سڈنی ٹیسٹ، اسٹیون اسمتھ کی قائدانہ صلاحیتوں کا دوبارہ امتحان

سڈنی میں چار دنوں کے کھیل میں 1298 رنز بن چکے ہیں اور اب تک صرف 23 وکٹیں گری ہیں، اس کے باوجود مقابلہ نتیجہ خیز ثابت ہونے کے امکانات اب بھی موجود ہیں اور آخری روز زبردست معرکہ آرائی کی توقع ہے۔ مقابلے کو نتیجہ خیزی کی جانب بڑھانے میں اہم کردار چوتھے دن کے آخری سیشن نے ادا کیا جہاں آسٹریلیا نے صرف 34 اوورز میں 213 رنز بنا کر مقابلے کو دلچسپ مرحلے میں داخل کردیا ہے۔ اسے مجموعی طور پر 348 رنز کی برتری حاصل ہوچکی ہے اور ایک دن کا کھیل باقی ہے۔ لیکن آسٹریلیا اسی صورت میں یہ ٹیسٹ جیت سکتا ہے جب وہ ملبورن میں کی گئی غلطی کو نہ دہرائے۔

اسٹیون اسمتھ ملبورن میں تاخیر سے ڈکلیئریشن کے اعلان کی وجہ سے میچ نہ جیت سکے، اب اس غلطی کو نہ دہرانے کا وقت ہے (تصویر: Getty Images)

اسٹیون اسمتھ ملبورن میں تاخیر سے ڈکلیئریشن کے اعلان کی وجہ سے میچ نہ جیت سکے، اب اس غلطی کو نہ دہرانے کا وقت ہے (تصویر: Getty Images)

ملبورن میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ کے چار دن کے اختتام پر آسٹریلیا تقریباً اسی مقام پر موجود تھا۔ اس کی مجموعی برتری 326 رنز تھی لیکن آخری روز بجائے بھارت کو بلے بازی دینے کے اس نے پہلا سیشن کھیلنے کا فیصلہ کیا، جس میں صرف 57 رنز کا اضافہ کیا لیکن اس کے لیے 23 اوورز ضائع کیے۔ بھارت کو آخری 70 اوورز میں 384 رنز کا ہدف ملا، جو حاصل کرنا اس کے لیے ممکن تو نہیں تھا لیکن وہ 6 وکٹیں گنوانے کے باوجود مقابلہ برابر کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ کیوں؟ کیونکہ آسٹریلیا کے پاس مزید اوورز ہی نہیں تھے کہ وہ بھارت کی آخری چار وکٹیں ٹھکانے لگاتا۔

اب سڈنی میں اسٹیون اسمتھ کے 71 اور آخری لمحات میں جو برنس کی 39 گیندوں پر 66 رنز کی طوفانی اننگز نے آسٹریلیا کو ایک مرتبہ پھر اسی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ 348 رنز کی برتری حاصل کرنے کے بعد اب آسٹریلیا کو اننگز کے خاتمے کے اعلان میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ بھارت جیسی مضبوط بیٹنگ لائن اپ کو ڈھیر کرنے کے لیے اس کے باؤلرز کے پاس 80 سے زیادہ اوورز کا ہونا ضروری ہے۔ پہلی اننگز میں بھی آسٹریلیا کے باؤلرز 162 اوورز کی جدوجہد کے بعد بھارت کے آل آؤٹ کرسکے تھے، اس لیے اب غلطی دہرانے کی کوئی گنجائش نہیں۔

گو کہ چوتھے دن آسٹریلیا نے بہت جارحانہ کرکٹ کھیلی لیکن میچ کے فیصلہ کن موڑ پر اہم فیصلہ کرنے کی صلاحیت کا امتحان ہونا ابھی باقی ہے۔ ماضی میں رکی پونٹنگ اور مائیکل کلارک اپنے جراتمندانہ فیصلوں کی وجہ سے جانے جاتے تھے اور اب اسمتھ کو ملبورن میں دفاعی انداز کا داغ یہیں سڈنی میں مٹانا ہوگا، ورنہ سڈنی ٹیسٹ کا آخری دن اسٹیون اسمتھ کی قائدانہ صلاحیتوں کا بھی امتحان ہوگا کہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں یا نہیں کیونکہ ملبورن میں تو اندازہ ہوگیا کہ وہ رکی پونٹنگ اور مائیکل کلارک کے مقابلے میں زیادہ دفاعی کپتان ہیں۔

Facebook Comments