سعید اجمل اب بھی عالمی کپ کھیل سکتے ہیں

پاکستان کے مایہ ناز، لیکن معطل، آف اسپنر سعید اجمل 24 جنوری کو اپنے باؤلنگ ایکشن کی باضابطہ جانچ کروائیں گے یعنی عالمی کپ سے 20 روز پہلے۔ یعنی قوی امکانات ہیں کہ عالمی کپ سے پہلے ہی سعید اجمل کے مستقبل کا فیصلہ ہوجائے گا کہ آیا وہ ایک مرتبہ پھر کرکٹ کھیلنے کے لیے آزاد ہوں گے یا ایک سال تک کی پابندی بھگتیں گے۔

اگر سعیدا جمل کی باضابطہ جانچ کے نتائج آ گئے تو پاکستان 7 فروری تک انہیں کسی بھی کھلاڑی کے متبادل کے طور پر عالمی کپ کے 15 رکنی دستے میں شامل کرسکتا ہے (تصویر: AP)

اگر سعیدا جمل کی باضابطہ جانچ کے نتائج آ گئے تو پاکستان 7 فروری تک انہیں کسی بھی کھلاڑی کے متبادل کے طور پر عالمی کپ کے 15 رکنی دستے میں شامل کرسکتا ہے (تصویر: AP)

لیکن اس جگہ ایک سوال اٹھتا ہے کہ تو یہ سوال اٹھنا بنتا ہے کہ اگر بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے سعید اجمل کے نئے باؤلنگ ایکشن کو شفاف قرار دے دیا تو کیا پاکستان سعید کو عالمی کپ میں کھلا پائے گا؟

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کا کہنا ہے کہ اگر سعید اجمل کا باؤلنگ ایکشن قانونی حدود کے اندر آ جائے تو وہ عالمی کپ سے پہلے پاکستانی دستے کا حصہ بن سکتے ہیں۔ لیکن یہ فیصلہ 7 فروری سے پہلے ہونا چاہیے۔

یعنی پاکستان کسی 15 رکنی دستے کے کسی رکن کے متبادل کے طور پر 7 فروری سے پہلے پہلے سعید اجمل کو طلب کرسکتا ہے بشرطیکہ وہ آئی سی سی کی کڑی جانچ میں پورے اتریں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق سعید اجمل کے ایکشن کی حتمی جانچ 24 جنوری کو بھارت کے شہر چنئی میں واقع سری رام چندر یونیورسٹی میں ہوگی۔ یہ وہی مرکز ہے جہاں سعید اجمل کو ساتھی گیندباز محمد حفیظ کے ہمراہ اپنے باؤلنگ ایکشن کی ابتدائی جانچ کروانی تھی لیکن اس جانچ کے ساتھ ساتھ عالمی کپ سے بھی دستبردار ہوگئے۔ البتہ گزشتہ ماہ برطانیہ میں ہونے والی جانچ میں سعید اجمل نے خاصے بہتر نتائج دیے تھے تاہم ان کی اہم ترین گیند "دوسرا" پھر بھی قانونی حدود سے تجاوز کرتی پائی گئی۔

ماضی کے عظیم آف اسپنر ثقلین مشتاق کی زیر نگرانی سخت محنت کے بعد اب سعید اجمل حتمی جانچ کے لیے تیار ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ حیران کن انداز میں واپس آتے ہیں یا ان کے بین الاقوامی کیریئر کا ہی خاتمہ ہوجائے گا۔ نظریں اب آئندہ جانچ پر ہیں۔

Article Tags

Facebook Comments