عالمی کپ سے پولارڈ اور براوو کا اخراج، ویسٹ انڈیز کرکٹ تقسیم

ڈھائی سال قبل جب ویسٹ انڈیز نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتا تھا تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اب کیریبیئن کرکٹ ایک نئے سفر کا آغاز کرے گی۔ ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپئن بننا کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا لیکن اس کے باوجود کارکردگی میں عدم تسلسل اور کھلاڑیوں و بورڈ کے اختلافات نے ویسٹ انڈیز کرکٹ کو زوال کی ایک اور راہ دکھا دی ہے۔ عالمی کپ سے پہلے ہی ڈیوین براوو اور کیرون پولارڈ جیسے دو اہم کھلاڑیوں سے محرومی نے عالمی کپ میں ویسٹ انڈیز کی موہوم سی امیدوں کا بھی خاتمہ کردیا ہے۔ اس کے باوجود ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ اپنے اس فیصلے کو حق بجانب قرار دے رہا ہے۔

پولارڈ اور براوو کے اخراج پر ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ مطمئن اور کرس گیل مایوس ہیں (تصویر: Getty Images)

پولارڈ اور براوو کے اخراج پر ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ مطمئن اور کرس گیل مایوس ہیں (تصویر: Getty Images)

بورڈ کا کہنا ہے کہ براوو اور پولارڈ کا عالمی کپ کے دستے سے اخراج بالکل درست بنیادوں پر ہوا ہے کیونکہ بھارت کے دورے کے خاتمے میں ان دونوں کا اہم کردار تھا۔

گزشتہ سال اکتوبر میں ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں نے بورڈ کے ساتھ تنخواہوں کے معاملے پر ہونے والے تنازع پر بھارت کا دورہ ادھورا چھوڑ دیا تھا۔ پانچ ایک روزہ، ایک ٹی ٹوئنٹی اور تین ٹیسٹ مقابلوں پر مشتمل سیریز صرف چار ون ڈے میچز کے بعد اپنے اختتام کو پہنچی اور ویسٹ انڈیز کرکٹ کی ساکھ کو زبردست نقصان دے گئی۔ اب ویسٹ انڈیز نے جاری دورۂ جنوبی افریقہ کے ایک روزہ مرحلے کے لیے نوجوان تیز باؤلر جیسن ہولڈر کو قیادت سونپی ہے اور وہی عالمی کپ میں بھی یہ ذمہ داری نبھائیں گے۔

دورۂ جنوبی افریقہ و عالمی کپ کے لیے دستے پر ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے صدر ڈیو کیمرون کہتے ہیں یہ دستہ مکمل طور پر اہلیت کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے اور تجربہ کار، نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑیوں کا بہترین امتزاج ہے۔ چار سال قبل عالمی کپ میں بھی ویسٹ انڈیز کی کارکردگی مایوس کن تھی اور اس وقت بھی ہم ایک روزہ عالمی درجہ بندی میں آٹھویں نمبر پر ہیں، اس لیے سلیکٹرز نے مستقبل کی تیاری کے لیے نوجوانوں کی شمولیت کو ضروری سمجھا ہے اور ان کے خیال میں یہ ٹیم بہت متوازن ہے۔

دوسری جانب ویسٹ انڈیز کے جارحانہ بلے باز کرس گیل نے براوو اور پولارڈ کو باہر کرنے کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف جاری ٹی ٹوئنٹی سیریز میں دو فیصلہ کن اننگز کے ذریعے ویسٹ انڈیز کو کامیابی دلانے والے گیل کا کہنا ہے کہ پولارڈ اور براوو کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور انہیں باہر کرنے کا فیصلہ مضحکہ خیز ہے۔

کرس گیل کا کہنا ہے کہ دونوں کھلاڑیوں کی موجودگی سے ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ لائن کو تو سخت نقصان پہنچے گا ہی لیکن ٹیم گیندبازی کے ساتھ ساتھ فیلڈ میں بھی جان مارنے والے کھلاڑیوں سے محروم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ویسٹ انڈیز کرکٹ کس سمت جارہی ہے، اس کا اندازہ نہیں ہو پارہا لیکن موجودہ صورتحال بہت افسوسناک ہے۔ عالمی کپ میں ہمارے دو بہترین کھلاڑی ہمارے ساتھ نہیں ہوں گے۔" انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز جیت کو پولارڈ اور براوو سے موسوم کیا۔

ویسٹ انڈیز کرکٹ کی اگلی منزل کیا ہوگی؟ اس کا اندازہ عالمی کپ میں کارکردگی سے ہوجائے گا۔ اگر خدشات کے برخلاف ٹیم بہتر کارکردگی دکھاتی ہے تو پھر ڈیوین براوو اور کیرون پولارڈ سمیت کئی کھلاڑیوں کا مستقبل تاریک ہوجائے گا لیکن نتائج حق میں نہ آنے پر شاید کہ معاملہ معافی تلافی پر ختم ہوجائے۔ بہرحال، اب مستقبل کا انحصار عالمی کپ کے نتائج پر ہے۔

Facebook Comments