عالمی کپ کے 30 جادوئی لمحات: لارڈز میں "بگ برڈ" کی بلند پرواز

پہلے عالمی کپ کے کامیاب انعقاد کے چار سال بعد انگلستان کے میدان ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کی ٹیموں کے میزبان بنے۔ اس مرتبہ عالمی کپ پچھلی بار کی نسبت سے زیادہ واضح تھا۔ دفاعی چیمپئن ابتداء ہی سے فیورٹ تھا اور اس نے فائنل تک پہنچ کر ثابت بھی کیا۔ سیمی فائنل میں پاکستان کو عالمی کپ کے ایک اور مقابلے میں شکست کے بعد وہ حتمی مقابلے تک پہنچا جہاں اس کا سامنا میزبان انگلستان کے ساتھ تھا جس نے نیوزی لینڈ کے خلاف 9 رنز کی ایک شاندار جیت کے ذریعے پہلی بار عالمی کپ فائنل رسائی حاصل کی تھی۔

جوئیل گارنر نے ایک ہی اسپیل میں 4 رنز دے کر پانچ انگلش کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور ویسٹ انڈیز کو ایک اور عالمی کپ جتا دیا (تصویر: PA Photos)

جوئیل گارنر نے ایک ہی اسپیل میں 4 رنز دے کر پانچ انگلش کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور ویسٹ انڈیز کو ایک اور عالمی کپ جتا دیا (تصویر: PA Photos)

23 جون 1979ء کو لارڈز کا تاریخی میدان ایک مرتبہ پھر عالمی کپ فائنل کا میزبان بنا۔ انگلستان کی دعوت پر پہلے بلے بازی کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز صرف 38 رنز پر دونوں اوپنرز گورڈن گرینج اور ڈیسمنڈ ہینز سے محروم ہوگیا اور جب ایلون کالی چرن کے بعد مرد بحران و کپتان کلائیو لائیڈ بھی آؤٹ ہوئے تو اننگز تہرے ہندسے میں بھی نہیں پہنچی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ باب ولس کے بغیر بھی انگلستان ویسٹ انڈیز کی عظیم بیٹنگ لائن کو چت کردے گا۔

ویوین رچرڈز کو کرکٹ تاریخ کے عظیم ترین بلے بازوں میں شمار کیا جاتا ہے بلکہ ایک روزہ کرکٹ کا بے تاج بادشاہ کہا جاتا ہے اور یہ بات انہوں نے بارہا ثابت کی۔ عالمی کپ 1979ء کے فائنل میں 99 رنز پر چار وکٹیں گرنے کے بعد "ویو" نے کولس کنگ کے ساتھ 139 رنز کی وہ شراکت داری قائم کی جو آج بھی یادگار ترین رفاقتوں میں شمار کی جاتی ہے۔ خصوصاً کنگ کی 66گیندوں پر 86 رنز کی اننگز ایک شاہکار تھی۔ کنگ نے اپنی اس "شاہانہ اننگز" میں 3 شاندار چھکے اور 10 چوکے لگائے اور مجموعے کو 238 رنز تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اننگز مستحکم ہوئی تو کنگ سنچری تک پہنچنے سے پہلے ہی آؤٹ ہوگئے اور ایک مرتبہ پھر دوسرا کنارہ کمزور ہوگیا۔ ویوین رچرڈز ایسے بلے باز تھے جو بلاشبہ تن تنہا ہی کافی ہوتے تھے۔ کنگ کے بعد آنے والے بلے بازوں میں سے صرف ڈیرک مرے 5 رنز بنا سکے، باقی چاروں بلے باز صفر سے آگے نہ بڑھ سکے لیکن ویو نے اکیلے ہی مجموعے کو 286 رنز تک پہنچا دیا۔ 157 گیندوں پر 138 رنز کی اننگز میں آخری گیند پر لگایا گیا وہ یادگار چھکا بھی شامل ہے جو آج بھی اتنا ہی مشہور ہے جتنا کہ 2003ء کے عالمی کپ میں سچن تنڈولکر کا شعیب اختر کو رسید کیا گیا چھکا! ویو کی اننگز میں 3 چھکے اور 11 چوکے شامل تھے اور وہ 138 رنز بنانے کے بعد ناقابل شکست میدان سے واپس آئے۔

انگلستان کو باب ولس کی کمی بہت شدت کے ساتھ محسوس ہوئی۔ ان کے 12 اوورز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے تین جزوقتی گیندبازوں کو آزمایا گیا اور تینوں بری طرح ناکام ہوئے۔ جیفری بائیکاٹ، وین لارکنز اور گراہم گوچ نے 12 اووورز پھینکے اور 86 رنز کھائے جو بعد میں فیصلہ کن ثابت ہوئے۔

287 رنز کے تعاقب میں انگلستان کے بلے بازوں کو دنیا کی مضبوط ترین باؤلنگ لائن کا سامنا کرنا تھا۔ "ہیبت ناک چوکڑی" (Fearsome Foursome) یعنی مائیکل ہولڈنگ، اینڈی رابرٹس، کولن کرافٹ اور جوئیل گارنر کا سامنا کرتے ہوئے بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہوجاتا تھا، انگلستان تو پھر بڑے ہدف کے تعاقب میں اور عالمی کپ کے فائنل کے دباؤ تلے تھا۔

انگلستان نے ہدف تک رسائی کے لیے جو منصوبہ بندی تیار کی، بعد ازاں وہی شکست کا سب سے بڑا سبب بنی۔ انگلش بلے بازوں نے وکٹیں بچانے پر دھیان دیا اور اس پر عمل پیرا ہونے کے چکر میں مقابلے کی دوڑ سے ہی باہر ہوگیا۔ اوپنرز جیفری بائیکاٹ اور مائیک بریئرلی نے 129 رنز کی شراکت داری ضرور فراہم کی لیکن اتنے سے رنز بنانے کے لیے انہوں نے 39 اوورز کا کھیل ضائع کیا۔ یہ انگلستان کی ہدف کی جانب پیشقدمی کے لیے ناقابل تلافی دھچکا تھا۔

کپتان بریئرلی 130 گیندوں پر صرف 64 رنز بنا سکے جبکہ بائیکاٹ نے 105 گیندیں کھیلیں اور 57 رنز بنائے یعنی دونوں نے کل ملا کر 39 اوورز میں 121 رنز بنائے۔ دونوں کے مائیکل ہولڈنگ کے ہتھے چڑھنے سے پہلے ویسٹ انڈین کپتان کلائیو لائیڈ نے ان کے آسان کیچ بھی چھوڑے لیکن وہ اس موقع کا فائدہ بھی نہ اٹھا سکے۔ یہ شاید ایک روزہ کرکٹ کے ان نادر مواقع میں سے ہوگا کہ جب کیچ ڈراپ ہونا فیلڈنگ ٹیم کے لیے رحمت ثابت ہوا۔

انگلستان ڈیرک رینڈل اور گراہم گوچ کی مدد سے تیسری وکٹ پر 183 رنز تک پہنچ گیا۔ فی اوورز 8 رنز کے درکار اوسط کی موجودگی میں انگلستان کو برق رفتاری کی ضرورت تھی اور جب کلائیو نے دیکھا کہ اب انگلش بلے بازوں کے پاس سوائے تیزی سے رنز بنانے کے کوئی موقع نہیں تو انہوں نے طویل قامت جوئیل گارنر کو میدان میں اتارا۔ 6 فٹ 8 انچ قد رکھنے والے گارنر کی گیندیں بجلی کی طرح کوندیں اور انگلستان صرف 11 رنز کے اضافے سے اپنی آخری 8 وکٹیں گنوا کر عالمی کپ ہار گیا۔

گارنر نے ایک ہی اسپیل میں 4 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں، جو بلاشبہ عالمی کپ کی تاریخ کے بہترین باؤلنگ اسپیلز میں سے ایک ہے۔ گراہم گوچ اور ڈیوڈ گاور سمیت چار کھلاڑی گارنر کے ہاتھوں کلین بولڈ ہوئے جبکہ مجموعی طور پر اننگز میں کل پانچ انگلش بیٹسمین صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے۔

ویسٹ انڈیز 92 رنز سے جیت کر ایک بار پھر عالمی چیمپئن بنا اور ہزاروں تماشائیوں کی تالیوں کی گونج میں کلائیو لائیڈ نے ایک مرتبہ پھر عالمی کپ کی ٹرافی اٹھائی۔ گارنر کی شاندار باؤلنگ کے چند لمحات آپ ذیل کی وڈیو میں انگلستان کی اننگز کی جھلکیاں دیکھ سکتے ہیں جس میں گارنر کی "جادوئی" باؤلنگ بھی شامل ہے۔

Facebook Comments