو آزماتا، ان کی صلاحیتوں کو جانچتا، پرکھتا اور تولتا کہ جنہیں عالمی کپ کے لیے تیار کرنا مقصود تھا۔ لیکن انتخاب ہوا اسی روایتی دستے کا، وہی شناسا چہرے سری لنکا میں کھیلے کہ جن کی موجودگی سے نہ مثبت نتائج سامنے آئے اور نہ ہی مستقبل کی تیاری ہوئی۔ شکست کے ساتھ ہی عالمی کپ کی تیاری کا پہلا موقع ضائع ہوگیا۔

پھر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف "ہوم سیریز" آئیں کہ جہاں پاکستان کے پاس آخری موقع تھا کہ وہ نوجوانوں کو آزمائے اور عالمی کپ کے لیے اپنا ذہن تیار کرے۔ لیکن ہر سیریز کے بعد فیصلے بدلنے کی عادت اور مزاج آخر کب تبدیل ہونے والا تھا۔ دورۂ سری لنکا میں یونس خان کو ڈیڑھ سال بعد ایک روزہ دستے میں طلب کیا گیا اور صرف ایک میچ کی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں آسٹریلیا کے خلاف سیریز سے باہر کرکے فواد عالم کو لایا گیا۔ سال بھر عمدہ کارکردگی دکھانے والے فواد آسٹریلیا کے خلاف ویسے ہی ناکام ہوئے، جیسے کہ ٹیم کے تمام دیگر اراکین، کہ جن کی وجہ سے پاکستان کو تین-صفر سے شکست کی ہزیمت اٹھانا پڑی لیکن قربانی کا بکرا فواد کو بنایا گیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز سے انہیں باہر کردیا گیا، بلکہ اب تو عالمی کپ بھی نہیں کھیلیں گے۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ کی تیاریوں کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے کپتان برینڈن میک کولم اور دونوں اہم ترین گیندبازوں ٹرینٹ بولٹ اور ٹم ساؤتھی کو "آرام" کرواکے ان کی جگہ قیادت نوجوان بلے باز کین ولیم سن کو سونپ دی اور اپنے "دوسرے درجے" کے تیز گیندبازوں ایڈم ملنے اور میٹ ہنری کو آزمانے کا فیصلہ کیا تاکہ عالمی کپ سے پہلے صورتحال اچھی طرح واضح ہوجائے۔ اس حیران کن فیصلے کے بعد بھی نیوزی لینڈ پاکستان کو اس کے "گھر" میں سیریز ہرانے میں کامیاب ہوگیا جبکہ پاکستان کرکٹ کے کرتا دھرتا تین مواقع ضائع کرنے کے بعد ہونقوں کی طرح کھڑے ہیں۔

سلیکشن کے 'الل ٹپ' فیصلوں کے بعد جب ان تینوں سیریز کے آزمائے گئے کھلاڑیوں کے حتمی امتحان، یعنی عالمی کپ، کا موقع آ رہا ہے تو ایک قرعہ فال ایسے کھلاڑی کے نام نکلا ہے جس نے تین سالوں سے بین الاقوامی کرکٹ کی شکل ہی نہیں دیکھی، حتیٰ کہ اس کا نام ان 30 کھلاڑیوں میں بھی شامل نہیں تھا کہ جن میں سے عالمی کپ کے لیے حتمی 15 رکنی دستے کا انتخاب کرنا تھا۔ 30 سالہ سہیل خان عالمی کپ 2015ء کے لیے اعلان کردہ دستے میں پاکستان کا 'سرپرائز' ہیں۔ بلاشبہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی وکٹوں پر پاکستان کو حقیقی تیز گیندبازوں کی سخت ضرورت ہوگی اور اگر ڈومیسٹک کرکٹ میں کارکردگی کو دیکھا جائے تو سہیل خان کو منتخب کرنا ہرگز غلط فیصلہ نہیں ہے لیکن کیا سری لنکا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی سیریز ان کو آزمانے کا درست موقع نہیں تھی؟ آخر عالمی کپ کو کیوں "تجربہ گاہ" بنایا جائے؟

عالمی کپ 2015ء کے لیے پاکستانی دستے میں کس کھلاڑی کی شمولیت حیران کن ہے؟


Loading ... Loading ...

اگر عالمی کپ کے لیے پاکستان کے تیز گیندبازوں کی فہرست دیکھیں تو واضح نظر آتا ہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران سہیل خان کو آزمانے کا موقع آئے گا کیونکہ تمام گیندباز، کم از کم اس وقت تو، 100 فیصد فٹ نہیں ہیں۔ محمد عرفان طویل قامت اور خاص جسمانی ساخت کی وجہ سے شاید مسلسل تمام مقابلے نہ کھیل پائیں، جنید خان اور وہاب ریاض بھی حال ہی میں صحت یاب ہوئے ہیں اور اب تک کسی بین الاقوامی مقابلے میں اپنی فٹنس ثابت نہیں کرسکے۔ اس صورت میں سہیل خان، اور احسان عادل بھی، لازماً ورلڈ کپ میں ایک دو مقابلے کھیلیں گے، اور پاکستان کو انہیں کھلانا بھی چاہیے۔ لیکن کیا یہ دونوں ناتجربہ کار گیندباز عالمی کپ کا دباؤ جھیل پائیں گے؟ کیا اسی رفتار سے گیند کرنے والے، اور ساتھ بلے بازی کی بھی شدھ بدھ بھی رکھنے والے، بلاول بھٹی زیادہ بہتر انتخاب نہ تھے؟

بہرحال، اب تو فیصلہ ہوچکا۔ ہماری نیک تمنائیں سہیل خان کے ساتھ ہیں اور امید ہے کہ وہ اپنے انتخاب کو درست ثابت بھی کریں گے۔ لیکن ذہن میں یہ سوال کھٹکتا رہے گا کہ عالمی کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں موقع دے کر ان کے ساتھ ظلم تو نہیں کیا گیا؟ کیونکہ وہاں ناکام ہونے کی صورت میں وہ ہمیشہ کے لیے ملک کی نمائندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

Facebook Comments