بھارتی باؤلنگ پر تنقید کسی حد تک بجا ہے: انیل کمبلے

چار ٹیسٹ کی آٹھ میں سے صرف دو اننگز میں آسٹریلیا کو آل آؤٹ کرنے والے بھارت کے گیندبازوں پر اب بہت تنقید ہو رہی ہے کیونکہ بلے بازی کے شاندار مظاہرے کے باوجود بھارت ایک مرتبہ پھر بیرون ملک کسی ٹیسٹ سیریز کا ایک مقابلہ بھی نہ جیت سکا۔ یہی وجہ ہے کہ سابق کپتان انیل کمبلے کہتے ہیں کہ گیندبازوں پر تنقید کسی حد تک بجا ہے۔

کس گیندباز کو کھلانا ہے اور کس کو نہیں، یہ حکمت عملی پہلے سے طے شدہ نہیں ہونی چاہیے بلکہ حالات اور وکٹ کے مطابق اسے بدلنا چاہیے، سابق کپتان (تصویر: Getty Images)

کس گیندباز کو کھلانا ہے اور کس کو نہیں، یہ حکمت عملی پہلے سے طے شدہ نہیں ہونی چاہیے بلکہ حالات اور وکٹ کے مطابق اسے بدلنا چاہیے، سابق کپتان (تصویر: Getty Images)

معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق کمبلے کا کہنا ہے کہ موجودہ بھارتی باؤلنگ لائن معیاری ہے لیکن ٹیسٹ میں کس کو کھلانا چاہیے اور کس کو نہیں، یہ انتظامیہ کا کام ہے اور اس کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد ہی کسی گیندباز کو آزمانا چاہیے۔

انیل کمبلے کہتے ہیں کہ بھارت کی گیندبازی کا قریبی جائزہ لے کر اس ناکامی کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ آسٹریلیا میں ایک مرتبہ پھر ٹیسٹ سیریز میں شکست اور گیندبازوں کی 20 وکٹیں حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد دیکھنا ہوگا کہ کون ٹیسٹ میں ہم آہنگ ہو سکتا ہے اور کون نہیں۔

بھارت کی جانب سے ٹیسٹ اور ایک روزہ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے انیل کمبلے کا کہنا ہے کہ غیر ملکی دوروں میں باؤلنگ لائن کے حوالے سے پہلے سے طے شدہ حکمت عملی نے بھارت کو نقصان پہنچایا ہے۔ ٹیم وکٹیں اور کنڈیشنز دیکھنے سے پہلے ہی باؤلنگ لائن کی تیاری کا فیصلہ کرلیتی ہے لیکن اگر صورتحال ایسی ہے کہ دو اسپن اور دو تیز باؤلرز کے ذریعے حریف کی 20 وکٹیں مل سکتی ہیں تو انہی کو شامل کیا جانا چاہیے اور اگر تین اسپن اور ایک تیز باؤلر درکار ہوں تو انہیں منتخب ہونا چاہیے۔ ایڈیلیڈ ٹیسٹ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "آپ خود دیکھ لیں کہ وہاں کس نے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں؟ ایک اسپن اور ایک فاسٹ باؤلر نے۔ " بلے بازوں اور اسپن باؤلرز کے لیے مدد دینے والی اس وکٹ پر بھارت صرف ایک اسپنر کے ساتھ میدان میں اترا، وہ بھی اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے کرن شرما کے ساتھ لیکن آسٹریلیا نے آف اسپنر ناتھن لیون کی 12 وکٹوں کے ذریعے بازی پلٹ دی۔ انہوں نے کہا کہ دورۂ بھارت سے قبل آسٹریلیا کو مختلف کنڈیشنز میں ہی سہی لیکن دو نامعلوم پاکستانی اسپنرز کے ہاتھوں شکست ہوئی۔

"ٹیسٹ کرکٹ اصل میں دباؤ قائم کرنے اور اسے جھیلنے کا کھیل ہے۔ آپ جتنی دیر تک دباؤ برداشت کر سکتے ہیں، اتنے کامیاب ہوں گے۔ دس سال پہلے کی کرکٹ کے مقابلے میں بلے باز رنز بنانے کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتے ہیں۔ اگر گیندباز اپنی لائن اور لینتھ پر قابو رکھے تو وہ رنز کو روک سکتا ہے اور اس وقت یہی وکٹیں حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ہے کہ رنز کا بہاؤ روک دیں۔

ٹیسٹ سیریز میں دو-صفر سے شکست کے بعد اب بھارت اپنی پسندیدہ ایک روزہ کرکٹ کی جانب لوٹے گا اور اگلے ماہ عالمی کپ سے پہلے ایک سہ فریقی ٹورنامنٹ میں حصہ لے گا جس میں میزبان آسٹریلیا کے علاوہ انگلستان کی ٹیم بھی شامل ہوگی۔

Facebook Comments