ذوالقرنین حیدر نے ریٹائرمنٹ واپس لے لی، پاکستان کی دوبارہ نمائندگی کے خواہاں

پاکستان کے متنازع وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ واپس لے لی ہے۔

ذوالقرنین حیدر

گزشتہ سال متحدہ عرب امارات میں جنوبی افریقہ کے خلاف ایک روزہ سیریز درمیان میں چھوڑ کر فرار ہو جانے والے ذوالقرنین حیدر برطانیہ میں سیاسی پناہ کی کوششوں کے بعد رواں ماہ وطن واپس پہنچے ہیں۔ انہوں نے برطانیہ میں کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔

ذوالقرنین حیدر نے اپنے اچانک فرار کی وجہ نامعلوم افراد کی جانب سے خراب کارکردگی دکھانے کے عوض پیسہ دینے کی پیشکش اور قبول نہ کرنے پر قتل کی دھمکیوں کو قرار دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستان واپس آ کر حریف وکٹ کیپر کامران اکمل کے سسر پر الزام لگایا تھا کہ مجھے دھمکیاں دینے کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے۔ تاہم بعد ازاں وہ اس بات سے مکر گئے اور کہا کہ انہوں نے کامران اکمل کے سسر کا نام نہیں لیا۔

ذوالقرنین حیدر نے حکومت پاکستان کی جانب سے یقین دہانی ملنے کے بعد سیاسی پناہ کی درخواست واپس لی اور پاکستان واپسی کا رخ کیا۔

ذوالقرنین حیدر نے بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کی خواہش کا اظہار برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اور ساتھ میں امید بھی ظاہر کی کہ وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل کر لیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آنا چاہتے ہیں اور پرامید ہیں کہ انہیں قومی کرکٹ ٹیم میں دوبارہ شامل کر لیا جائے گا۔

ذوالقرنین کے اچانک فرار کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کی تھی جس نے ذوالقرنین کو 'کمزور اعصاب کا مالک' قرار دیا۔

25 سالہ ذوالقرنین حیدر نے صرف ایک ٹیسٹ میچ کے علاوہ چار ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔

Facebook Comments