عالمی کپ کے 30 جادوئی لمحات: زمبابوے کی آمد کا حقیقی اعلان

ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں جتنا شاندار آغاز زمبابوے نے لیا تھا، شاید ہی کسی اور ملک کو ایسی شروعات نصیب ہوئی ہو۔ آئی سی سی ٹرافی جیتنے کے بعد افریقی ملک کو عالمی کپ 1983ء میں جگہ ملی تو اسے دنیا کی تین بہت بڑی ٹیموں آسٹریلیا، بھارت اور ویسٹ انڈیز کے گروپ میں جگہ ملی، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ "رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی ہے۔"

زمبابوے نے اپنے پہلے ہی ایک روزہ مقابلے میں آسٹریلیا کو بری طرح شکست دی اور ایک روشن مستقبل کی نوید سنائی (تصویر: Getty Images)

زمبابوے نے اپنے پہلے ہی ایک روزہ مقابلے میں آسٹریلیا کو بری طرح شکست دی اور ایک روشن مستقبل کی نوید سنائی (تصویر: Getty Images)

لیکن اس "رضیہ" نے اپنے پہلے ہی مقابلے میں "غنڈوں" کی ناک میں دم کردیا۔ 9 جون 1983ء کو ٹرینٹ برج، ناٹنگھم کے مقام پر زمبابوے نے اپنی تاریخ کا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ آسٹریلیا کے خلاف کھیلا۔ ابتداء میں ڈرے اور سہمے ہوئے زمبابوے کے کھلاڑیوں نے آسٹریلیا کی دعوت پر بلے بازی تھامی تو ان کا سامنا جیف لاسن، ڈینس للی اور جیف تھامسن جیسے گیندبازوں سے تھا لیکن کچھ دیر میں اعتماد بحال ہونے کے بعد اوپنرز علی شاہ اور گرینٹ پیٹرسن نے 55 رنز کا حوصلہ افزاء آغاز فراہم کیا لیکن زمبابوے 94 رنز تک پہنچتے پہنچتے آدھی ٹیم سے محروم ہوگیا۔ اس میں وکٹ کیپر ڈیو ہاؤٹس کا متنازع انداز میں آؤٹ ہونا بھی شامل تھا۔ وکٹ کیپر روڈ مارش نے ان کا کیچ تھامتے ہی خوشی میں گیند کو فضا میں اچھال دیا اور جب گیند واپس آئی تو وہ اسے پکڑنے میں ناکام ہوگئے۔ امپائر نے ہاؤٹن کو ناٹ آؤٹ بھی قرار دیا لیکن آسٹریلیا کے کھلاڑی، ہمیشہ کی طرح، روتے دھوتے لیگ امپائر کے پاس گئے جنہوں نے انگلی فضا میں بلند کرکے ہاؤٹن کو واپسی کا پروانہ تھما دیا۔

اب تمام ذمہ داری کپتان ڈنکن فلیچر پر تھی۔ جی ہاں! وہی فلیچر جو اب مشہور زمانہ کوچ ہیں اور اس وقت عالمی چیمپئن بھارت کی کوچنگ کررہے ہیں۔ انہوں نے کیون کرن کے ساتھ مل کر 70 رنز کی شراکت داری قائم کی اور زمبابوے کی اننگز کو بڑا سہارا دیا۔ اس رفاقت کی خاص بات یہ تھی کہ دونوں بلے بازوں نے صرف 15 اوورز استعمال کیے۔ اس شراکت داری کا خاتمہ بھی متنازع انداز میں ہوا۔ گلی میں کھڑے ڈیوڈ ہکس نے کیون کرن کے ایک شاٹ کو پکڑ کر دعویٰ کیا کہ انہوں نے کیچ تھاما ہے جبکہ بلے باز کا کہنا تھا کہ گیند ان کے ہاتھوں میں پہنچنے سے پہلے زمین سے ٹکرائی ہے۔ امپائر فیلڈر سے متفق دکھائی دیے اور کرن کافی دیر کھڑے رہنے کے بعد بوجھل دل سے میدان سے واپس آ گئے۔ اب صرف 13 اوورز کا کھیل باقی تھا اور اسکور بورڈ پر صرف 164 رنز موجود تھے۔ یہاں فلیچر نے این بوچارٹ کے ساتھ مزید 75 رنز بنا کر زمبابوے کو 239 رنز کے اچھے مجموعے تک پہنچا دیا۔ فلیچر 84 گیندوں پر 69 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے جبکہ بوچارٹ نے 38 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 34 رنز بنائے۔

زمبابوے کو اس مجموعے تک پہنچانے میں اہم کردار آسٹریلیا کے فیلڈرز کا بھی تھا۔ انہوں نے کیچ پکڑنے کے پانچ مواقع ضائع کیے اور جو پکڑے ان میں سے بھی دو انتہائی متنازع تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ باؤلنگ کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا کی فیلڈنگ بھی بہت غیر معیاری تھی۔ گیندبازوں نے 31 فاضل رنز دیے اور فیلڈرز نے اتنے مواقع گنوائے تو وہیں سے اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ آسٹریلیا کا دن نہیں ہے۔

بہرحال، آسٹریلیا نے ہدف کا تعاقب تو شروع کیا لیکن بہت ہی سست رفتاری کے ساتھ۔ گراہم ووڈ اور کیپلر ویسلز نے 61 رنز کی ابتدائی شروعات دی۔ رنز کا بہاؤ بہت ہی سست تھا اور آنے والے بلے باز بھی دھیمے انداز میں اسکور کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہے۔ اس کی وجہ زمبابوے کے باؤلرز کی نپی تلی باؤلنگ اور بہت ہی عمدہ فیلڈنگ تھی۔ اسکور کارڈ دیکھتے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ آسٹریلیا کے بلے بازوں کو رنز بنانے میں کتنی دشواری کا سامنا تھا۔ ووڈ 60 گیندوں پر 31، کم ہیوز صفر، ڈیوڈ ہکس 48 گیندوں پر 20، گراہم یالپ 17 گیندوں پر 2 اور ایلن بارڈر 33 گیندوں پر 17 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے تو ویسلز کی ہمت بھی ٹوٹ گئی۔ان کی 130 گیندوں پر 76 رنز کی اننگز تمام ہوئی اور آسٹریلیا 138 رنز پر اپنی آدھی ٹیم سے محروم ہوگیا اور 176 رنز تک پہنچتے پہنچتے 7 وکٹیں گرچکی تھیں۔

اب آسٹریلیا کی امیدوں کا مرکز و محور روڈ مارش تھے اور انہوں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ تمام بلے بازوں کی ناقص کارکردگی کا ازالہ کریں لیکن آخری اوور میں ایک چھکا لگانے کے باوجود وہ آسٹریلیا کو مقابلہ نہ جتوا سکے جو 7 وکٹوں پر 226 رںز ہی بنا سکا اور یوں 13 رنز سے شکست کھا گیا۔ مارش 42 گیندوں پر 50 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔ ڈنکن فلیچر نے 69 رنز اور 4 وکٹوں کی آل راؤنڈ کارکردگی کی بدولت میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔

یوں زمبابوے نے بین الاقوامی کرکٹ میں اپنے پہلے ہی قدم پر ایک "قوی و شہ زور" ٹیم کو شکست دے کر نئی تاریخ رقم کی اور نوید سنائی کہ زمبابوے کا مستقبل روشن ہے۔ آنے والی دو دہائیوں تک زمبابوے نے کئی شاندار کارکردگیاں دکھائیں یہاں تک کہ ملکی کرکٹ سیاست کی نذر ہوگئی اور اب امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔

ویسے عالمی کپ 1983ء میں ہی زمبابوے ایک اور اپ سیٹ کرنے والا تھا جب اس نے بھارت کے خلاف مقابلے میں 17 رنز پر پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کردیا تھا لیکن کپل دیو تن تنہا مقابلے کو زمبابوے کی گرفت سے نکال لے گئے۔ ان کی 175 رنز کی اننگز آج بھی عالمی کپ تاریخ کی بہترین باریوں میں شمار ہوتی ہے جس کی وجہ سے زمبابوے کو 31 رنز سے شکست ہوئی۔ باوجود اس کے آسٹریلیا کے خلاف زمبابوے کی جیت آج بھی عالمی کپ کی تاریخ کے "جادوئی لمحات" میں شمار ہوتی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اسی روز انگلستان اور نیوزی لینڈ کے مقابلے کی وجہ سے زمبابوے-آسٹریلیا میچ کو نشر نہیں کیا گیا تھا اس لیے ہم ان یادگار لمحات سے لطف اندوز نہیں ہوسکتے۔

Facebook Comments