ڈی آر ایس کی مخالفت جاری رکھیں گے، بھارت ضد پر قائم

امپائرز کے فیصلوں پر نظر ثانی کے نظام کی مہربانی سے عالمی کپ جیتنے والا بھارت ایک مرتبہ پھر ڈی آر ایس نظام کا مخالف بن کر کھڑا ہو گیا ہے۔

گزشتہ روز بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی کرکٹ کمیٹی کے اجلاس میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ ڈی آر ایس کو تمام بین الاقوامی مقابلوں کے لیے لازمی قرار دیا جائے تاہم اس اعلان کے محض ایک روز بعد بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے اپنے سابقہ موقف پر قائم رہنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں اس نظام کے نفاذ کی مخالفت کرے گا۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری این سری نواسن نے کہا ہے کہ ایگزیکٹو بورڈ کے رکن کی حیثیت سے ہم مذکورہ اجلاس میں بی سی سی آئی کے موقف کو پیش کریں گے جو ابتداء ہی سے بالکل واضح ہے کہ وہ امپائرز کے فیصلوں پر نظرثانی کے نظام کا مخالف ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی محض ایک ذیلی کمیٹی ہے اور صرف سفارشات ہی مرتب کر سکتی ہے، ان سفارشات کی منظوری ایگزیکٹو بورڈ کا کام ہے۔ اور بھارت اجلاس میں اس کی بھرپور مخالفت کرے گا کیونکہ موجودہ صورت میں یو ڈی آر ایس اس کے لیے ہر گز قابل قبول نہیں ہے۔

گو کہ بھارت کو عالمی کپ 2011ء میں کئی مواقع پر اسی نظام نے بچایا، خصوصاً پاکستان کے خلاف سیمی فائنل میں سچن ٹنڈولکر کو ایل بی ڈبلیو پر ملنے والی زندگی ڈی آر ایس ہی کی مرہون منت تھی اور بعد ازاں اسی فیصلے کی بدولت بھارت فائنل تک پہنچا اور عالمی چمپیئن بنا۔ لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ اب بھی اسی پرانی ضد پر اڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اسے سچن کا ایل بی ڈبلیو تو یاد نہیں لیکن انگلستان کے خلاف گروپ میچ میں این بیل کے حق میں دیا گیا فیصلہ بخوبی یاد ہے۔ جب میچ کے بعد بھارت کے کپتان سمیت پوری انتظامیہ نے ڈی آر ایس نظام کوغلط ثابت کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی تھی۔

بھارت آئی سی سی کا ایک اہم رکن ہے اور اس کی رائے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے، اس لیے ایگزیکٹو کمیٹی میں اس نظام کی مخالفت ڈی آر ایس کے لیے اچھا شگون ثابت نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ اِس وقت امپائرز کے فیصلوں پر نظر ثانی کے استعمال یا عدم استعمال کا فیصلہ مکمل طور پر میچ کے میزبان ملک پر منحصر ہے۔

Facebook Comments